خبریں

جموں میں آبادیاتی تناسب بگاڑنے کا منصوبہ

جموں میں آبادیاتی تناسب بگاڑنے کا منصوبہ

حریت(گ)چیئرمین سید علی گیلانی نے صوبہ جموں میں غیر اقامتی رفیوجیوں کی 20کالنیوں کو ریگولر کرنے کے حکومتی پلان کو ایک گہری سازش سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دلّی جموں کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کے لیے ایک طویل مدّتی منصوبے پر عمل پیرا ہے اور وہ ہر جائز وناجائز طریقے سے یہاں غیرریاستی باشندوں کو آباد کرکے مسلمانوں کو اقلیت میں لانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، ریاستی کانگریس اور دیگر تمام ہندنواز تنظیمیں اگرچہ اس سلسلے میں خاموشی سے دلی کی ڈکٹیشن پر عمل کرتی رہتی ہیں، البتہ کانگریس منسٹر رمن بھلا کو اس ضمن میں خاص ٹاسک سپرد کیا گیا ہے اور وہ بعض مواقع پر ریاستی انتظامیہ کو بھی بائی پاس کرکے اقدام کرتے ہیں۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ 1947 میں صوبہ جموں میں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب85فیصد تھا اور جب سے ہی مختلف طریقوں سے اس کو کم کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں، نہ صرف اس وقت لاکھوں مسلمانوں کو قتل اور لاکھوں کو ہجرت کرکے پاکستان جانے پر مجبور کردیا گیا، بلکہ اس کے بعد مسلسل یہاں غیر ریاستی اور غیر اقامتی لوگوں کو لاکر بسانے کے منصوبے پر عمل ہوتا رہا۔گیلانی کے مطابق جموں کشمیر میں برسراقتدار آنے والی حکومتوں میں سے کسی نے بھی اس کی مزاحمت نہیں کی، بلکہ وہ اس سلسلے میں دہلی کے پالیسی ساز اداروں کے معاونین کے طور بلا چون وچرا کام کرتے رہے۔ گیلانی نے کہا کہ اس سلسلے میں شیخ عبداللہ سے لیکر رمن بھلا تک کوئی استثنیٰ نہیں ہے، اور ہر کسی نے اپنے اپنے وقت میں ریاستی عوام کے اجتماعی مفاد کو زک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ کے نعرہ رائے شماری میں اگرچہ پوری قوم نے ان کا ہر طرح سے بھرپور ساتھ دیا، البتہ اقتدار میں آکر انہوں نے لینڈ گرانٹس بل لاکر ریاستی عوام کی پیٹھ میں چْھرا گھونپ دیا اور غیر ریاستی باشندوں کو یہاں در آنے اور قبضہ جمانے کا ایک آسان راستہ فراہم کیا گیا۔ حریت چیئرمین نے کہا کہ کشمیر کے ہندنواز سیاستدانوں نے ایک طرف ریاستی وسایل کی دہلی کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ کی کْھلی ڈھیل دی ہوئی ہے اور دوسری طرف پچھلے چند برسوں سے نان اسٹیٹ سبجیکٹ لوگوں کو یہاں بسانے کے بھارتی منصوبے کو عملانے میں بڑی سْرعت لائی گئی ہے، اس ضمن میں اگرچہ دہلی والوں کو عمر عبداللہ کی طرف سے بھی بھرپور سپورٹ مل رہا ہے، البتہ ریاستی کانگریس کمیٹی اور رمن بھلا کو اس سلسلے میں پروایکٹیو رول دیا گیا ہے۔گیلانی کے مطابق رمن بھلا نے 2011 میں اسی مقصد کے لئے ڈوگرہ سرٹیفکیٹ کی اجرائی کا آرڈر نکالا تھا، جبکہ دوسرے کانگریسی لیڈ ر تاراچند نے جْھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو پراپرٹی حقوق دئے جانے کے لئے قانون سازی کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ حریت چیئرمین اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ غیرقانونی کالنیوں کو ریگولر کرانے کے سلسلے میں جو میٹنگ بلائی گئی تھی، اس میں کانگریس رمن بھلا کے علاوہ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھی نمائندگی شامل تھی۔