مضامین

تشدد کے حامی لوگ ملک کا کوئی حصہ الگ نہیں کر سکتے:جیٹلی

علیحدگی اورتشدد کا راستہ ترک کرنے والے کسی بھی شخص کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرخزانہ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر ارون جیٹلی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کی تشکیل نواب ممکن نہیں اور پاکستان کو ہمیشہ کے لئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے۔انہوں نے جموں وکشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تشدد کے حامی کچھ لوگ ایک ارب 25کروڑ آبادی والے ملک کا کوئی حصہ الگ نہیں کر سکتے۔جیٹلی نے یہ بات دہرائی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست مرکز تعلقات کے حوالے سے آئینی اور قانونی پہلووں پر بحث کیلئے تیار ہے۔جیٹلی گذشتہ روز شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس (ایس کے آ ئی سی سی)میں بھاجپا کے زیر اہتمام ایک مباحثے بعنوان ’ویژن کشمیر۔امن ،ترقی اور خوشحالی ‘میں شامل کشمیر کے ایک سیول سو سائٹی سے وابستہ افراد اور دانشوروں کے ایک گروپ کے روبرو اظہار خیال کررہے تھے۔ اپنے خطاب میں مرکزی وزیر نے ہندوپاک تعلقات ،جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال اور دیگر کئی اہم موضوعات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میںواضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ لگنے والی بھارت کی سرحدوں کو کسی بھی صورت میں تبدیل نہیںکیا جاسکتا۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا’’پاکستان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدوں کی تشکیل نو ممکن نہیں ہے، وہ زمانہ گیا جب ایسا کیا جاسکتا تھا، اب سرحدیں ایسی ہی رہیں گی ‘‘۔انہوں نے سخت الفاظ میں کہا’’جو لوگ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ تشدد کے نتیجہ میں 1.2بلین سے زائد لوگوں کے ملک کا کوئی بھی حصہ الگ کیا جاسکتا ہے ، وہ بری طرح سے غلطی فہمی میں مبتلا ہیں‘‘۔ ارون جیٹلی نے بتایا ’’پاکستان سمیت ہر کسی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جموں وکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت اس بنیادی حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتی‘‘۔جیٹلی نے مزید بتایا’’ہمارا پڑوسی کوئی بھی طریقہ اختیار کرے ، وہ جموں کشمیر کی ایک اِنچ بھی واپس نہیں لے سکتا‘‘۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر کہیں پر کوئی مسئلہ درپیش ہے تو اْن پر بات کی جاسکتی ہے۔اس حوالے سے انہوں نے بتایا’’جی ہاں!مسائل ہیں اور ہم ان کو حل کرنے کے لئے بات چیت کی خاطر تیار ہے‘‘۔مرکزی وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ مرکز ایسے کسی بھی شخص سے بات کرنے کیلئے تیار ہے جو تشدد کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ ہو۔مرکزی وزیر خزانہ نے بتایا’’یہ بات صاف ہونی چاہئے کہ واپس آنے کے خواہشمند گمراہ لوگ جو علیحدگی اور تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہتے ہیں، ہم ان کا خیر مقدم کرتے ہیں، جو کوئی بھی اس مقصد سے ہم سے بات کرنا چاہتا ہے، ہم اس کے ساتھ کھلے دل سے بات کریں گے، ہمارا مقصد جموں کشمیر میں مستقل قیام امن اور ترقی ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم ہر کسی کے ساتھ کھلے ذہن سے بات چیت کیلئے تیار ہیںتاکہ ریاست میں مستقل امن کی بحالی ممکن ہو جو تعمیر و ترقی کیلئے از حد ضروری ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا’’جن لوگوں نے بندوق کا راستہ اختیار کیا ہے، انہیں یہ بات مان لینی چاہئے کہ بندوق کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے بھارت کی صلاحیتوں میں گزشتہ برسوں کے دوران مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ دنیا اب اس بات کو نہیں مانتی کہ بندوق کے استعمال سے کوئی نتیجہ یا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے‘‘۔انہوں نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ دہشت گردی کو سرکاری پالیسی کے بطور استعمال کرنے کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا اور نہ ہی یہ پالیسی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔وزیرموصوف نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے اْس بیان کو دہرایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پڑوسیوں کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن ان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔جیٹلی کا کہنا تھا’’واجپائی نے لاہور تک بس میں سفر کرکے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور اس کا اظہار لاہور میں اپنی تقریر کے دوران بھی کیا،تاریخ کو تبدیل تو کیا جاسکتا ہے لیکن جغرافیہ کو نہیں،ہمیں امید تھی کہ دوسری طرف سے بھی اسی جذبے کا اظہار کیا جائے گا‘‘۔چھتر گام میں پیش آئے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ انہوں نے وزیر دفاع کا چارج ایک ایسے وقت میں سنبھالا ، جب چھترگام میں 2نوجوان فوج کی فائرنگ میںمارے گئے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا’’وزیراعظم نریندر مودی نے مجھے فوری طور پر حقائق کا پتہ لگانے کے لئے کہا ، میں نے سچ کا پتہ لگایا اور میں آ پ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ میںملک کا ایسا پہلا وزیر دفاع بنا جس نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا اور ٹویٹر کے ذریعے غلطی پر معافی مانگی‘‘۔اس ضمن میں ارون جیٹلی نے مزید بتایا’’ایک ماہ سے بھی کم عرصہ میں واقعے میںملوث لوگوں کی نشاندہی کی گئی اور انہیںسزا دی گئی ‘‘۔مرکزی وزیرخزانہ نے بتایاکہ حکومت ہند ریاست میں قیام امن اور تعمیر وترقی کے لئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم چاہتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں مستقل امن ہو اور ریاست کی ترقی کی اونچائیوں کا چھو لے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی میں تعمیر وترقی کی بھر پور گنجائش ہے کیونکہ قدرت نے اس خطے کو بھرپور طاقت سے نواز اہے اور اسی وجہ سے اس جگہ کو زمین جنت کا نام دیا گیا ہے۔ارون جیٹلی کا کہنا تھاکہ مرکزی حکومت ریاست کے قدرتی وسائل کو بروئے لاکر ریاستی عوام کی فلاح وبہبود کے اقدامات اٹھانے چاہتی ہے۔ اس حوالہ سے ان کا کہنا تھا’’اس قدرتی طاقت کو سیاحت اور مذہبی سیاحت کے لئے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ مقامی دستکارپوری دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتے ہیںاور صلاحیتوں کے لئے جانے جاتے ہیں۔ریاست مرکز تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے یہ بات واضح کی کہ اس حوالے سے بھاجپا حلقوں میں جاری بحث ریاست کے لئے مرکزی معاونت میں کسی بھی طور رکاوٹ نہیںبنے گی۔ ان کا کہنا تھاکہ اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی جموں وکشمیر کے مرکز کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے قانونی اور آئینی پہلووں پر تبادلہ خیال کررہی ہے ، اس طرح کے مباحثے کا کوئی بھی نتیجہ جموں وکشمیر کو مرکز کی حمایت اور مالی معاونت پر اثر انداز نہیںہوگا۔دفعہ370کے تناظر میں بات کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اس معاملے پر کھلی بحث چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر بحث و مباحثے کے دوران اس بات پر ضرور غور کرنا ہوگا کہ کہیں آئین ہند کا دفعہ370ریاست کو مرکز سے ملنے والی مالی امداد میں کوئی رکائوٹ تو نہیں بن رہا ہے جبکہ ارون جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ دفعہ370پر بحث و مباحثے کے دوران اس بات پر بھی غور و خوض کرنا پڑے گا کہ اس دفعہ کے تحت ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن کا فائدہ ریاستی عوام کو حاصل ہے یا کہ اس پوزیشن کی آڑ میں یہاں کے سیاسی لیڈر اور جماعتیں اپنافائدہ اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے انتخابات میں بھاری تعداد میں شرکت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا’’میں نے خبروں میں سنا کہ کل الیکشن کے دوسرے مرحلے میں72فیصدووٹنگ ہوئی جو کہ اطمینان بخش ہے، لوگوں نے جمہوری عمل کے تئیں اعتماد کا اظہار کیا ہے اور اس سے انہیں اپنے لئے بہتر حکومت کا انتخاب کرنے کا موقعہ فراہم ہوگا‘‘۔انہوں نے سیلاب زدگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معقول معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔