مضامین

ترکی میں تلاطم

انیس باقر
کئی مرتبہ اپنے کالم میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ دنیا یک قطبی طاقت نہیں رہی ہے، جیساکہ سویت یونین کے خاتمے پر اور خصوصاً 9/11 کے بعد ہوگئی تھی۔ روس چین کے بڑھتے ہوئے تعلقات جو 60 کی دہائی میں نقطہ عروج پر تھے رفتہ رفتہ ختم ہوئے۔ گزشتہ دنوں (DPRK) ڈیموکریٹک ریپبلک پیپلز آف کوریا جس کو مغربی اصطلاح میں شمالی کوریا کہتے ہیں اس نے امریکا کو میز پر لاکھڑا کیا کم ال سنگ کے پوتے نے جو نیوکلیئر تجربات کیے اور جنوبی کوریا جہاں کثیر امریکی افواج موجود ہیں ان کو دہشت میں مبتلا کردیا،امریکانے افغانستان، عراق پھر تیونس، لیبا اور مصر میں اپنی کامیاب پالیسی کے ذریعے انقلاب برپا کردیا، مگر لیبیا میں نشانہ خطا ہوگیا اور اب لیبیا ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جہاں حقیقی معنوں میں کوئی حکومت نہیں ہے۔
مختلف سیاسی اور حربی گروہ برسر اقتدار ہیں اسی لیے امریکی سفراء بن غازی میں ہلاک کیے گئے مگر اس کے باوجود یہ امریکی پالیسی جاری رہی کہ اپنی پسند کی جمہوری حکومت لائی جائے جو اس کی کاسہ لیسی کرتی رہے اسی وجہ سے یمن میں تبدیلی نہ آسکی ، جب تحریک نقطہ عروج پر تھی تو وہاں کے حکمران سعودی عرب میں پناہ لے کر پھر واپس آگئے، بحرین میں سلطان کے خلاف تحریک میں امریکا نے مخالفت جاری رکھی کیونکہ وہاں کی تبدیلی پورے مشرق وسطیٰ کی سیاست کا رخ تبدیل کردیتی اور اسرائیل کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتی تھی۔ اس کے بعد شام جو اسرائیل کے لیے عسکری مزاحمت تھی اور بعض عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں کی مدد سے اسی شام کو جو اسرائیل کے خلاف حرب کی پہلی کڑی ہے نابود کیا جائے، شام میں بشارالاسد کی حکومت ہے وہاں پر عرب جنگجو فورسز تر کی کی سرحد کے قریب سے داخل ہوگئیں اور طیب اردگان کی اسلامی جھکاؤ والی حکومت کے ذریعے کمک پہنچائی گئی یوں اچانک فرقہ پرستی اور عسکریت کا زہر شام کے اندر پھیل گیا کہ اکثریتی سنی العقیدہ ملک میں اقلیتی علوی حکومت کیوں ہے؟
جس کا جھکاؤ شیعیت کی طرف ہے تقریباً سال ڈیڑھ سال میں نظریاتی تصادم پیدا ہونا شروع ہوگیا اور وہ نظریاتی گروہ جو افغان جنگ میں سویت افواج کے خلاف جمع ہوئے تھے مسلح ہوکر شام میں جمع ہوگئے اس کے لیے ترکی کی حمایت لی گئی اور ترقی میں پناہ گزینوں کے کیمپ بھی قائم ہوئے اور نسلی فقہی تعصب کی فضا پیدا ہوئی جس کی وجہ سے اب تک تقریباً دونوں جانب کی ہلاکتوں کی تعداد 80 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے لاکھوں اپنے ہی ملک اور شام میں بے دخل اور زخمی ہوئے جب یہ جنگ طول کھینچ گئی ، مغربی ممالک لیبیا والی پالیسی اختیار کرنے کو تھے کہ اپنے فوجی فضائی مدد سے دیں تو روس اور چین نے مغرب کی یہ پالیسی ناکام بنادی اور اقوام متحدہ میں سینہ سپر ہوگئے روس اور چین نے محض اس پر ہی تکیہ نہیں کیا بلکہ شام کو اسلحے کی سپلائی جاری رکھی اور گزشتہ ماہ روس نے جدید ترین میزائل شام پہنچا دیے تاکہ فضائی حملوں کو ناکام بنادیا جائے اس طرح باغیوں پر ضرب کاری لگائی جائے نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا بھر کے جنگجو جو اس علاقے کو غیر مستحکم اور اسرائیل نواز حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔
اس میں ان کو مشکلات درپیش آرہی ہیں بلکہ ابھی چند ہفتے ہوئے کہ اسرائیل کے خلاف سینہ سپر حزب اللہ کے قائد نصراللہ نے اس جنگ میں شام کی حکومت کی بھرپور عملی حمایت کا اعلان کردیا جس کی وجہ سے لڑائی کا پانسہ پلٹ گیا اس جنگ کی عجیب ستم ظریفی ہے کہ مقصدیت سے ہٹ کر اس جنگ نے شیعہ سنی جنگ کی شکل کا رخ لے لیا ہے کیونکہ مغربی ذرایع ابلاغ نے اس کو شیعہ سنی جنگ سے تعبیر کیا ہے اور بقول ان کے سنی العقیدہ اسرائیل کے حامی ہیں اور شیعہ اسرائیل کے خلاف کیونکہ سعودی عرب اسرائیل کا خاتمہ نہیں چاہتا اور احمدی نژاد تو اس قدر مخالف ہیں کہ وہ اسرائیل کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دیتے وہ اس نوعیت کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ سیاسی افکار کے تصادم کو فقہہ کے تصادم کی شکل دینا چاہتے ہیں اور اس پروپیگنڈے نے پورے عالم اسلام کو نظری طور پر تقسیم کرنے میں مدد دی ہے ورنہ ہمارے ملک میں مسالک کی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ جو کبھی نہ تھی وہ ہورہی ہیں شیعہ اور سنی عالم اسلام کی دو آنکھیں ہیں عرب دنیا اور پاک و ہند میں بے شمار گھرانے ازدواجی رشتوں سے جڑے ہوئے ہیں جن کو الگ کرنا آسان نہیں ہے بلکہ ہمارے ملک میں ہزاروں رشتے ایسے ہیں جن کے نام کے آخر میں زیدی، رضوی، جعفری لکھا ہے مگر وہ اہل سنت ہیں کیونکہ وہ ایک ایسے خاندانی بندھن میں ہیں جن کا نام ان کے عقائد کا اظہار نہیں کرتا بلکہ ان کے حسب و نسب کا آئینہ دار ہے۔
حال ہی میں فیڈرل بی ایریا کراچی کے رہائشی ماہر تعلیم شہید اصغر رضوی بھی اسی ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ہر ماہ محرم میں حلیم کی دعوت خانوادہ رسول سے محبت اور عام لوگوں سے پیار ان کا شیوہ تھا مگر کسی تنگ نظر کی گولی ان کو شہید کرگئی جو ہمارے سرمایہ تھے اور سنی العقیدہ تھے۔ جہالت کی گولی اندھی ہوتی ہے وہ کسی کو بھی لگ سکتی ہے بے رحم اور کینہ پرور ہوتی ہے اللہ ہی ایسے لوگوں کی اصلاح کرسکتا ہے۔ الغرض عالم اسلام میں اس سفاکی کے اثرات میں اضافہ ہوا ہے جہاں حکومتیں چاق و چوبند ہیں اپنی حکومتی سرگرمیوں کو اخلاص سے چلاتی ہیں اور غیرملکی زر پر زندہ نہیں ہیں وہاں امن رہتا ہے مگر افسوس کہ ترکی جہاں 1968 اور 70 میں ہلکی پھلکی بائیں بازو کی تحریکیں دیکھی جاسکتی تھیں کبھی کوئی بڑی تحریک نہیں دیکھی گئی ترکی نے فوجی عمل دخل سے بھی گزشتہ 10 برسوں میں آزادی حاصل کرلی ہے اور اب طیب اردگان کی حکومت آزادی سے فیصلے کر رہی تھی مگر وہاں بھی کرپشن کرنے والے گروہ سرگرم ہوگئے ہیں۔
اس نے حکومت کی گرفت ملک پر کمزور کردی ہے۔ پھر بھی ترکی کو دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہی کھڑا کیا جائے گا جہاں مجموعی طور پر کوئی ایسی وجہ نہیں کہ اب تک ملک کے 60 سے زائد بڑے شہروں میں اچانک اتنے بڑے مظاہرے شروع ہوگئے ہوں۔ ابتداء میں تو ان کو پارک سے درختوں کو کٹوانے کا الزام تھا جو وہاں کی این جی اوز ماحولیات پر کام کرتی تھیں مگر اچانک لاکھوں آدمیوں کا 31مئی کو انقرہ استنبول کی سڑکوں پر آنا غور طلب ضرور ہے اور اس کا تجزیہ بھی ضروری ہے کہ آخر وہ کیا عوامل ہیں جنہوں نے پورے ملک کو منظم مظاہروں کی گرفت میں لے لیا اور حکومت انگشت بدنداں ہے، پھر اس کے علاوہ چند دنوں میں 65 سے زائد شہروں میں منظم بائیں بازو کے مظاہروں نے طیب اردگان جو 3 مرتبہ ترکی کے وزیر اعظم منتخب ہوئے ہیں ان کے لیے شدید پریشانی کا باعث تھا، کیونکہ سرخ جھنڈوں کو اٹھائے ہوئے لوگوں نے جس قسم کے نعرے لگائے وہ غور طلب تھے۔
انھوں نے یہ کہا کہ یہ تقسیم اسکوائر نہیں بلکہ یہ سویت یونین کا ریڈ اسکوائر ہے اور انقلاب کی ابتداء ہے ایک نعرہ جو عام تھا وہ ’’کاندھے سے کاندھا ملاکر بڑھو انقلاب کے لیے۔‘‘ اس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ترکی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے انتشار پر ہے اور وہ لوگ امریکی مداخلت کے خلاف ہیں۔ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی داخلہ پالیسی کا آئینہ دار ہوتی ہے اور ترکی کے لوگ اس خطے میں امن کے خواہاں ہیں وہ اس راستے سے ہٹنا چاہتے ہیں جس راستے پر پاکستان کی خارجہ پالیسی گامزن ہے جس نے پورے ملک کو تشدد میں دھکیل دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی عندیہ ملتا ہے کہ روس اور چین اب دنیا کو یونی پولر نہیں رہنے دینا چاہتے اور بائیں بازو کے خیالات دنیا میں پھر ایک بار سر اٹھا رہے ہیں۔ مظاہرین کے مسلسل چار روز سے جاری مظاہروں پر ترکی کے وزیر اعظم نے کہا کہ میں ڈکٹیٹر نہیں، میں عوام کا نمایندہ ہوں، میرے مخالفین شدت پسند انتہا پسند ہیں جب کہ مخالفین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم رجعت پسند اور اسلامی انتہاپسند ہیں۔
نظریات کی یہ نئی جنگ شامی حکومت کے لیے ایک نظریاتی حماقت ہے اس طرح ترکی شام کی جنگ میں کلیدی کردار ادا کرنے سے دور رہے گا اور اردگان حکومت کو خارجہ امور پر غور کرنا ہوگا اور امریکا کو مشرق وسطیٰ میں مزید انقلابات کے خواب دیکھنا آسان نہ ہوگا۔ ترکی کے مظاہروں نے یہ بھی ثابت کردیا کہ سیکولر اور سوشلسٹ قوتیں ترکی میں رفتہ رفتہ اپنا مقام بنانے میں نمایاں اور مضبوط مقام بنانے میں کامیاب ہوتی جارہی ہیں۔ جس کے اثرات قریبی ممالک پر ضرور پڑیں گے کیونکہ ترکی امریکا کا قدیم اتحادی ہے جلسہ گاہ اور مظاہروں کی کیفیت ایسی ہے جیسے یہ کاروان جنون ہو اور مقصدیت کی جانب بڑھ رہا ہے دیکھیں قطرہ گہر کب بنے گا یا تحلیل ہوجائے گاکیونکہ حکومت کا رویہ سخت ہے۔ ترکی میں ہزاروں مرد وزن قید ہوئے سڑکوں پر دھمال جاری ہے ممکن ہے تبدیلی رونما ہو۔
عروس مشرق کے آنچلوں میں وہ عشوہ تو مچل رہا ہے
کہ حسن معیار محوشانہ نئے تقاضوں میں ڈھل رہا ہے