نقطہ نظر

جموں وکشمیر میںضلع ترقیاتی کو نسلوں کی فعالیت
قلیل وطویل مدتی حکمت عملی کیا ہونی چاہئے؟

تجمل احمد
جموں وکشمیر میں پہلی مرتبہ تشکیل دی گئی ضلع ترقیاتی کونسلیںجوکہ ’پنچایتی راج نظام‘کا تیسرا اورا ہم پہیہ ہیں۔چھ ماہ کا عرصہ گذرچکا ہے، ابھی تک بیشتر کونسل ممبران اس تذبذب میں ہیںکہ اُن کے اختیارات کیا ہیں ، وہ کیسے عوامی مشکلات کو حل کروائیں۔ملازمین کو کیسے اپنے فرائض کے تئیں جوابدہ بنائیں وغیرہ وغیرہ ۔مالی سال 2021-22کے لئے ضلع سطح پر بنائے گئے منصوبہ سے متعلق بھی بیشتر ڈی ڈی سی ممبران کی یہ شکایات سُننے کو ملیں کہ سالانہ منصوبہ کا مسودہ پہلے سے تیار شدہ تھا، اُنہیں صرف دستخط کرنے اور اُس پر مہرثبت کرنے کو کہاگیا۔ مالی منصوبہ میں مختلف شعبہ جات کے مد کے تحت قواعد وضوابط کی اتنی پیچیدگیاں رکھی گئی ہیں کہ وہ عوامی خواہشات کے مطابق ضروری نوعیت کے ترقیاتی کاموں کی سفارش بھی نہیں کرسکتے۔ہم جائزہ لیں گے کہ کیا واقعی ضلع ترقیاتی کونسلیں بااختیار ہیں اور وہ لوگوں کی مشکلات ومسائل کو حل کرنے میں کارگرثابت ہورہی ہیں اور اِن کونسلوں کی فعالیت کے بعد انتظامی سطح پر کام کاج میں کیا تبدیلی رونما ہوئی اور کیاہونی چاہئے تھی۔کسی بھی خطہ کی تعمیر وترقی اور عوامی مسائل کے ازالہ کے لئے دو طرح کی حکمت عملی ہوتی ہے، قلیل مدتی Short Term اور طویل مدتی Long Term یعنی کہ فوری طور کیاکیاجاسکتا ہے اور کون کون سے کام ہیں جن کو کرنے میں زیادہ وقت درکار ہے۔ قلیل مدتی حکمت عملی میں دستیاب وسائل اور افرادی قوت کا خطہ کی ترقی اور عوامی مسائل کے ازالہ کے لئے موثر اور منصفانہ استعمال ہے اور طویل مدتی پالیسی میں بڑے منصوبہ جات ہیں ، جن کو حقیقت بننے میں کئی برس لگ سکتے ہیں یا اُن کے اثرات عوامی سطح پر کئی سالوں بعد دیکھنے کو ملیں گے۔
قلیل مدتی حکمت عملی
کسی بھی حکومت یا عوامی نمائندہ کی کارکردگی کا کم عرصہ میں پتہ لگانا ہے تو وہ اُس کی قلیل مدتی حکمت عملی سے لگایاجاسکتا ہے کہ اُس نے لوگوں کے مسائل ومشکلات کو حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کے لئے فوری طور کیا کیا۔ کیالوگوں کو بنیادی سہولیات مل رہی ہیں اور اُنہیں وہ ضروری خدمات دستیاب ہیں جوکہ روزمرہ زندگی کے امور چلانے کے لئے درکار ہیں یعنی کہ پینے کے صاف پانی اور بجلی کی بلاخلل سپلائی،سرکاری اسکولوں میں درس وتدریس کا بہتر نظام، سرکاری ملازمین کو فرض شناس بنانا، گاؤں وقصبہ جات کے صحت اداروں میں موثر خدمات ،عمر رسیدہ افراد اور بیوہ پنشن کے مسائل کا حل، راشن کی بروقت دستیابی، منریگا ودیگر دیہی ترقیاتی اسکیموںکے تحت کسی بھی مالی سال کے دوران مختص رقومات کا منصفانہ استعمال اور اُن مستفیدین تک اُن کاپہنچایا۔ زراعت، باغبانی واِس سے منسلک شعبہ جات کی ترقی کے لئے اسکیموں کی عمل آوری، منظورشدہ/الاٹ شدہ سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارتوں کی معیاری تعمیر وتکمیل ،محکمہ مال سے متعلق لوگوں کے مسائل کا جلد نپٹارا، پٹواری، گرداوری ودیگر ملازمین میں فرض شناسی،پولیس تھانوں میں لوگوں کی شکایات کا جلد اور منصفانہ نپٹارا۔ مختصر یہ کہ سبھی لائن محکمہ جات کے فیلڈ ملازمین وافسران کواپنے فرائض کی انجام دہی کے تئیں جوابدہ بنانا اور دستیاب وسائل کاموثر استعمال ہے۔قلیل مدتی حکمت عملی کے حوالے سے ضلع ترقیاتی کونسلوں، بلاک ڈولپمنٹ کونسلوں اور پنچایتی سطح کا جائزہ لیاجائے تو اِس میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہ آئی ہے۔ ضلع ترقیاتی کونسلوں کو تشکیل پائے چھ ماہ کا وقت گذرچکا ہے، مگر اِس ضمن میں بنیادی سطح پر کچھ بھی بدلہ نہ ہے۔ سرکاری اسکولوں میں اُساتذہ کی حاضری اور درس وتدریس کے تئیں عدم دلچسپی کا وہی رویہ ہے، گاؤں سطح کے ہیلتھ مراکز میں طبی عملہ کی بھی من مانی حسب ِ معمول ہے۔ پٹواری یا دیگر ملازمین بھی اپنی مرضی ومنشاء کے تحت ہی کام کررہے ہیں۔ راشن، پنشن کے معاملات بھی اُسی طرح جوں کے توں ہیں۔رشوت دینے اور سفارش کے بغیر کام کروانا بہت ہی مشکل ہے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات کو بھی حل کرنے میں غیر ضروری اڑچنیں پیدا کر کے گھنٹوںکے کاموں کو ہفتوں اور مہینے لگا دیئے جارہے ہیں۔ عوامی نمائندگان جوآئین وقانون کے تحت بااختیار تو ہیں ، لیکن عملی طور طاقتور بیروکریسی نظام کے آگے کچھ بھی نہیں چل رہی۔ ترقیاتی منصوبوں کی عمل آوری میں غیر معیاری کام اور طوالت کا عمل بھی جاری ہے۔ اس حوالے سے اگر بغور جائزہ لیاجائے تو ضلع ترقیاتی کونسلیں کوئی خاص بدلاؤ لانے میں پانچ فیصد تک بھی کامیاب نہ ہوئی ہیں۔ہاں کچھ حلقوں میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے جہاں کے ڈی ڈی سی ممبران کچھ متحرک ہیں مگر زیادہ تر ابھی تک اپنے اختیارات، فرائض، ذمہ داریوں اور دائرہ اختیار کو سمجھنے میں ہی لگے ہیں۔گاؤں دیہات سطح پر عام لوگوں کو DDCکی فعالیت کا احساس تبھی ہوگا، جب زمینی سطح پر مختلف محکمہ جات کے فیلڈ ملازمین اپنے فرائض کے تئیں زیادہ ذمہ داری سے کام کریں گے، جو بھی وسائل ہیں، اُن کا بہتر استعمال ہوگا، جوکام چل رہے ہیں، اُن پر معیاری کام ہوگا۔ فنڈز کا جائز اور منصفانہ استعمال ہوگا۔ کاموں کی بہتر مانیٹرنگ ہوگی۔سابقہ حکومتوں کی طرف سے شروع کئے گئے بہت سے پروجیکٹ جو اِس وقت تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں، کے معیار کویقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کی سخت ضرورت ہے لیکن اکثر دیکھاگیا ہے کہ ڈی ڈی سی ممبران یا بی ڈی سی چیئرپرسنز اِس طرف دھیان نہیں دیتے، وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ معیاری کام ہوا یا نہ ہوا ، کریڈٹ اُنہیں نہیں ملے گا، مگر ایسا سوچنا غلط ہے۔چونکہ اِس وقت نمائندگی کی ذمہ داری اُن کی ہے، ا،س لئے وہ ہرسطح پر لوگوں کے تئیں ذمہ دارہیں۔
طویل مدتی حکمت عملی
طویل مدتی حکمت عملی میں وہ پروجیکٹ یا منصوبے آتے ہیں جن کو ڈی پی آریعنی(مفصل پروجیکٹ رپورٹ)،محکمہ منصوبہ بندی سے منظوری، خزانہ محکمہ سے فنڈزکی واگذاری، کام کی ٹینڈرنگ ، الاٹمنٹ اور تعمیر وتکمیل کے مراحل سے گذرتے وقت کئی برس لگ سکتے ہیں اور اِس میں بیشتر کام ایسے ہوتے ہیں جوشاید کسی ایم ایل اے یا ڈی ڈی سی ممبر کی مدت کار میں مکمل نہ ہوں اور اِن کے زمینی سطح پر اثرات کئی برس بعد نظر آئیں۔ اس میں اسکول وکالج ،تحقیق وپیشہ وارانہ اداروں کا قیام، صحت ادارے، کھیل کے میدان، سیاحت کے حوالے سے کوئی بڑا پروجیکٹ، سڑکیں یا پُل ، روزگار منصوبہ وغیرہ شامل ہیں۔اکثر دیکھاگیا ہے۔ منتخب عوامی نمائندگان ایسے پروجیکٹوں ومنصوبوں پر اپنی زیادہ توانائی صرف کرتے ہیں اور قلیل مدتی حکمت عملی کی طرف توجہ کم مرکوز رہتی ہے جس وجہ سے اُن کے کام کاج کاعام آدمی کو کوئی احساس نہیں ہوتا ، یہی وجہ ناراضگی، مایوسی اور منتخب ممبران کے تئیں لوگوں کے بدظن ہونے کی بھی بنتی ہے۔
چونکہ اِس وقت مرکزی وزارت ِ داخلہ کے ماتحت لیفٹیننٹ گورنر سربراہی والی حکومت اور عوام کے درمیان ضلع ترقیاتی کونسلیں پُل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس وقت منتخب نمائندگان صرف وہی ہیں۔اس لئے ڈی ڈی سی ، بی ڈی سی کو چاہئے کہ وہ شارٹ ٹرم اسٹریٹجی اورلانگ ٹرم اسٹریٹجی کے درمیان توازن برقرار رکھیں۔اگر وہ اِس بات پر توجہ مرکوز کریں کہ اُن کے حد اختیار میں جتنے بھی فیلڈ ملازمین یا افسران ہیں، وہ اُنہیں اعتماد میں لیکر اُن سے بہتر کام کاج لیں اور ملازمین دیانتداری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں، لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں تندہی سے کام کریں تو قریب 70سے80فیصد تک لوگوں کے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے مختلف ترقیاتی اور فلاحی اسکیموں کے تحت اربوں کھربوں روپے واگذار کئے جارہے ہیں ، آج فنڈز کا مسئلہ نہیں ہے لیکن اُس کا زمینی سطح پر منصفانہ استعمال اہم ہے۔اگر عوامی نمائندگا ن دستیاب رقومات جو بھی ہیں، جتنی بھی ہیں، اُن کازمینی سطح پر موثرتصرف کو یقینی بناتے ہیں تو بہت مسائل حل ہوجاتے ہیں لیکن اس طرف توجہ کم دی جارہی ہے۔ لحاظ داری، رشتہ داری، حویش پروری ،کنبہ پروری اور انتخابات کے دوران کی گئی کرم نوازیاں آڑے آجاتی ہیں جس سے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ پچھلے دو سال سے خاص طور سے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم غریب بچوں کی پرائمری سطح تک پڑھائی بے حد متاثر ہوئی ہے، ڈی ڈی سی یا بی ڈی سی کو چاہئے تھاکہ وہ بہتر تجویز حکومت کو دیتے تاکہ بچوں کی پڑھائی جاری رہ سکے، مگر اِس طرف کوئی توجہ نہ دی گئی۔ ویسے اُنہیں احساس کیوں ہو، اُن کے اپنے بچے یا رشتہ داروں کے بچے تھوڑی ہی سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ ڈی ڈی سی ممبران اگر صرف سرکاری اُساتذہ کو ہی اِس بات پر آمادہ کردیتے کہ وہ اپنے فرائض بہتر ڈھنگ سے انجام دیں توبہت بڑی بات ہوتی لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ بچوں کی پڑھائی کا جونقصان ہوا ہے، اُس کی بھرپائی بہت مشکل ہے جس کا اثراُن کے آنے والے مستقبل پر بھی پڑے گا۔ منتخب عوامی نمائندگان کے لئے ذات ثانوی حیثیت رکھتی ہے، اب وہ عوام کے نمائندے ہیں اور اُن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنا ہرقول وفعل لوگوں کے وسیع مفادات کی خاطر کریں۔ ذاتی تعلقات، احسانات ، مہربانیاں، کرم نوازیاں اپنی جگہ لیکن اُس کی آڑ میں لوگوں کے وسیع مفادات پر سمجھوتہ نہ کیاجائے تو بہتر ہے۔ اُنہیں چاہئے کہ وہ اپنے حلقوں کے فیلڈ ملازمین کے ساتھ ماہانہ بنیادوں پر جائزہ میٹنگیں لیں اور اُن سے جواب طلبی کریں۔