بلاگ

تعلیم کے اصول مصنف شیخ ولی محمد

شیخ ولی محمد کا نام ادبی حلقوں میں اب جانا پہچانا نام ہے ۔ آپ پچھلے کئی سالوں سے لگاتار تالیف و تصنیف کے کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے جو کچھ بھی تحریر کیا اس پر بڑی محنت کی ۔ ان کا ذوق وشوق دیدنی ہے ۔ ایک ایسے زمانے میں جبکہ ہر کسی کی کوشش مالی منفعت سے جڑی ہے شیخ ولی محمد نے خود کو تحریر و تصنیف سے منسلک کیا ہے ۔ موجودہ دور کے تجارتی نقطہ نظر سے یہ گھاٹے کا سودا ہے ۔ تاہم سماجی خدمت کا جو اصول مصنف اپنائے ہوئے ہے اس کی روشنی میں یہ اعلیٰ پائے کا مشن ہے جس کو آنے والی نسلیں یقینی طور یاد رکھیں گی ۔ مصنف نے اس کتاب کے ذریعے خفتہ ذہنوں کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے اور تعلیم سے متعلق ایک اہم نقطہ نظر کو سامنے لایا ہے ۔ بہت سے حلقوں کو ان کے خیالات سے اتفاق نہیں ہوسکتا تاہم مصنف نے اپنے خیالات کو مبسوط طریقے سے پیش کیا ہے ۔ کسی تعصب کے بغیر دیکھا جائے تو ان کی اس کاوش کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
دور حاضر میں تعلیم کو کسی بھی سماج کے لئے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ حاصل ہے ۔ وہی قومیں آگے بڑھ سکتی اور زندہ رہ سکتی ہیں جو تعلیم کے میدان میں اپنا لوہا منوانے میں کامیاب ہوجائیں ۔ ایسی صورتحال کے اندر تعلیم کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس دوران تعلیم کے حوالے سے ایک مخصوص نظریہ وجود میں آیا اور تعلیم کو اخلاقی اور روحانی ضرورتوں سے منسلک کرنا ایک فرسودہ خیال سمجھا جانے لگا ۔ آج کے دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے ماورا کسی بھی قسم کی دوسری تعلیم وقت کا ضیاں سمجھا جاتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنسی علوم طاقت کا منبع بن گئے ہیں۔ تاریخ ، فلسفے ، دین اور روحانیت مادی دنیا کے لئے ایک بے قیمت شے خیال کی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے تعلیم ایک کاروبار اور درس وتدریس ایک وسیع تجارت کا روپ اختیار کرچکا ہے ۔ ایک ایسے مرحلے پر جبکہ اونچے طبقے کے لئے الگ سے اسکول اور تعلیمی مراکز پائے جاتے ہیں متوسط طبقے نے اس کی تقلید کو اپنے لئے لازمی سمجھا ہے ۔ اس طرح کے ماحول میں تعلیم کے نام پر جو استحصال کیا جارہاہے ماہرین تعلیم اس پر حیران و پریشان ہیں ۔ مصنف نے تفصیل سے اس صورتحال کا جائزہ پیش کیا ہے ۔ وہ یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ سامراجی نظام نے تعلیم کو ایک خاص سانچے میں ڈال کر سارے لوگوں کو اس کا مقلد بنایا ہے ۔ مصنف کے خیال میں یہ ایک کھوکھلا اور ناپائیدار نظریہ ہے جو انسان کو بڑی بڑی ڈگریاں تو دیتا ہے ۔ لیکن اس کو سیدھے راستے پر لانے میں ناکام رہا ہے ۔ ان کی نظر میں اس طرح کا نظام تعلیم انسانیت کی کوئی خدمت کرنے میں ناکام رہاہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ایسا نظریہ تعلیم کھوکھلا ہونے کے ساتھ ساتھ انسان دشمن بھی ہے ۔ شیخ ولی محمد نے ایک مضبوط اور آدم ساز نظریہ تعلیم پیش کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ دنیا میں یہی واحد نظریہ تعلیم ہے جو تعلیم کے اصل مقصد کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے ۔ اسلام کے اس نظریہ تعلیم کے کوائف پیش کرتے ہوئے شیخ صاحب نے اس کے خد وخیال پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ مصنف نے مغربی نظریہ تعلیم کے علاوہ وہاں کے نظام تعلیم کو انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے تعلیم کے کئی بنیادی مقاصد پیش کئے ہیں ۔ ابتدائی ابواب میں تعلیم کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ایمان راسخ پیدا کرنا تعلیم کا پہلا اصول قرار دیا ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصنف کے خیال میں تعلیم کی اصل روح کیا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے طریقہ تعلیم کے حوالے سے جدید طریقوں کو کارآمد قرار دیا ہے ۔ خاص طور سے کھیل کھیل میں تعلیم اور کھیل کھلونوں سے تعلیم کو تقویت ملنے کا خیال ظاہر کیا ہے ۔ تاہم بچوں کو مخصوص کہانیوں سے ان کی تعلیم وتربیت کرنا نظر انداز نہیں کیا ہے ۔ مادری زبان کے ساتھ ساتھ انگریزی اور دوسری زبانوں کی قدر کرنا وقت کی ضرورت قرار دیا ہے ۔ مصنف کے نزدیک تعلیم کے دو حصے نصاب اور غیر نصابی سرگرمیاںباہم منسلک ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس دوران انہوں نے دہلی سرکار کی طرف سے وضع کردہ تازہ نئی تعلیمی پالیسی کا ذکر کیا ہے ۔ یہ ذکر اگرچہ سرسری انداز میں کیا گیا ہے ۔ اندازہ ہے کہ کتاب کے آخری مرحلے پر انہوں نے اس نئی تعلیمی پالیسی کو زیر بحث لانے کا من بنایا ۔ اس مرحلے پر نئی تعلیمی پالیسی کے خد وخال ابھی واضح نہیں تھے ۔ اب سرکار نے اس پالیسی کو پوری تفصیل سے عوام کے سامنے رکھا ہے ۔ کابینہ نے اس کے لاگو کئے جانے کو منظوری بھی دی ہے ۔ اندازہ ہے کہ آگے جاکر اس حوالے سے کافی بحث و مباحثہ ہوگا ۔ مصنف نے اس تعلیمی پالیسی کو زیربحث لاکر ماہرین تعلیم کو اس پر اپنی آرا پیش کرنے پر اکسایا ہے ۔ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ تعلیم سے جڑے افراد اس پر کون سا رویہ اختیار کریں گے ۔ تاہم مصنف نے اپنے طور ذمہ داری نبھانے کی کوشش کی ۔ اب یہ دوسرے لوگوں کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ اس حوالے سے کون سا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ مصنف نے ایک اہم موضوع پر کتاب ترتیب دیتے ہوئے تعلیم کو کسی سیاسی اور جغرافیائی نظام سے جوڑنے کے بجائے اخلاقی اور قومی ورثے کے ساتھ منسلک کیا ہے ۔ کتاب کے انتساب سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف تعلیم اور نظام تعلیم کے لئے کس طرح کے اصول وضابط کے خواہش مند ہیں ۔ علامہ اقبال نے شیخ مکتب کو ایک عمارت گر قرار دیتے ہوئے روح انسانی کو اس کی صنعت قرار دیا ۔ کتاب کے مصنف نے اسی خیال کو بنیاد بناکر تعلیم کے بنیادی اصول ترتیب دئے ہیں ۔ یہ اس بات کا احساس ہے کہ نئی نسل کو اس صنعت سے کسی طور الگ اور دور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک مشکل کام ہے جس کو تن آسانی کے موجودہ دور میں انجام دینا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ تاہم کوشش کی جائے تو مشکل نہیں ۔ یہ کام واقعی ہوگا کہ نہیں مصنف اس سوال کا نفی میں جواب دینے پر تیار نہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ ذرا نم ہوتو زمین ذرخیز ہے ۔ مایوسی کا ان کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ آپ کے عزائم مضبوط ہیں اور جذبہ تاحال بحال ہے ۔ جب تک ایسے قلمکار موجود ہیں نئی نسل کی تعلیم وتربیت مشکل نہیں ۔ نوجوانوں کی ذہن سازی کسی طور ترک نہیں ہوگی ۔ “تعلیم کے اصول ” نامی یہ کتاب تاریکی کے موجودہ دور میں چراغ راہ اور روشن مشعل کا کام دے سکتی ہے ۔