اِسلا میات

جلوس و جشن عید میلاد النبیﷺ کی روایت شریعت کی روشنی میں

جلوس و جشن عید میلاد النبیﷺ کی روایت شریعت کی روشنی میں

عبد المعید ازہری
اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول یا ربیع النور باقی مہینوں سے قدرے ممتاز ہے اور اس کی اپنی فضیلت و اہمیت ہے کیونکہ اسی بابرکت مہینہ میں حضرت محمد ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بندوں کی ہدایت و رہبری کے لئے بھیجا۔اللہ تعا لیٰ ساری کائنات کا خالق و مالک ہے ۔ہر ظاہر و مخفی شئی کا اسے علم ہے ۔اللہ اپنے بندوں کے ارادوں تک کا علم رکھتاہے ۔ یہ رب ہی ہے جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی کرتا ہے ۔ اللہ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے ۔اللہ تعالیٰ کی ایک عادت کریمہ ہے کی جب اسے اپنے کسی بندے کا عمل یا اس کی عبادت یا عبادت کا کوئی خاص طریقہ پسند آ جاتا ہے تو اسے ہمیشہ کے لئے زندہ و جاوید بنا دیتا ہے ۔نماز اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عبادت ہے ،اسے بھی اپنے مخصوص بندوں کی یادوں سے بری نہیں رکھا نماز کے طریقوں میں اس رکعت کے اعداد شمار میں اپنے محبوب بندوں کی اداؤں کا لحاظ رکھا۔فجر سے لیکر عشا تک کی رکعتوں کو اپنے چند نبیوں کی جانب سے ادا کی گئی سکران نعمت کے سجدوں کے قیامت تک کے لئے امت محمدیہ کے فرض عبادتوں میں زندہ رکھ کر اپنی محبت اور رضا اظہار فرمایا۔ ایسے ہی حج کے مہینہ میں جتنے بھی ارکان حج ہیں تقریبا ہر رکن کسی نہ کسی کی یادگار کو زندہ و جاوید کئے ہوئے اور ان یادگار کی بقا کو رب نے اپنی عبادت سے تعبیر کیا ہے ۔ان واقعات سے ایک بات کا انکشاف ہوتاہے کہ رب کے نزدیک نسبتوں کا بڑا احترام ہے ۔صفا و مروہ ہو منا و مزدلفہ ہو یا پھر مقام ابراہیم سب کی اہمیت ان کی نسبت سے بڑھ گئی۔ جیسا کہ حضرت عمر ؓ نے بھی کہا تھا کہ ائے حجر اسود حقیقت میں تو ایک پتھر ہی تو جس کسی بھی قسم کے نفع و نقصان سے پرے ہے پھر میں تمہیں اس لئے بوسہ دیتا ہو ں تمہیں میرے نبی ﷺ نے چوما ہے۔
ایک عام فہم انسان کے ذہن میںایک سوال آتاہے یا پھر ڈال دیا جاتا ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیںکہ یہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو اتنے اہتمام کے ساتھ جلوس نکلتا ہے ،ہر گلی محلہ مسجد و مدرسہ سجایا جاتا ہے، صدقات و خیرات، اوراد و وظائف کی کثرت ہوتی ہے ،لوگ خوش ہوتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں ، ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ایسا تو پہلے نہیں تھا ۔ یہ تاریخ کئی صحابہ کے دور میںآئی، کئی بزرگوں کے سامنے سے گذری لیکن انہوں نے ایسا اہتمام نہیں کیا ۔تو اب یہ نئی چیز کیوںشروع کی گئی ؟
جواب تو بالکل واضح ہے کہ جن لوگوں نے نہیں کیا کیا انہوں نے یا کسی اور نے کبھی منع کیا ہے ۔کسی نے منع نہیں کیا ۔ ہاں طریقہ الگ ہو سکتا ہے لیکن خوشیاں سبھی نے منائی ہیں۔قرآن پاک میں کسی بھی عمل کے ایجاب حرمت کے بارے میں ارشاد گرامی ’’ ما اتاکم الرسول فخذوہ و ما نہاکم عنہ فانتہو‘‘ (القرآن)اور رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جا ؤ (ترجمہ)۔حدیث پا ک میں ہے کہ اللہ نے جو تمہارے لئے کتاب میں حلا ل کر دیا وہ حلال اور جسے حرام کردیا وہ حرام اور جس کے بارے میں خاموش رہا اس میں تمہارے لئے عفو ہے یعنی وہ تم پر چھوڑ دیا ۔قرآن میں بھی ہے ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ان کا حال کیا ہے جو ہم سے پہلے اس دنیا سے چلے گئے یعنی صحابہ کے وہ اصحاب جو اس دنیا سے کفر کی حالت میں گئے ۔بعض اہل عرب از راہ مزاق بھی پوچھتے تھے کہ قرآن میں ا سکا بھی ذکر ہے کہ نہیں ایا وہ ابھی کس حالت میں ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ اور ایسی چیزوں کے بارے میںسوال سے پرہیز کرو کہ اگر وہ تم پر ظاہر کر دی جائے تو تم کو تکلیف پہونچے‘‘ (ترجمہ القرآن)اس کا مطلب یہ ہے کہ جس کا ذکر رب نے نہیں کیا اس مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کے علم میں ہی نہیں۔ان ساری باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی صحابی یا بزرگ کا ترک عمل باعث حرمت نہیںہوتا ۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ واما بنعمت ربک فحدث‘‘(القرآن)اور اپنے رب کی نعمت کا خوب خوب چرچا کرو (ترجمہ)چرچا اور تذکرہ کا تقا ضہ ہے کہ عوام الناس میں اس کا اعلان کی جائے ۔جس نعمت کا چرچا کیا جانا ہے اس کے بارے میں رب فرماتا ہے ’’لقد من اللہ علی المؤمنین اذ بعث فیہم رسولا‘‘(القرآن )بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو بھیج کر مؤمنین پر منت و احسان فرمایا ہے (ترجمہ)۔بنی کی بعثت مؤمنین پر احسان اور منت ہے تو اس شکریہ لا زم ہے جس کا میلاد النبی ﷺکے موقعہ پر ذکر کیا جاتاہے ۔
لفظ عید اور خوشی دونوںکے بارے میں قرآن میں ذکر موجود ہے ۔بنی اسرائیل پر جب اللہ تعالیٰ نے من سلوہ کا خوان نازل فرمایا اس وقت حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے دعا کی ’’ربنا انزل علینا مائدۃ من السماء تکون لنا عیدا لاولنا و آخرنا‘‘ (القرآن)اے ہمارے رب ہمارے لئے آسمان سے اپنی نعمت کا ایک خوان نازل فرما جو ہمارے لئے عید ہوگی بلکہ ہمارے اگلے پچھلے سب کے لئے عید ہوگی(ترجمہ)۔ جب آسمان سے من و سلوہ کا خوا ن نازل ہو اور وہ عید اور خوشی کا باعث ہو جاتا ہے اس سے بڑھ کر تو نبی ﷺ کی ذات اور ان کی بعثت ہے کی ساری نعمتیں انہیں کے صدقہ میں بنائی گئی ہے بلکہ انہیں کے لئے بنائی گئی ہے حدیث قدسی ہے ’’ لو لاک لما خلقت الدنیا ‘‘، لولا ک لما خلقت الافلاک ‘‘(الحدیث)ائے محمد اگر تمہیں پیدا کرنا نہ ہوتا تو نہ دنیا بناتا اور نہ ہو یہ آسمان بناتا (ترجمہ)۔ایک جگہ تو یہ بھی فرمایا کہ ائے محبوب اگر تمہیں پیدا کرنا مقصود نہ ہو تا تو میں اپنی ربوبیت کا اظہار تک نہ کرتا ۔قرآن کی کئی آیات کریمہ ہیں جو نبی ﷺ کی عظمت و توقیر اور ان کی بعثت کی اہمیت و فضیلت کو ظاہر  کرتی ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس لئے بھیجا تاکہ لوگوں کو ایک خدا معرفت حاصل ہو سکے ، تاکہ لوگوں کہ کفر کے اندھیرے سے نکال کر ایمان کے اجالے میں لا کھڑا کر دیں،تاکہ دم توڑتی انسانیت کو پھر سے زندگی مل جائے ، تاکہ دنیا میں امن و سکون قائم ہو جائے ۔تو یقینا نبی ﷺ کی بعثت کا دن مسلمانوں کے لئے عید کا دن ہے ۔قرآن ہی میں ایک دوسری جگہ فلیفرحوا کا لفظ مذکو ر ہے جس کا مطلب ہے کہ تو پھر خوشیاں مناؤ۔
پھر نبی ﷺ کے یوم میلاد پر خوشی منانے میں حرج کیا ہے ۔ اس ذ کر سے ان کی یاد زندہ ان کی نسبتیں زندہ ہے ان کی تاریخ زندہ ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج ہمارا دور اس دور نبی سے کافی دور اور بعید ہے جیسے جیسے ہم اس دور سے دور ہوتے جاررہے ہیں ان کی تاریخیں ہم بھولتے جا رہے ہیں ۔ ہمارے گھر ان کے تذکروں سے خالی ان اصحاب کے مجاہدانہ کارناموںسے ہمارے بچے بے خبر ہوتے جارہے ۔ہم ہماری ہی روایتوں سے دور اور اپنی آثار سے نابلد ہوتے جارہے جو ہماری تباہی کا باعث بھی ہے ۔
اس عید میلاد النبی کے موقعہ پر اگر پوری دنیا کو امن و سکون کا پیغام دیا جاتا ہے اور انسانیت کا جلوس سے تعبیر کیا جاتا ہے لوگ محبتوں کا خراج عقیدت پیش کرتے ہے اور تقریبا پوری دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان ہیں اسے نہایت ہی تزک احتشام سے مناتے ہیں سعودی عرب کے علاوہ دنیا کی اکثر مسلم ممالک اس دن کو قومی تعطیل کا درجہ دیتے ہیں تاکہ سبھی آسانی سے منا سکیں یہاں تک کہ کئی غیر مسلم ملک بھی اس میں یقین رکھتے ہیں اور مثال کے طور پر ہمارے ملک ہندوستان میں بھی اس دن قومی تعطیل ہوتی ہے ۔ یہ خوشیوں کا دن ہے یہ عید کا دن ہے اور یہ انسانیت کا دن ہے اس دن کو ہمیں ہر حال میں منانا چاہئے اور ایک نئے عزم کے ساتھ آگے کی شرعات کرنی چاہئے ۔اس پورے مہینہ خوب درود پڑھو ، خوب تلاوت کا ، بیماروں کی تیمارداری کروں یتیموں کے سروں پر ہاتھ رکھو، گلی محلوں کو صاف رکھو ، لوگوں میں خوشیاں بانٹوں اور پوری دنیا کو بتاؤ کہ یہ وہ دن ہے جب پوری دنیا کے لئے رحمت بن کر ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ اس خاکدان گیتی پر تشریف لائے جسے ساری دنیا ادب سر تسلیم کو خم کرتے ہوئے محسن انسانیت کے نام سے جانتی اور مانتی ہے ۔وما ارسلنٰک الا رحمۃ للعالمین (القران)۔نسبتوں کا احترام آثار کی حفاظت کا درس ہمیں قرآن ہی سے ملتا ہے ۔ اپنے بزرگوں کو یاد کرنا اور انہیں یاد رکھنا ہماری روایت رہی ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کی ذات اور کمالا کا تذکرہ ، ان کی یادگار کی حظاظت تو عین ایمان اسلام کی حفاظت جیسی ہے ۔
حضرت محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت مہاجر مکی جیسے بے شمار بزگان دین ہیں جنہوں نے باقائدہ اس کے بارے میں لکھا ہے اور قرآن و حدیث کے ساتھ صحابہ و بزرگان دین کی روایت کاحوالہ دیا ہے ۔اس کے علاوہ ایک مرتبہ خود رسول گرامی وقار نے اپنے میلاد پر دعوت کھلائی ہے ۔صحابہ نے بھی اپنی روایت کے مطابق آپ کے حسب نسب کا تذکرہ کیا ہے ۔اس کے علاوہ عام پر علماء اس واقعہ کی روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے وقت ولادت باسعادت آپ کی والدہ ماجدہ کو آسمان میں میں نور نکہت کی عجیب سی انجمن دکھائی پڑی ، فرشتوں کی آمد ہوئی ، آپ کی آمد کی بشارت تو آپ کی کئی مرتبہ دی گئی ، اس نور کا یہ عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ کے محلات بھی نظر آئے ۔آپ ﷺ کی آمد کی بشار ت ہر نبی نے د ی جس کا خلاصہ کئی راہبوں اور موحدوں نے کیا۔