خبریں

جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاست کا درجہ ملے گا

وزیر داخلہ امت شاہ نے اس بات کا زوردار اعادہ کیا ہےکہ ان کی حکومت جموں و کشمیر کو ایک مناسب وقت پر مکمل ریاست دینے کا عزم رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ایسا ہوگا،تاہم امت شاہ نے سیاسی جماعتوں اورلیڈروں سے اپیل کی کہ وہ سابق ریاست کی صورتحال کوسمجھیں اور جموں و کشمیر کے لوگوں کو گمراہ کرنے والی کوئی تقریر کرنے سے گریز کریں۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا میں جموں وکشمیر تنظیم نوترمیمی بل مجریہ2021پرہوئی زورداربحث کوسمیٹے ہوئے کہاکہ جموں و کشمیر کو مناسب وقت پر ریاست کا درجہ دیا جائے گا ۔جموں و کشمیرتنظیم نو (ترمیمی) بل 2021 کی حمایت میں تقریر کرتے ہوئے ، جس میں ارونچل پردیش ، گوا ، میزورام یونین ٹیریٹری (اے جی ایم یو ٹی) کیڈر ، کے ساتھ جموں و کشمیر کیڈر کے سول سروس آفیسرز کو ضم کرنے کیلئے ایک آرڈیننس کی جگہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اس بل کا جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔مرکزی وزیرداخلہ کاکہناتھا’ہم جموں وکشمیر کو ریاست کادرجہ دیں گے۔ میں نے پہلے ہی کہا ہے کہ یہ ایک عارضی نظام ہے‘۔دفعہ370کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں 17 ماہ میں کیا ہوا کے بارے میں اپوزیشن ممبران کی جانب سے پوچھے گئے سوالات اوراُبھارے گئے نکات کے بارے میں وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ اگر آپ ہمارے کام کے بارے میں پوچھ رہے ہو تو ، آپ کے 70 سال کی حکمرانی کا کیا ہوگا؟۔امت شاہ نے کہاکہ مجھے یہ سوال کرنے سے پہلے انہیں پہلے اپنے بارے میں سوچنا چاہئے۔جموں وکشمیر میں مرکزی حکومت کے کام کا حساب دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کوئی گولی چلے بغیر ہم نے وہاں پنچایتی انتخاب کروائے اوروہاں51.5فیصدووٹنگ ہوئی ،ہم نے وہاں پنچایتی راج قائم کیا۔ بعد میں انہوں نے جموں و کشمیر میں لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے اب تک اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست دی۔وزیر داخلہ نے مزید کہاکہ جموں و کشمیر ہمارے دلوں میں ہے۔جموں وکشمیر سے 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے متعلق سماعت کے بارے میں سپریم کورٹ کی رائے کے بارے میں ایک سوال پر امت شاہ نے کہاکہ ہم اپنے قدم کے پیچھے اپنی منطق کے ساتھ تیار ہیں،لیکن کانگریس کہاں ہے؟۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہاکہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم جموں و کشمیر کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کریں گے جب تک کہ سپریم کورٹ اس معاملے پر اپنی سماعت شروع نہیں کرتی ہے۔ یہ کس طرح کی دلیل ہے؟۔جموں و کشمیر میں 2 جی اور 4 جی خدمات پر پابندی کے بارے میں ، وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ یوپی اے کا وقت نہیں ہے ، یہ مودی حکومت ہے۔ 2 جی اور4 جی پر پابندی افواہوں کو پھیلانے سے بچنے کے لئے تھی۔