مضامین

جموں وکشمیرمیں سیا حتی سیکٹر کا احیا ئے نو
کیا کو رونا وائرس ایک نیا چیلنج بن کر اُبھر آیاہے ؟

تجمل احمد
گزشتہ پینتیس سال کے نا مساعد حالا ت کے دوران جموں وکشمیر میں سیا حتی سیکٹر کو زبردست مسائل اور مشکلا ت جھیلنا پڑے ۔روز روز کی ہڑ تالوں ،مسلح جھڑپو ں ،ہلاکتوں اور دیگر قسم کے حالات نے زندگی کے جن شعبہ جا ت کو سب سے زیا دہ متا ثر کیا ان میں شعبہ سیاحت بھی ایک ہے اور حالات میں قدرے بہتری آنے کے بعد اگر چہ پچھلی کئی حکو متوں نے اس سیکٹر میں نئی رو ح پھونکنے کی کو ششیں کی تھیں تاہم وہ صد فیصد کامیابی سے ہمکنا ر نہیں ہو ئے۔سال 2014ء میںکشمیر میں آنے والے تبا ہ کن سیلاب کی وجہ سے بھی وادی کے اندر سیا حت کے بنیا دی ڈھانچے کو نا قابل تلافی نقصانات سے دوچار ہوناپڑ ا اور حکو متی و نجی سیکٹر میں اس شعبے کو اربو ں رو پے کے خسارے کا سامنا رہا ۔رواں بر س اس سیکٹر میں احیا ء کے کچھ آثار دکھائی دینے لگے ہیں اور اگر صورتحا ل بہتر رہی تو اس سال کا فی بڑ ی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح وادی کی سیاحت پر آئیں گے ۔بھا رت کی مر کزی حکومت بھی اس حوالے سے مختلف سطحوں پر کوششیں کر رہی ہے اور رواں بر س جہاں گلمر گ میں ونٹر سپو رٹس فیسٹول کا انعقاد کر کے سیاحوں کو یہاں کی سیر کرنے پر راغب کر انے کے لئے کوششیں کی گئیں وہیں زبر ون پہاڑوں کے دامن میں واقع وسیع و عریض بلکہ ایشیاء کا سب سے بڑے گل ِ لا لہ باغ میں ٹیو لپ فیسٹول کا انعقاد کرکے بھی اس با ت کا عندیہ دیا جا رہا ہے کہ جموں وکشمیر خاص کر وادی میں ٹیو رازم سیکٹر کے احیا ئے نو کے حوالے سے حکو متی سطح پر تمام تر کو ششیں کی جارہی ہیں۔گزشتہ تین ما ہ کے دوران سیاحت کی مر کزی وزارت اور مقامی محکمہ ٔ سیا حت کی جا نب سے ایک طرف وادی کے اندر مختلف نو عیت کے کئی پرو گرام کئے گئے وہیں دوسری جا نب مر کزی حکومت نے پا رلیمانی ڈیلی گیشن کو بھی وادی کا دورہ کر کے زمینی سطح پر سیاحت کے شعبے کو در پیش چیلنجوں کا حل تلا ش کر نے کی غر ض سے ان سے مشورے اور آراء طلب کی گئیں۔جموں و کشمیر کے لئے حال ہی میں پا رلیمنٹ میں منظور کئے گئے بجٹ میں بھی یہاں کے سیاحتی سیکٹر کو کئی کروڑ روپے کی اضافی رقم مہیا کرائی گئی ہے تاکہ سیاحوں کے لئے پا ئیدار قسم کا بنیا دی ڈھا نچہ تیا ر کیا جاسکے۔جموں و کشمیر کے محکمہ ٔ سیاحت کی جانب سے بھی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو وادی کی سیاحت کی جانب راغب کرا نے کے لئے بھا رت کی مختلف ریا ستوں میں روڑ شوز اور دیگر قسم کے پروگراموں کا انعقاد کیا گیا جس کے خاطر خواہ نتا ئج بھی بر آمد ہو نے لگے ہیں ۔سرینگر کے بلیوارڑ روڑ پر واقع ہوٹل شہنشاہ میں کا م کر رہے ایک ہو ٹل منیجر مشتا ق احمد نے اس نما ئندے کے ساتھ با ت کر تے ہوئے کہا کہ رواں بر س ہو ٹل انڈسٹری کے ساتھ منسلک لوگوں میں اس با ت کی امید پیدا ہو گئی ہے کہ شائد صورتحال بدل جا ئے ۔ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل ما لکان کو پچھلے چند سالوں کے دوران زبردست ما لی خسارہ اٹھا نا پڑا تھا مگر اس سال کا فی تعداد میں سیا ح وادی آرہے ہیں جس سے ہو ٹل مالکا ن نے اپنی روزی روٹی کما نے کے ساتھ ساتھ ملا زمین کے لئے بھی رو ز گا ر کا بند و بست کر نا شروع کر دیا ہے ۔ڈل جھیل کے اندر ہا ئو س بو ٹ اور شکارا چلا نے والے محمد صدیق نا می ایک شخص کا کہنا تھا کہ رواں بر س کے پہلے تین ما ہ سیاحتی اعتبا ر سے کا فی حوصلہ افزا ء رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کا کا م لگ بھگ بند ہو چُکا تھا مگر اس سال اس کے احیا ء کی امید پیدا ہو گئی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات ٹھیک رہے اور کو رونا وائرس کی وجہ سے زیادہ پریشانیاں یا پھر لا ک ڈائون نہیں ہو اتو انہیں امید ہے کہ اس سال ان کی اچھی خاصی کما ئی ہو گی۔اس دوران حال ہی میں وادی کے دورے پر آنے والے مر کزی وزارت ِ سیا حت کے سیکر ٹر ی اروند سنگھ نے سر ینگر میں ایک انٹر ویو کے دوران بتایا کہ مر کزی حکو مت جموں وکشمیر کے سیاحتی سیکٹر کو بڑ ھا وا دینے کی غرض سے ہر ممکن کو شش کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاحت کے بنیا دی ڈھانچے کو وسعت دینے کی غرض سے مختلف نو عیت کے پرو جیکٹ ہاتھ میں لئے جا رہے ہیں اور کوشش یہ کی جارہی ہے کہ زیا دہ سے زیا دہ سیاحوں کو وادی کی سیر پر آنے کے لئے آما دہ کیا جا سکے اور یہاں اس سیکٹر میں روز گار کے زیا دہ سے زیا دہ مواقع پیدا کئے جا سکیں ۔ایک ایسے وقت میں جبکہ بھا رت کے اندر ایک دن میں سامنے آنے والے کو رونا مریضوں کی تعداد 2لا کھ سے بھی زیا دہ ہو گئی ہے کیا وادی کے سیاحتی سیکٹر کے لئے خطرے کی گھنٹی بج چُکی ہے ؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا ابھی کسی کے پا س کو ئی جواب نہیں ہے۔ہم نے محکمہ ٔ سیا حت کے ڈائر یکٹر ڈاکٹر جی این ایتو سے اس مسئلہ پر بات کی تو انہوں نے کہا کہ اگر چہ ان کے پا س اس سوال کا جواب نہیں ہے تا ہم وہ یہ با ت ضرور کہنا چاہیں گے کہ اگر سب کچھ ٹھیک ٹھا ک رہا تو اس برس سیاحوں کی وادی آمد کے تمام گزشتہ ریکا رڈ ٹوٹ جا ئیں گے ۔انہو ں نے کہا کہ عالمی وبا ئی بیماری کو رونا وائرس کے نتیجہ میں پو ری دنیا میں زندگی کا ہر ایک شعبہ متا ثر ہو ا ہے اور سیاحت کے شعبے کو کسی قسم کا کو ئی استثنا ء حاصل نہیں ہے تاہم انہوں نے امید جتا ئی کہ حکو مت کو رونا وائرس کے پھیلا ئو کے سائیکل کو تو ڑنے میں عنقریب کا میابی حاصل کر لے گی اور دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کا سیاحتی شعبہ بھی اپنی پہلی والی پو زیشن پر واپس آ جا ئے گا ۔