اداریہ

تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری
یہ معمار قوم کے ساتھ بھونڈا مذاق تو نہیں ؟

سال2021ء لگا تار تیسرا سال ہے جب جموں و کشمیر بالخصوص وادی میں سکول بند ہیں اور طلبا ء تعلیم کے نور سے محروم ہیں ۔سال 2019ء میں دفعہ 370اور35Aکی منسوخی سے قبل مر کزی حکو مت نے یہاں سکول بند کرانے کا حکمنا مہ صادر کر دیا اور پھر اس بر س یہ سکول مقفل ہی رہے۔سال2020ء کے اوائل مارچ مہینے کے اوائل میں جوں ہی بچوں نے سکول جا نے کا سلسلہ شروع کر دیا تھا تو کو رونا وائر س نے پو رے عالم میں ہاہا کا ر مچائی اور حکو مت کو اس وائرس کے پھیلائو اور پھر بچوں کو اس مہلک وائرس سے بچانے کے لئے لا ک ڈائون کانفاز عمل میں لایا اور سکول ایک مر تبہ پھر مقفل ہو گئے ۔اس دوران اگر چہ آن لا ئین کلا سز کے ذریعہ سے بچوں کو پڑ ھا نے کا سلسلہ جا ری رکھنے کی کو شش کی گئی تا ہم ہر کس و ناکس اس با ت سے واقف ہے کہ آن لا ئین کلاسز سے بچوں کو کو ئی بھی فا ئدہ نہیں ہوا اور نا ہی یہ طریقۂ کا ر کشمیر جیسے خطے میں کا ر گر ثابت ہو سکتا ہے کیو نکہ یہاں کو ئی پتہ نہیں کہ کسی علا قہ میں حالات کب بگڑ جا ئیں اور انٹر نیٹ غیر معینہ عر صہ کے لئے کب بند ہو ۔ایسے میں آن لا ئین کلاسز محض ایک مذاق بن کر رہ گئے اور یو ں ہما رے بچوں کا ایک اور تعلیمی سال تباہ و بر باد ہو گیا ۔اب جبکہ رواں برس کے ما رچ مہینہ میں سکولوں ، کالجوں اور یو نیورسٹیو ں میں در س و تدریس کاسلسلہ ایک مر تبہ پھر شروع ہو گیا مگر اس دوران کو رونا وائرس نے ایک مر تبہ پھر اپنے پھیلا ئو کا سلسلہ شروع کر دیا اور حکو مت کو ایک مر تبہ پھر سکولوں ،کا لجوں اور یو نیورسٹیوں میں ایک مر تبہ پھر در س و تدریس کا عمل ملتو ی کر نا پڑا اور ہما رے بچے ایک مر تبہ پھر کتابوں سے دور ہو گئے ۔حکو مت نے اگر چہ اب کی با ر بھی آن لا ئین کلا سز کے ذریعہ بچوں کو تعلیم کے عمل کے ساتھ جو ڑے رکھنے کے احکا مات صادر کر دئے مگر یہ سلسلہ متعدد وجوہا ت کی بنا پر اب کی بار بھی کو ئی نتیجہ حاصل کر نے میں ناکام رہے گا۔کیونکہ اگر کسی ایک والد کے تین یا چار بچے مختلف سکولوں یا کا لجوں میں زیر تعلیم ہیں تو انہیں کس طرح سے اتنے الیکٹرانک گیجٹس لاکر دے گا جن کے ذریعہ سے وہ اپنے بچوں کو تعلیم کے نور سے منور کر سکتا ہے ۔اچھمبے والی ایک اور با ت یہ ہے کہ سر کا ر نے سکولوں اور کا لجوں کے عملے کو کا لجوں میں حاضر رہنے کے احکامات صادر کر دئے ہیں ۔یہ با ت سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ حکو مت کورونا وائرس کے پھیلا ئو کو روکنے کے لئے لوگوں کو گھروں کے اندر بیٹھنے کی صلا ح دے رہی ہے کا لجوں اور سکولوں کا عملہ کیا کر نے کی غرض سے اپنی تعینا تیوں کی جگہ پر جا ئے گی ۔اگر حکو مت نے ایک جگہ پر کئی لوگوں کے جمع ہو نے کو ممنو ع قرار دیا ہے تو پو چھا جا سکتا ہے کہ کیا کا لجوں اور سکولوں میں در جنوں اساتذہ اور دیگر ملازمین کو جمع کر کے کو رونا وائرس نہیں پھیلے گا ۔اب اگر حکومت کا لج یا سکول آکر اساتذہ سے آن لائین کلا سز کرانا چاہتی ہے تو کیا سکول یا کا لج پہنچنے کے دوران ان کا بیشتر وقت ضائع نہیں ہو گا اور کیا وہ واقعتا اپنے منصبی فرائض مو ثر طور انجا م دے پائیں گے ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ حکو مت کی زمام سنبھا لے ہو ئے بیو روکریٹ ان اساتذہ و دیگر قسم کے ملازمین سے بغض و حسد رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں خواہ مخواہ کی مشقت سے گزارا جا ئے ۔یہ کچھ ایسے سولات ہیں جو ہمارے ارباب ِ اقتدار کو فرصت کے لمحات میں اپنے ضمیر سے پوچھنے چاہئیں تاکہ ان کے اند صحیح فیصلہ سازی کا جزبہ پیدا ہو سکے ۔