سرورق مضمون

جموں میں RSS کا مارچ/سیکولر عناصر سیخ پا / مفتی خاموش این سی لیڈر کاگیلانی پر الزام /گیلانی کا تیکھا جوابی وار

ڈیسک رپورٹ

جموں کی سڑکوں پر آرایس ایس کے مارچ نے پوری ریاست میں تشویش کی لہرپھیلادی۔ ریاست میں اسے ہندو فرقہ پرستوں کی طرف سے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کی علامت قراردیا جاتا ہے ۔ جموں شہر میں اس وجہ سے لوگ سخت ہراساں نظر آتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ آرایس ایس کے کارکنوں نے لاٹھیوں ، تلواروں اور بندوقوں سے مسلح ہوکر پورے جموں شہر کا مارچ کیا۔ اس مارچ کی قیادت مبینہ طور اسمبلی کے اسپیکر اور کئی ممبران کررہے تھے ۔ یادرہے کہ اس سے پہلے اسمبلی کے اسپیکر نے بھرے اجلاس میں اس بات کا اعلان کیا کہ انہیں آرایس ایس کا ممبر ہونے پر فخر ہے۔ اسمبلی میں ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہاں آزاد ممبر انجینئر رشید کی طرف سے گائو کشی پر پابندی اور اس کے نتیجے میں راجوری میں ایک شخص پر حملہ کے خلاف ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا۔ اس دوران اسمبلی اسپیکر نے اعلان کیا کہ وہ آرایس ایس سے وابستہ رہے ہیں اور اس پر انہیں کوئی افسوس نہیں بلکہ فخر ہے۔ اب ان کی طرف سے تازہ قدم یہ اٹھایا گیا کہ انہوں نے جموں میں اس ریلے میں شرکت کی جو آرایس ایس کی طرف سے منظم کی گئی تھی۔ اس ریلے سے پورے جموں علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہوگیا ہے اور اقلیتیں خاص کر مسلمان اس سے گھبراہٹ کا شکار بتائے جاتے ہیں۔ ریاست میں اس طرح سے کھلے عام اسلحہ کی نمائش کرنے پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود جموں میں تلواروں اور بندوقوں سے لیس ریلے نکالی گئی۔ جموں کے ڈپٹی کمشنر سے اس بارے میں جب پوچھا گیا کہ اس طرح کا غیر قانونی اقدام کیسے اٹھایا گیا اور اس پر انتظامیہ کیا کارروائی کرے گی۔ تو انہوں نے اس واقعے سے بے خبر ہونے کا اعلان کیا۔ جس سے صاف مطلب نکالا جارہاہے کہ اس اقدام کی انتظامیہ کی طرف سے حمایت دی گئی ہے ۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ وزیزراعلیٰ مفتی سعید نے اس غیرقانونی اقدام پراپنے ہونٹ سی لئے ہیں اور تاحال کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ این سی اور کانگریس کی طرف سے اس کے خلاف کئی بیانات دئے گئے ہیں اور اسے سیکولر بھارت کے لئے بہت ہی خطرناک قراردیا گیا ۔ لیکن پی ڈی پی کی طر ف سے تاحال اس پر کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے ۔
ادھر این سی کے تیز طرارلیڈر مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر حریت(گ) کے سربراہ سید علی گیلانی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کمال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گیلانی اور دوسری کئی مذہبی جماعتوں نے مفتی کو پی ڈی پی بنانے اور اقتدار تک پہنچنے میں مدد کی۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب گیلانی نے مفتی کی آرایس ایس کے ساتھ دوستی پر ان کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا۔ کمال نے اس بیان کے تناظر میں گیلانی پرالزام لگایا کہ اسی نے مفتی کو وزیراعلیٰ بنانے میں مدددی۔ اس کے جواب میں حریت ترجمان نے کمال کو ایک مسترد اور ہواس باختہ لیڈر قراردیا ۔ بیان میں کمال سے کہا گیا ہے کہ وہ دوبارہ گیلانی پر تنقید نہ کرے۔ اس بیان میں کہا گیا ہے کہ حریت پسند شیخ عبداللہ ، مفتی سعید ، فاروق عبداللہ اور اس قسم کے تمام لیڈروں کو ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔ حریت بیان میں کمال کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کمال کو ایک ناواقف شخص بتایا گیا اور کمال کومشورہ دیاگیا کہ گیلانی پر بیان دینے سے پہلے وہ ان کی زندگی کا مطالعہ کریں ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ گیلانی کی زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے جس پر انہیں کوئی چیلنج نہیں کرسکتا ہے ۔