نقطہ نظر

کیا الطاف بخاری مر کزی سر کا ر کی پہلی پسند کے طور ابھر سکتے ہیں ؟

کیا الطاف بخاری مر کزی سر کا ر کی پہلی پسند کے طور ابھر سکتے ہیں ؟

تجمل احمد
دنیا کی کسی بھی جمہو ریت کے لئے یہ امر لازمی ہے کہ وہاں عوام کی چُنی ہوئی حکومت ہو یعنی اس ملک یا ریا ست کے لوگ اپنی مر ضی سے کسی ایک پا رٹی کو یا ایک سے زیادہ پا رٹیوں کے اتحاد کو ووٹ دے کر کامیاب بنا ئیں اور ان کے ہا تھوں میں حکومت یا اقتدار کی زمام دے دیں۔یہی حکومت عوام کی فلا ح و بہبو د کیلئے نئے نئے قوانین بنا تی ہے اور ان قوانین پر عملدرآمد کے ذریعے لوگوں کی فلا ح و بہبو د کی سمت میں کا م کر تی ہے ۔اس عوامی حکو مت میں چونکہ منتخب ہونے والے نمائندے خود عوام کے اندر سے ہوتے ہیں لہٰذاء ان کے لئے لوگوں کی ضروریات کو جاننا اور پھر ان ضروریا ت کے عین مطابق قانون سازی کر نا یا پھر فیصلے کر نا کو ئی مشکل امر نہیں ہو تا ہے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ دنیا کے جس کسی کو نے یا حصے میں جمہو ری حکومتیں ہیں وہاں اگر وسائل کم بھی ہوں لیکن ملک و قوم کے ساتھ ساتھ عوام کی ترقی بھی یقینی ہے ۔جمہوری طرز حکو مت اسی وجہ سے پو ری دنیا میں سب سے معروف طرز حکو مت ہے ۔
بھا رت کی آزادی سے لے کر سال 2019ء تک جموں وکشمیر میں بھی عوامی حکومتیں ہی اقتدار سنبھالتی رہی ہیں اور اقتدار میں آنے والی پا رٹیاں اگر چہ وقت وقت پر بدلتی رہی ہیں مگر ہر بار اقتدار میں آنے والی جماعت یا جماعتیں جمہو ری طور چن کر آگئیں جس کے نتیجہ میں یہاں اگر چہ کا فی سست رفتا ری سے ہی صحیح مگر تر قی ضرور ہوئی۔ سال 2019ء میں دفعہ370اور35Aکی منسوخی سے قبل ہی یہاں جمہو ری طرز سے چنی گئی بی جے پی اور پی ڈی پی کی مخلو ط حکو مت بی جے پی کی جانب سے حما یت واپس لئے جا نے کے بعد گر گئی اور تب سے جموں وکشمیر کا انتظام و انصرام لگا تا ر گو رنروں یا لیفٹیننٹ گورنروں کے ہا تھ میں ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سر براہی والی مرکزی حکومت نے جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین ہند کے دفعات کو منسوخ کر کے جموں وکشمیر کو دو مر کزی زیر انتظام علا قوں میں تبدیل کر دیا۔جموں وکشمیر پر اب تک دو لیفٹیننٹ گورنر تعینا ت کئے گئے اور یہ مر کزی زیر انتظام علا قہ انہی کے زیر سایہ چل رہا ہے۔ دفعہ370اور35Aکی منسوخی کے وقت مرکزی حکومت نے اگرچہ جموں و کشمیر میں انتخاب عمل میں لا کر یہاں ایک عوامی حکومت قائم کر نے کی بات کہی تھی مگر ابھی تک اس بات پر عمل نہیں ہوا ہے جو ایک جمہوریت کیلئے کو ئی نیک شگو ن نہیں ہے ۔
مر کزی حکو مت نے جموں وکشمیر میں انتخابا ت کے ذریعہ ایک عوامی حکو مت کے قیام سے قبل از سرِ نو حد بند ی کا عمل مکمل کر نے کے لئے حد بندی کمیشن کا قیام بھی عمل میں لا یا تھا اور یہ کمیشن ابھی تک اپنا کا م کر رہا ہے اور ابھی تک حد بندی کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے ۔اس دوران یہاں کی مقامی سیا سی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مر کز میں سب سے بڑ ی اپو زیشن جما عت بھی مرکز کی این ڈی اے (نا ن ڈیمو کریٹک الائینس) پر اس بات کے لئے زور دے رہی ہیں جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کرائے جائیں تاکہ یہاں کی تر قیا تی ضروریا ت کے مطابق یہاں کے عوامی نما ئندے ہی فیصلہ سازی کر یں ۔اس دوران گزشتہ سال ایک اور اہم پیش رفت یہ ہو ئی کہ بھا رت بھر میں پہلی با ر کسی علا قے میں ضلع تر قیا تی کو نسلوں کے انتخابات کرائے گئے جس میں سبھی پا رٹیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سبھی بیس اضلا ع میں چودہ رکنی ضلع تر قیاتی کو نسل وجود میں لا یا گیا ۔ہر ضلع میں منتخب ہو نے والے ضلع تر قیاتی کو نسل ممبران نے ایک چیرمین اور نا ئب چیر مین کا انتخاب عمل میں لا یا گیا اور ہر ضلع کی انتظامیہ کے لئے یہ با ت ضروری قرار دی گئی کہ وہ ان ممبران کے ساتھ مشاورت کر کے ضلع کے اندر تر قیاتی سر گر میاں عمل میں لا ئیں ۔ضلع تر قیاتی کو نسل چیر مین کو اختیا رات بھی دئے گئے اور رقوما ت بھی تفویض کی گئیں تا کہ وہ اپنے ضلع کے اندر تر قیا تی عمل میں شر یک ہو سکیں اور حکو مت کو اس عمل میں دست ِتعاون پیش کریں ۔ایسے میں ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال اٹھ جا تا ہے کہ کیا ضلع ترقیاتی کو نسل یا پھر لیفٹیننٹ گور نر انتظامیہ ایک عوامی حکو مت کا متبا دل ہو سکتی ہے ؟ اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ مر کزی حکو مت جموںو کشمیر کے اندر اسمبلی انتخابا ت کرانے کے لئے بھی ماحول ساز گا ر بنا نے میں جُٹی ہو ئی ہے اور اس سمت بھی کا فی کچھ کیا جا رہا ہے تاہم جموں وکشمیر کی مقامی سیا سی جما عتوں کے ساتھ ساتھ کانگر یس بھی اس با ت کی آس لگا ئے بیٹھی ہیں کہ آج نہیں تو کل مر کزی حکو مت جموںو کشمیر کے اندر انتخابات کا اعلان کر کے یہاں ایک عوامی حکومت قائم کر نے کی راہ ہموار کرے گی۔جموں وکشمیر میں فی الحال سیاسی پا رٹیوں کے اندر جو ڑ تو ڑ کا عمل جا ری ہے جس دوران کئی چوٹی کے سیا سی لیڈران نے اپنی وفاداریاں شفٹ کر دی ہیں اور اپنی پا رٹی چھوڑ کر کسی دوسری پا رٹی میں شامل ہونے والے سیا سی لیڈران کی بڑ ی تعداد محمد الطاف بخاری کی جموں وکشمیر اپنی پا رٹی کے جھو لے میں گری ہے جبکہ اس دوران کئی بڑے لیڈران سے محروم ہو نے والی پارٹیوں میں پی ڈی پی سر فہرست ہے ۔ محمدالطاف بخاری کی سر برا ہی والی جموں وکشمیر اپنی پارٹی اس وقت جموں وکشمیر میں ایک بڑ ی سیاسی پا رٹی کے روپ میں سامنے آئی ہو ئی ہے اور شاید الطاف بخاری مر کزی حکو مت کے لئے بھی جموں وکشمیر میں پہلی پسند کے طو ر پر ابھر کر سامنے آئے ہیں ۔اس پا رٹی نے پچھلے ایک سال کے دوران جموں وکشمیر کے ہر علا قے اور خطے سے بڑ ی بڑ ی سیا سی شخصیات کو اپنے فولڈ میں شامل کر نے میں کا میا بی حاصل کر لی ہے اور اسمبلی انتخابات کے حوالے سے باور یہی کیا جا تا ہے کہ یہ سب سے بڑ ی پا رٹی بن کر اُبھر سکتی ہے۔