سرورق مضمون

تشکیل سرکار۔۔۔مادھو ،محبوبہ میٹنگ. میٹنگ مثبت رہی/نرمل سنگھ .دال میں کچھ کالا ہے /عمرعبداللہ

تشکیل سرکار۔۔۔مادھو ،محبوبہ میٹنگ.  میٹنگ مثبت رہی/نرمل سنگھ  .دال میں کچھ کالا ہے /عمرعبداللہ
ڈیسک رپورٹ
مفتی محمدسعید کے رسم چہلم کے بعد لگتا ہے پی ڈی پی سنبھل رہی ہے۔ محبوبہ مفتی نے رسم چہلم کے بعد اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع کیں اور پارٹی کو مضبوط بنانے کے لئے فکر مندنظر آرہی ہیں۔ سب سے پہلے انہوں نے پارٹی کے اسمبلی ممبراں کے ساتھ ایک نشست منعقد کی۔ اس کے بعد انہوں نے تمام ضلعی اور زونل صدور کو جموں بلاکر ان کے ساتھ صلاح مشورہ کیا۔ اب پچھلے دنوں انہوں نے بی جے پی جنرل سیکریٹری کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی۔ اس سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ریاست میں جلد ہی سیاسی سرکار تشکیل دی جائے گی اور محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گی ۔
بی جے پی کے جنرل سیکریٹری سوموار کو دہلی سے سیدھے یہاں پہنچ گئے اور محبوبہ سے ملنے ان کی رہائش گاہ تشریف لے گئے۔ دہلی سے روانہ ہونے سے پہلے انہو ں نے وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ بند کمرے میں میٹنگ کی۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے انہیں محبوبہ مفتی کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں ان کے لئے دی جانے والی مراعات کا حتمی فیصلہ لیا۔ محبوبہ مفتی نے کچھ روز پہلے مرکز سے بجلی پروجیکٹوں کی واپسی اور کئی علاقوں میں افسپا ہٹانے کی مانگ کی تھی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ یہ مانگیں پوری نہ کرنی کی صورت میں حکومت میں شامل نہیں ہوجائے گی۔ انہوں نے بہ ظاہر کڑا رخ اختیار کیا اور بی جے پی سے ناطہ توڑنے کا اشارہ دیا۔اس کے بعد سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی چہ مے گوئیاں کی جانے لگیں۔ کئی حلقوں کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد ختم ہورہاہے ۔ ادھر جب گورنر راج نافذ کیاگیا تو اس سے اس بات کو تقویت ملی کہ حکومت بننے کے کم امکانات ہیں۔ اس وجہ سے بی جے پی حلقوں میں سخت گھبراہٹ دیکھی گئی۔ پی ڈی پی صدر نے حکومت بنانے میں کوئی دلچسپی نہ دکھائی۔ انہوں نے کسی طرح کی جلدی اور بے تابی کا مظاہرہ نہ کیا۔ اس کے بجائے این سی حلقے پریشان نظر آنے لگے ۔ این سی ایک طرف اس بات پر زور دے رہی تھی کہ حکومت بنانے کے بجائے نئے انتخابات کرائے جائیں۔ لیکن اندر ہی اندر کچھ اور ہی پک رہاتھا ۔ این سی صدر عمر عبداللہ دباؤ ڈالنے لگے کہ سرکار جلد از جلد بننی چاہئے۔ نیشنل کانفرنس سر پرست ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مستی میں آکر اعلان کیا کہ ان کی پارٹی بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کے لئے تیار ہے ۔ پھر اگلے ہی روز ان کے بیان کی تردید کی گئی اور کہا گیا کہ این سی کسی بھی صورت میں بی جے کے ساتھ حکومت نہیں بنائے گی۔ تاہم کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ این سی اس بات پر راضی ہوگئی تھی کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت بنائے۔ لیکن کانگریس میں کئی لیڈروں نے عمر عبداللہ کو اس سے دور رہنے کا مشورہ دیا ۔اب این سی صدر نے حکومت بنانے کی تازہ کوششوں پر نیا بیان دیا ہے ۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پی ڈی پی جس طرح سے مذاکرات میں اتار چڑھاؤ دکھارہی ہے وہ عجیب ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان مذاکرات سے لگتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ اس کے بعد این سی لیڈر خاموش ہوگئے ۔ بی جے پی کے لئے کشمیر حکومت میں شامل رہنا بہت ضروری ہے ۔ دہلی اور بہار سے بوریا بسترہ باندھنے کے بعد اب اس کی آخری امید کشمیر ہے ۔ اس کو دیکھ کر کہا جاتا ہے کہ مرکز نے پی ڈی پی صدر کے کئی مطالبات ماننے پررضا مندی دکھائی ہے ۔ مادھو محبوبہ مذاکرات میں کہا جاتا ہے کہ دو پاور ہاؤس کشمیر سرکار کو واپس کرنے اور افسپا ہٹانے پر غور کرنے کی بات مان لی گئی ہے ۔ اسی طرح سیلاب متاثرین کو امداد بہم پہنچانے کا مطالبہ بھی تسلیم کیا گیا ہے ۔ یہ مطالبات مان لئے گئے تو یہ پی ڈی پی کی واضح جیت قرار دی جاسکتی ہے ۔

Back to Conversion Tool