نقطہ نظر

جمہوری اقدار کی آزمائش

جمہوری اقدار کی آزمائش

کلدیپ نائر

مجھے تقریباً ہر روز پاکستان سے، اور چند ایک بنگلہ دیش سے، ٹیلی فون کالز موصول ہوتی ہیں جن میں لوک سبھا کے انتخابات کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ان کا ڈر یہ ہے کہ نریندر مودی عین ممکن ہے  بھارت کا اگلا وزیر اعظم بن جائے اور ملک کی جمہوری سیاست کو خراب کر دے جس کو کہ وہ رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تاہم مجھے امید ہے کہ مودی اگلی حکومت کی سربراہی نہیں کرے گا۔ درست کہ اندرون ملک کیے جانے والے رائے عامہ کے نتائج میں بی جے پی اور مودی کی قیادت میں بننے والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) واضح اکثریت سے جیت جائے گا لیکن ان کے اندازے غیر معقول ہیں کیونکہ جنوبی ریاستوں یعنی آندھرا پردیش‘ کرناٹک‘ کیرالہ اور اوڑیسہ حتی کہ مغربی بنگال اور تامل ناڈو میں بھی اس کے حمایت میں کوئی لہریں اٹھنا تو درکنار ہلکا سا ارتعاش تک پیدا نہیں ہوا۔

وجہ یہ کہ ان ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں نے ووٹروں کو اپنی طرف مائل کر لیا ہے۔ یہاں بی جے پی کا نمایاں ہونا عبث ہے۔ جہاں تک ملک کی بعض دوسری سیاسی پارٹیوں کا تعلق ہے تو ان میں سے بعض لیڈروں نے، جنھیں کہ آر ایس ایس کی سرپرستی حاصل ہے،  مخالفین کے خلاف ایسی ایسی بدزبانی کی ہے کہ جس کے نتیجے میں ارباب دانش اور وہ لوگ جو قدرے فاصلے پر بیٹھے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اس طعن آمیز سیاست سے بے زار ہو کر منہ پھیر گئے ہیں۔یہ ایک فیشن بن گیا ہے کہ انتخابی جلوسوں میں وہ مسلمانوں کو کھلی دھمکیاں دیتے ہیں اور بعد میں کہہ دیتے ہیں کہ ان کے لیڈروں کا بیان توڑ مروڑ کر یا سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔

بہر حال یہ دیکھ کر اچھا لگا کہ بی جے پی نے پارٹی کے صوبائی لیڈروں کے ان بیانات کو مسترد کر دیا جنہوں نے کہا تھا کہ جو لوگ مودی کی حمایت نہیں کریں گے انھیں پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ یہ پارٹی نیک نامی کما سکتی تھی اگر وہ اس کی بدنامی کا باعث بننے والے لیڈر کو تنظیم سے خارج کر دیتی۔ بہر حال جموں کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ مودی کی اوچھی حرکات پر خاموش رہنے کے بجائے پاکستان چلے جانا زیادہ پسند کرے گا۔اصل بات یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کی سرپرست اعلیٰ آر ایس ایس عوام کی خواہشات کی غلط ترجمانی کر رہی ہیں۔ عوام ایک بار پھر ہندو مسلم تقسیم نہیں چاہتے۔ معاشرہ ایسے شخص کو ہر گز قبول نہیں کرے گا جو اپنی سوچ ہی کو حتمی سمجھتا ہو اور انداز تحکمانہ ہو۔

مجھے یقین ہے کہ مودی اجتماعیت کے ماحول کو خراب نہیں کر سکے گا بیشک آر ایس ایس اور بی جے پی ایسا کہتی رہیں۔ اگرچہ گجرات کے ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں مودی کو 2002ء کے مسلم کُش فسادات میں سرے سے بے گناہ قرار دے دیا ہے لیکن اس کے باوجود اس کا اس گھنائونے جرم میں ملوث ہونا چھپایا نہیں جا سکتا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ کے طور پر ہر چیز کی ذمے داری اسی کے کندھے پر آتی ہے۔ اور اس کے کچھ فرائض بھی تھے، جنھیں اس نے پورا کرنا تھا۔ اقلیتوں کی سیکیورٹی نہایت اہم ہے۔ اس نے تو ’مودی‘ کہنے سے بھی انکار کر دیا چہ جائیکہ وہ معافی کا طلبگار ہوتا۔ چند روز پہلے جب اس کو افسوس کرنے کا موقع ملا تو اس نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔اس کے باوجود اس بات کا امکان موجود ہے کہ ’’ہندوتوا‘‘ کا حامی کوئی اور شخص بھارت کا سربراہ بن جائے۔

مودی نے اپنی تقریروں میں خواہ وہ کتنی ہی جارحانہ کیوں نہ ہوں پاکستان کا لفظ استعمال نہیں کیا تاہم وہ اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو چھپانے کی خاطر اپنے صوبے کی تعمیر و ترقی کو ایک آڑ کے طور پر مسلسل استعمال کر رہا ہے۔ بعض لوگ یہ بھی خیال کرتے ہیں کہ ممکن ہے کہ مودی کو ایک دن ملک کی رنگا رنگی اور تنوع کا درست احساس ہو جائے اور وہ اٹل بہاری واجپائی جیسا لیڈر بن جائے جو پاکستان میں بھارت کا سب سے زیادہ پسندیدہ اور مقبول عام لیڈر ہے۔مودی کا ایجنڈا جو بھی ہو وہ اپنے پڑوسی پاکستان کے ساتھ خراب تعلقات رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے وہ پاکستان کے ساتھ جامع مذاکرات دوبارہ شروع کر دے جو 26 نومبر2008ء کے ممبئی پر ایک دہشت گرد حملے کے بعد سے معطل ہیں۔ مودی اور بی جے پی بیشک جو مرضی کہتے رہیں تاہم انھیں یہ احساس ضرور ہو جائے گا کہ اسلام آباد کے ساتھ قابل عمل تعلقات خود نئی دہلی کے مفاد میں ہیں۔

پاکستان‘ جہاں بنیاد پرستی کے سائے گہرے ہورہے ہیں وہاں ایک اینکر پرسن حامد میر کو گولیاں مار کر زخمی کر دیاگیا ہے۔ بہر حال عوام یہ سوچنا شروع ہو گئے ہیں کہ بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے سے جمہوریت اور آزاد خیالی کو تقویت ملے گی۔آکسفورڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالب علم مجھے گھر پر ملنے آیا۔ وہ پاکستان بھی گیا تھا اور اسے یہ بات کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی کہ اسلام آباد کو بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہئیں۔ اس کے خیال میں طالبان کی موجودگی میں پاکستان کے پاس اس کے سوا اور کوئی متبادل راستہ نہیں ہے۔ اس کو افسوس اس بات کا تھا، جو کہ مجھے بھی ہے، کہ اب آزاد خیال افراد بھی خاموش رہنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ میں نے اسے بتایا کہ بھارت بھی اسی طرز عمل کا شکار ہے۔

ایک نرم سی ’’ہندوتوا‘‘ کا نظریہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آلودہ کر رہا ہے، میں نے جواب میں کہا۔ ہم دونوں اس بات پر متفق تھے کہ دونوں ممالک کے درمیان اچھے دوستانہ تعلقات سے مفر ممکن ہی نہیں۔میری مایوسی اس بات میں ہے کہ بھارت کا جمہوری اور اجتماعیت پر مبنی معاشرہ خطے میں اپنا کردار ادا نہیں کر رہا۔ یہاں پر ادلے کے بدلے‘ پر کچھ زیادہ ہی زور دیا جاتا ہے۔ ہماری وزارت خارجہ میں ایسے افسران کی بھی کوئی کمی نہیں جن کا پاکستان کے بارے میں ایک مخصوص ’مائنڈ سیٹ‘ ہے۔ اور اپنی جارحانہ عصبیت کے مطابق موقف اختیار کرتے ہیں۔ نوجوان نسل تو مخمصے میں ہے۔ وہ روز گار چاہتے ہیں یا کاروبار میں ترقی کرنا چاہتے ہیں جو بھارت جیسا بڑا ملک انھیں مہیا کر سکتا ہے۔ اس سمت میں پیشرفت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ان دونوں ملکوں کی مخاصمت ہے۔

تاہم اس کے قصور عوام ہر گز نہیں بلکہ ذمے دار اسٹیبلشمنٹ اور ایجنسیاں ہیں۔بنگلہ دیش میں سے چند ایک افراد نے مجھے کال کیا ہے۔ ان کو بھارت کے سیکولرازم پر کوئی شبہ نہیں لیکن مودی کے جیتنے کے امکانات سے وہ ناخوش ہیں۔اپنے ملک میں جماعت اسلامی کے پروان چڑھنے کے باوجود بنگلا دیشیوں نے دیکھا ہوا ہے کہ ان کی تحریک آزادی کے دوران سیکولرازم کو کس طرح گُھن لگ گیا تھا۔ وہ اس بات کا تصور تک نہیں کر سکتے تھے کہ وہ بنیاد پرست جو بنگلہ دیش کی آزادی کے خلاف تھے ایک دن ایسے بے قابو ہو جائیں گے کہ وہ ہندوئوں کے مندروں کو ہی منہدم کرنے لگیں ۔ میرا خیال ہے کہ مذہب کا احیاء جو کہ مغرب میں بھی ہو رہا ہے، لازمی طور پر برصغیر میں بھی ہو گا۔ بھارت میں ہندوتوا کی قوتیں سب سے بڑی ہیں۔ وہ چاہیں گے کہ ملک ہندو راشٹرا بن جائے۔ لیکن یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ یہاں مختلف عقیدوں کے لوگ صدیوں سے اکٹھے رہ رہے ہیں۔

ہندو اور مسلمانوں کا اس دھرتی پر اشتراک تو ایک ہزار سال سے بھی زیادہ عرصے پر محیط ہے۔افسوس کی بات ہے کہ یہاں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں۔ اترپردیش کے علاقے مظفر نگر میں حال ہی میں جو افسوسناک واقعات ہوئے ہیں ان سے ایسے لگتا ہے کہ جیسے ہمارا میزان درست نہیں۔ ان فسادات کا شکار ہونیوالے بہر حال اپنے گھر واپس آ گئے ہیں اور معمول کے مطابق کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ سب کو یہ احساس ہے کہ وہ سب سے پہلے بھارتی ہیں اور مسلمان‘ ہندو یا سکھ بعد میں ہیں۔

بھارتی ہونے کا بندھن ملک کے چاروں کونوں کو باندھے ہوئے ہے۔آر ایس ایس‘ بی جے پی اور مہاراشٹر میں شیو سینا جیسی پارٹیوں کی وجہ سے لوگوں میں برداشت کم ہو گئی ہے۔ اس کے باوجود آئین نے یکجہتی قائم کر رکھی ہے۔ لوک سبھا کے حالیہ انتخابات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارتی عوام پارلیمانی جمہوریت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ یہ جذبات کس قدر مضبوط ہیں اس کا اندازہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب پاکستان اور بنگلہ دیش پر بنیاد پرستوں کا تسلط ہو جائے۔ مودی کے حامی اس صورتحال کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اجتماعیت پر مبنی معاشرے کے قائل ہیں، انھیں احساس ہونا چاہیے کہ اگر ملک نے دائیں کروٹ لے لی تو لڑائی پھر شروع ہو جائے گی۔

(ترجمہ: مظہر منہاس)