اداریہ

تعلیمی شعبے میں سدھار کیسے؟

آج کل تعلیم و تربیت حاصل کرنا بہت مشکل بن رہا ہے۔ کورونا کے چلتے آئے روز کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور آتی ہے،جس سے تعلیم حاصل کرنے والے بچے اور بچیوں کو بے حد نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سرکار بھی یہ واضح کرنے میں ناکام ہے کہ آیا زیر تعلیم بچوں کو اپنے اپنے سکولوں کو جانے کی اجازت دی جائے یا نہیں۔
حالانکہ تعلیمی شعبے میںسدھارکی باتیںبڑے پیمانے پر ہورہی ہیںاور متعدد منصوبے مرتب بھی کیے جارہے ہیں۔ مگر افسوس عملی طور پر سب ٹھائیں ٹھائیں فش نظر آرہا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ’تعلیم کا مقصد انسان کو بتانا نہیں، بلکہ انسان کو بنانا ہے‘اِس قول میں کئی راز پوشیدہ ہیں، جنھیں آج ہم جاننے سے قاصر ہیں۔ ہمارے آباو اجداد تعلیم کے مقصد کو بخوبی سمجھتے تھے اور اِسی وجہ سے قدرت نے اُنہیں وہ عروج عطا فرمایا، جو آج بھی ہمارے لیے فخر و مسرت کا باعث ہے۔ اسلاف نے تعلیم کو ہمیشہ تربیت سے جوڑے رکھا اور اِس رشتے کی مضبوطی نے اُنھیں اندرونی اور بیرونی طور پراستحکام عطا کیا ،لیکن اِس کلیدی رشتے کو آج ہم نے مجروح کرنے میں کوئی کسرنہیں اُٹھا رکھی ہے۔
جب ہم انسانی نشو و نما کے اساسی پہلوئوں کی بات کرتے ہیں تو اکثر ہمارا میلان مادی اور ظاہری ترقی کی جانب ہوتا ہے‘جبکہ اُس کی روحانی اور باطنی تربیت یکسر نظر انداز کر دی جاتی ہے ، جس کے انتہائی منفی نتائج ہم اپنے معاشرے میں روزانہ دیکھتے ہیں اور اُن پر ہمارادل کڑھتا رہتاہے۔ عصرِحاضر میںتعلیم کا بلند پایہ مفہوم ہماری تنگ نظری اور جمود ی سوچ کے سبب کلیتاً مسخ ہو چکا ہے۔ تعلیم پہلے دنیاوی اور دینوی علوم کے حصول کا نام تھااور اِن کے درمیان میں کسی تفریق کی گنجائش نہیں تھی۔ اس ضمن میںتاریخِ اسلام ثبوت کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے کہ مسلم حکمرانوںنے ہر خطے میں درس گاہیں تعمیر کروائیں، جہاں ہر طرح کے علوم بغیر کسی تفریق اور فوقیت کے پڑھائے جاتے تھے۔ علمِ نجوم، علمِ ہیئت، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ، کیمیا، تاریخ، حدیث، فقہ، قرآن، تفسیر، وغیرہ سب علوم کی مشترکہ تعلیم دی جاتی تھی۔ دنیاوی اور دینوی علوم کے اِس امتزاج نے طلبہ کو اخلاقی اورمادی دونوں لحاظ سے پختہ بنا دیا تھااوراُس دور کی مجموعی حالت اسی لیے ہماری موجودہ حالت سے لاکھ درجے بہتر تھی۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج بچوں کو تعلیم بذریعے سمارٹ فون دی جاتی ہے۔ جس سے بچوں میں منفی اثرات پڑتے ہیں اور یہ بچے اپنے ساتذہ کے ساتھ اُس طرح سے نہیں جڑتے ہیں جس سے ماضی میں جڑجاتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ اساتذہ مجموعی طور پر جمود کے شکار ہیں۔ اس بات میں کوئی بھی شک نہیں کہ ماضی میںاساتذہ اخلاق کا بہترین نمونہ ہوتے تھے جن سے طلبہ گہرا اثر لیتے تھے، سمارٹ فونوں کے ذریعے سے بچوں کی تربیت یعنی پڑھانے سے ایک طرح سے اساتذہ اخلاقی قدروں کی خود پاسداری نہیں کرتے، جس سے طلبہ پر منفی اثر پڑتا ہے۔ حالانکہ یہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کتابوں سے زیادہ استاد سے ً علم حاصل کیا جاتا تھا‘ جبکہ سمارٹ فونوں کے استعمال اور موبائیل فونوں کے ذریعے سے بچوں کی تربیت کرنے سے آج یہ استاد محض ایک علامتی کردار بن کے رہ گیا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اساتذہ اپنی خوشی سے اور دولت کی خواہش کے بغیر طلبہ کو اچھی تعلیم و تربیت دیتے تھے اورنوجوانوںکی تعلیم و تربیت کا احساس اُن میں ہر لمحہ ایک ایسا جذبہ بیدار کیے رکھتا تھا، جس کا دیا کبھی نہیں بجھتا تھا ۔ مگر آج کے اس دور میں تعلیم و تربیت محض پیسے وصول کرنے کے لئے دیا جاتا ہے اور آئے روز اس تعلیم کے معاوضے کو اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ کبھی ٹیوشن فیس کو بڑھایا جاتا ہے اور کبھی ٹرانسپورٹ چارج کو ۱۹ فیصد کے حساب سے بڑھایا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے سکول انتظامیہ کا سوچ بہت تیز ہوتا ہے۔ ماضی میں تعلیمی درس گاہیں محض ایک ٹیکسال کے بجائے اُس گلستان کا درجہ رکھتی تھیں ،جہاں نونہال کلیوں کی دیکھ بھال ایک مقدس فریضے کے طور پر کی جاتی تھی‘ لیکن بد قسمتی سے آج علم پیشہ ورانہ اساتذہ کے ہتھے چڑھ گیا ہے جو تعلیم کو محض ایک کاروبارسمجھتے اور اُسے اپنی مادی خواہشات پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
بحیثیت مجموعی ہمارا معاشرہ بھی اب دھیرے دھیرے استاد کی قدر کھو چکا ہے اور علم کے داعی کی جو تذلیل و تحقیر تعلیمی اداروں میں ہوتی ہے،وہ ناقابلِ بیان ہے۔ہماری زندگی سے اعلیٰ مقاصد کا نظریہ ختم ہوتاجا رہا ہے اور صرف دولت کی ریل پیل ہماری نظروں کو بھاتی ہے۔ ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کے بارے ہی کچھ پتہ ہے، نہ ہم چاہتے ہیں کہ آنے والے لوگ ہمارے کارناموں کے حوالے سے ہمیں یاد رکھیں۔
بڑے دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ سرکار تعلیمی نصاب کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہی اور ہمارا مستقبل بری طرح متاثر ہو رہا ہے،اس میں کوئی شک نہیں کہ بچے اپنے وطن کے روشن اور مستقبل کے امین ہوتے ہیں۔ اچھی تعلیم و تربیت اور پرورش اور نگہداشت کے ذریعے ہی ان کی بہترین اخلاقی، ذہنی، روحانی اور جسمانی نشوونما کی ضمانت دی جاسکتی ہےاور یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ والدین، اساتذہ، دوست، احباب اور معاشرہ تشکیل دینے والے ذمہ داران کو اپنی اپنی جگہ اپنا کردار بحسن و خوبی ادا کرنا لازمی ہے۔