نقطہ نظر

جموں و کشمیر میں زرعی شعبے میں روزگا ر کے مواقع
حکو متی سکیمیں مطلو بہ نتائج کے حصول میں ناکام کیوں ؟

تجمل احمد
جموں وکشمیر قابل کا شت اراضی کے اعتبا ر سے ایک انتہا ئی چھو ٹا علا قہ ہے ۔ایک پہاڑی خطہ ہو نے کے نتیجہ میں یہاں قابل کا شت اراضی کا رقبہ کا فی کم ہے ۔اعداد و شمار کے مطابق فلک شگا ف پہاڑوں سے گرے اس علاقہ کا کل رقبہ 85ہزار806مر بع میل ہے جس کا محض تیس فیصد حصہ زیر کا شت ہے ۔یہاں ایک وسیع و عریض رقبے پر پہاڑ اور جنگلا ت آبا د ہیں جو موسمی صورتحال کے اعتبا ر سے جموں و کشمیر خاص کر وادی کو سیاحوں کے ایک من چاہے مقام کی حیثیت دئے ہو ئے ہیں ۔گزشتہ تیس سال کے دوران اگر چہ جموں و کشمیر کے زرعی شعبے میں کچھ خوشنما تبدیلیاں بھی ہوئی ہیں تا ہم بہت ساری ایسی چیز یں بھی ہو ئی ہیں جنہوں نے یہاں کی آبادی خاص کر وادی کے اندر لو گوں کو اشیا ئے خور دو نو ش کے حوالے سے بھارت کی دیگر ریا ستوں کے رحم وکرم پر چھو ڑ دیا ہے اور یہ سب کچھ بہت ہی غیر محسوس طریقہ پر خود ہما رے ہی ہا تھوں ہوا ہے ۔جموںو کشمیر کا زرعی شعبہ کبھی بھی
یہاں کے عوام کے لئے روز گا ر کا معقول اور پا ئیدار وسیلہ بن کر نہیں ابھرا ہے اور اس کی کئی وجوہا ت ہیں ۔
کشمیر میں زرعی شعبے کے اندر انتہا ئی بے ہنگم طریقہ پر مختلف نو عیت کی سر گر میاں ہو رہی ہیں اور ان سر گر میوں میں چو نکہ کو ئی نظم و ضبط نہیں ہے لہٰذاء ہم بھا رت کے زرعی منظر نا مہ پر کو ئی اثردار اور قابل قدر نقوش ثبت کر نے میں لگا تا ر نا کام ہو رہے ہیں۔کشمیر کے کئی پہاڑی علا قے ایسے ہیں جہاں پر مختلف قسم کے میو ہ جا ت جن میں سیب،نا شپا تی ،چیری ،آڈو،خوبانی ،اخروٹ، بادام اور دیگر قسم کے میو ہ جا ت شامل ہیں کی معیا ر اور مقدار کے اعتبا ر سے زبر دست کا شت ہو رہی ہے ۔شوپیان ،پلوامہ ،کو لگا م ، اننت نا گ ،با رہمو لہ ،کپوارہ وغیرہ کے پہاڑی علا قوں میں عرصہ دراز سے مذکو رہ با لا میوہ جا ت کی کا شت ہو رہی ہے تاہم اس میں ایک انتہا ئی غیر معقول عنصر یہ شامل ہو ا کہ نشیبو ں علا قوں کے لوگوں نے بھی ان میو ہ جا ت کی کا شت شروع کر دی حالانکہ ان علا قوں کی آب و ہوا ان میو ہ جا ت کے لئے با لکل بھی ساز گا ر نہیں ہے ۔ستم ظریفی کی با ت یہ ہے کہ نشیبی علا قوں میں ان خشک و تر میو ہ جا ت کی کا شت کی شروعات میں حکو مت نے بڑ ھ چڑھ کر حصہ لیا اور یہاں آبا د کسانوں کی اس عمل میں حوصلہ افزائی کی ۔نتیجہ یہ ہوا کہ کشمیر کے میو ہ جا ت جو کسی زمانے میں اپنے معیار ،رسیلے پن اور رنگت کے حوالے سے پو رے عالم میں مشہور ہوا کر تے تھے اور جنہیں طبیب حضرات جسمانی بیما روں کے علا ج میں معاون و مددگا ر سمجھتے تھے ،معیار کی کسوٹی سے دھڑام سے گر گئے ۔اب بھارت کے با زاروں میں ایران ،امریکہ ،چین ،اٹلی اور دیگر یورپی ممالک سے آنے والے سیبوں کی طلب ہے اور کشمیر کے میو ہ کو کوئی پو چھتا نہیں ہے جس کے نتیجہ میں یہ صنعت روبہ زوال ہے اور اس صنعت کے ساتھ وابستہ کا رو با ریوں نے کروڑوں روپے کا گھا ٹا اُٹھا یا ہے ۔
گو شت کے استعما ل کے اعتبا ر سے جموں وکشمیر خاص کر وادی پو رے بھا رت میں پہلے نمبر پر ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ذرائع اور وسائل ہو نے کے با وجو د ہم اس شعبے میںخود انحصاری حاصل نہیں کر پا رہے ہیں ۔کشمیر کا جغرافیہ اور یہاں کے مو سمی حالات بھیڑ پا لن کے اعتبا ر سے انتہا ئی مو زون و ساگار ہیں مگر زمینی صورتحال یہی ہے کہ لوگوں کے بھیڑ پا لن شعبے سے بد ظن اور متنفر ہونے کا سلسلہ لگا تا ر جا ری ہے اور اب وادی میں گنتی کے لوگ ہی اس شعبے کے ساتھ منسلک ہیں ۔اس شعبے کے روبہ زوال ہو نے کا ایک سب سے بڑا سبب یہ بھی ہے کہ عام لوگوں نے کا ہچرائی کو دیگر مقاصد جن میں رہا ئشی مکا نوں اور کا لونیوں کی تعمیر ،اس اراضی کو زرعی سر گر میوں کے لئے استعمال کرنا وغیرہ کے لئے استعما ل کر نے میںکو ئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا اور حد تو یہ ہے کہ جنگلا ت پر بھی کہیں کہیں قبضہ کر کے زیر قبضہ زمین کو مختلف النو ع مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا ۔جس اراضی پر کسی زما نے میں دھان کے کھیت ہوا کر تے تھے وہاں آج سیب کے با غات ہیں اور یہ با ت انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ ایک طرف حکو مت لینڈ ریونیو ایکٹ زرعی اراضی کو کسی دوسرے مقصد کے لئے استعما ل کی ممانعت کر تا ہے اور دوسری جا نب سے دھا ن کے وسیع و عریض کھیتوں کو باغات میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس عمل میں متعلقہ محکمہ زمینداروں کی مدد و اعانت بھی کر رہا ہے ۔ اس طرح سے جب بھیڑبکریوں کے لئے چر نے کی کو ئی جگہ ہی نہیں رہی لہذاء ان کی تعداد میں بڑ ی تیزی سے گراوٹ آگئی اور یہ شعبہ ایک طرح سے جمود کا شکا ر ہو گیا ۔جموں وکشمیر کی حکو مت کا شیپ ہسبنڈری محکمہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کا کو ئی مثبت رول ادا نہیں کر سکا اور یہ محکمہ کبھی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے وادی کے اندر بھیڑ پالن کے حوالے سے کو ئی قابل قدر کا م کیا ہو۔
ڈائری فا رمنگ ایک ایسا شعبہ ہے جہاں جموںو کشمیر خاص کر وادی ایک نقش ثبت کر سکتی ہے اور اس حوالے سے اپنا کو ئی مقام حاصل کر سکتی ہے ۔چو نکہ وادی جا نوروں کا چا رہ پیدا کر نے کی زبر دست صلا حیت رکھتی ہے لہٰذاء دودھ کی پیدا وار میں وادی کے اندر خود انحصاری پیدا کر نے کی بھر پو ر صلا حیت ہے اور سچ تو یہ ہے کہ پچھلے پا نچ چھ سال کے دوران اس سمت میں کچھ پیش رفت بھی درج کی گئی ہے ۔وادی میں اس وقت درجنوں ڈائری فارم قائم ہیں جہاں کہیں پڑ ھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یا فتہ نو جوان بھی اس سر گر می کا حصہ بن کر نہ صرف اپنے لئے بلکہ دیگر لوگوں کے لئے بھی روز گا ر پیدا کر رہے ہیں ۔حکو مت نے اس شعبے کو بڑ ھا وا دینے کے حوالے سے ’انٹی گریٹیڈ دائری ڈیو لپمنٹ سکیم ‘کا جو د عمل میں لا یا جس کے تحت تعلیم یا فتہ بے روز گا ر نوجوانوں کو ڈائری فارم قائم کرنے کے حوالے سے نہ صرف ما ہرانہ صلا ح و مشورے دئے جارہے ہیں بلکہ ان کی ما لی اعانت بھی کی جا تی ہے ۔اس سکیم نے اگر چہ اپنے اثرات اور نتا ئج دکھا نا شروع کر دیا ہے مگر یہاں دوچیزوں کی فوری ضرورت ہے تاکہ اس سکیم سے صد فیصد نتا ئج برآمد کئے جا سکیں ۔اس سکیم سے مستفید ہو نے کے خواہشمند افراد کے لئے لوازما ت کم کئے جا نے چاہئیں اور ’’سنگل ونڈو سسٹم ‘‘ کا قیام عمل میں لا کر ان لوگوں کو ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر کاٹنے سے نجا ت دلا ئی جا نی چاہئے ۔اس سکیم کی مو ثر عمل آوری میں جو چیز ایک بہت بڑ ی رکا وٹ بن کر سامنے آئی ہو ئی ہے وہ یہ ہے کہ حکو مت یا متعلقہ محکمہ اس کی مو ثر تشہیر کرا نے میں یا تو دلچسپی نہیں لے رہے ہیں یا پھر اس جا نب ان کا دھیا ن ہی نہیں جا رہا۔اس طرح کی سکیمو ں کے لئے ضروری ہے کہ متعلقہ حکا م گائوں گا ئوں جا کر اس کے حوالے سے جا نکا ری کیمپوں کا انعقاد کریں اور لوگوں کو اس سکیم کے فوائد سے روشنا س کرا نے کے لئے ایسے افراد کی خد ما ت حاصل کی جا ئیں جنہوں نے اس شعبے میں کا میابی کے ساتھ اپنی دھا ک بٹھا ئی ہو اور اس میں مہا رت رکھتے ہوں۔
یہ با ت قابل ذکر ہے کہ حکو مت نے زرعی شعبے کی طرف بے روز گا ر نوجوانوں کو راغب کر نے کے حوالے سے اگر چہ کو ئی کمی یا کسر با قی نہیں رکھی ہے مگر یہ با ت بھی نا قابل تر دید ہے کہ سکیموں اور پروگراموں کو ضروری تشہیر نہیں دی جا تی اور نہ ہی اس حوالے سے دفا تر سے با ہر نکل کر جا نکا ری کے کیمپ منعقد کئے جا تے ہیں۔جس کے نتیجہ میں ان سکیموں کے مطلو بہ اور صد فیصد نتا ئج برآمد نہیں ہو پا رہے ۔