مضامین

جموں سے بہار تک فسادات کا سلسلہ

عمران عاکف خان

مانیے یا نہ مانیے مگر ایسا لگ رہا ہے جیسے عام انتخابات اب بہت نزدیک آگئے ۔بہت جلد اب حکمران جماعت کا تخت پلٹ ہوگا اور ہندوستانی سیاست کا نیا باب تحریر کیا جائے گا۔یہ اس لیے کہ حسب سابق ملک بھر میں فسادات کے سلسلے شروع ہو گئے نیزانارکی و افراتفری کا ماحول بر پا کیا جارہا ہے۔جمو ںو کشمیر اور بہار فسادات کے بعد 145آندھرا 145تلنگانہ 145راجستھان 145حیدرآباد 145 یوپی اور دیگر علاقوں میں فسادات کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔سرحدی امن کو بگاڑا جارہا ہے اور اسے پڑوسی ممالک کی دراندازی145جنگ بندی کی خلاف ورزی 145شرر انگیزی جیسے خوبصورت الفاظ کا نام دے کر ایشیا کے عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔سیاست داں اپنی سیاست چمکارہے ہیں اور عوا م کو باور کر انے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اورجو وہ کر رہے ہیں وہی صحیح ہے ۔یہ حالات بتا رہے ہیں کہ اب ملک میں سیاسی جنگوں کا میدان سج رہا ہے اور عوام اس کے کام میں آرہے ہیں۔
سیاست داں اور فرقہ پرست لوگ پوری کوشش میں ہیںاور انسانوں کو انسانوں سے متنفر کر نے اور ایک دوسرے کا دشمن ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔حالانکہ ایسا نہیں ہے 145یہ تو ایک کھلی فریب کاریاں اور 146سیاست 145 ہے عوام تو ہمیشہ سے امن وآشتی کے خوگر رہے ہیں اور جنگ سے انھیں ہمیشہ نفرت رہی ہے۔وہ ایک دوسرے کے دوست اور بھائی ہوتے ہیں ۔ انھیں جس قدر امن 145دوستی اوراخوت سے پیار ہے اتنا کسی بھی چیز سے نہیں۔مگر ان مقدس اقدار کو وہ سیاسی بازیگر اور فرقہ پرست کیا سمجھیں 145جنھیں فسادات 145مار دھاڑ اور قتل و خون کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔
جموں و کشمیر اور بہار کے حالیہ فسادات ملک کے امن و امان کو بگاڑ نے کی ایسی ناپاک سازش ہے جس نے فرقہ پر ستوں کو بے نقاب کر دیا اور ان کی اصلیت اجاگر کر دی کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں اور ان کے منصوبے کیا ہیں۔بہار میں جنتا دل (یو) کی علاحدگی کا انتقام لیا جارہا ہے اور جنت نشان کشمیر کو اس لیے جہنم بنایا جارہا ہے کہ وہاں مسلمان اکثریت میں جو ہندو تو اور سنگھی سوچوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
فرقہ پر ستوں کی سوچ اور مذموم کارنامے تو ایک طرف اس سے بھی زیادہ مرکز میںحکمران جماعت کانگریس کی بے حسی پر رونا آتا ہے ۔اس کی ناک تلے فسادات ہورہے ہیں 145ملک کا امن و امان غارت ہورہا ہے مگر اس کی زبان سے نہ تو مذمت کا کوئی لفظ نکلتا ہے اور نہ فسادات کی روک تھام کے لیے قدم اٹھا ئے جاتے ہیں۔مرکزی حکومت دونوں ہاتھوں سے ملک کو بر باد کر رہی ہے اور اسے فرقہ پر ستی کے عفریت کے منہ میں دھکیل رہی ہے ۔ حکومت کی اسی طرح کی سرد مہری اور مجرمانہ سوچ پر افسوس کر تے ہو ئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ کہہ اٹھے :146146جموں میں ہونے والے یہ فسادات کہہ رہے ہیں کہ ہمیں مین اسٹریم میں نہیں مانا جارہا ہے بلکہ ہمیں ہندوستان کا حصہ ہی نہیں مانا جارہا ہے ۔جموں و کشمیر کو فرقہ پر ستوں کی چراگاہ بنایا جارہا ہے جہاں نہتوں اور بے بسوں کو شکار کیا جارہے اور ان سے وحشیانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ہم نے بار بار حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کر ائی ہے اور اس سے مدد مانگی ہے مگر حکومت نے ہمیشہ بے رخی اور سر دم مہری کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس سے ہم کیا سمجھیں اور اس کا کیا مطلب نکالیں ۔145145
عمر عبد اللہ کے ان خیالات سے میں صد فی صد متفق ہوں ۔واقعی حکومت نے جموں و کشمیر کو فرقہ پر ستوں کی چرا گاہ بنا رکھا ہے جہاں وہ من مانے انداز میں انسانوں کا شکار کر تے ہیں۔کبھی فوجی لباس میں اور کبھی دوسرے طریقوں سے اور حکومت دیکھتی رہتی ہے۔
شایدکچھ ذہنوں میں یہ بات آئے کہ کشمیر میں فسادات خود بلا ئی بلا ہیں اس لیے یہ کوئی افسوس ناک بات نہیں ہے۔۔۔۔مگر میں اس سے متفق نہیںہوں اور ہاں واضح ہونا چاہیے کہ جموں کے جن علاقوں راجوری145کشتواڑ145پونچھ اور رام بن وغیرہ میں فسادات ہو ئے ہیں وہ کشمیر کے علاقو ںسے مختلف ذہنیت کے اور جمہوریہ ہند کے وفادار علاقے ہیں ۔وہ خود کو ہندوستانی کہنے میں فخر محسوس کر تے ہیں اور ہندوستان کے قوانین و آئین کا احترم کر تے ہوئے اس کے تئیں اپنی نیک خواہشات رکھتے ہیں 145ہندوستانی قانون کا احترام کرتے ہیں اور اس کے فروغ کی کوششیں کر تے ہیں ۔۔۔۔اس کے باوجود بھی وہاں فسادات ہوئے اور غیر معینہ مدت تک کر فیو لگا کر شہریوں اور باشندوں کا جینا محال کیا گیا۔یہ کیا ہے ؟اس پیار کو کیا نام دیا جائے اور فرقہ پرستوں کی اس شیطانی ذہنیت و سنگ دلی کو کیا کہا جائے؟!
دوسری جانب بہار میں جس دن سے بی جے پی۔ جنتادل (یو) الگ الگ ہوئے ہیں 145فسادات 145قتل و خون145بم دھماکوں اور جانوں کے اتلاف کا طویل سلسلہ جارہی ہو گیا۔ بم دھماکے مڈے میل سے معصوم بچوں کی ہلاکتیں 145نوادہ کے حالیہ فسادات ۔۔۔۔۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آتا یہ ملک کو کس کی نظر بد لگ گئی ۔ یہ کیسا روگ لگ گیا اسے جس کا کوئی علاج آج تک نہ مل سکا ۔رہ رہ کر ایک ایک علاقہ145ایک صوبہ145ایک حلقہ اس کی چپیٹ میں آتا جارہا ہے اور انسانیت قتل و خون میں نہا رہی ہے ۔نریندرمودی جیسے فرقہ پرست پورے ملک میں آگ لگاتے پھررہے ہیں ۔نہ انھیں کوئی روکتا ہے اورنہ سمجھاتا ہے ۔یا خدا!یہ کب تک چلے گا ۔۔۔کن انسان کو عقل آئے گی اور کب وہ درندوں سے الگ ہو گا۔بھیڑیوںاور خونخوار جانوروں کی خصلت سے کب آزاد ہوگا۔۔۔۔۔خدایا رحم کر ۔۔۔۔اپنے بندوں پر رحم کر ۔۔۔۔اب آپ سے ہی مانگا اور کہا جاسکتا ہے انسانوں سے کہتے کہتے تو ہم عاجز آگئے ۔۔۔۔ رحم کر یا مالک دوجہاں رحم کر ۔ انھیں سکھا کہ دنیا حد تک 145امن و آشتی 145اخوت و محبت145اور انسانیت کے مذہب سے بڑا کو ئی مذہب145کوئی ازم اورکوئی سلسلہ نہیں ہے ۔
ایں دعا ازمن و جملہ جہاں آمین باد
Feedback:imranakifkhan@gmail.com
09911657591