مضامین

جنت میں دہشت

عبدالمعید ازہری
چند ماہ کی جد و جہد کے بعدیاست جموں وکشمیر نئی حکومت کی تشکیل سے ہمکنار ہوئی۔ حکومت کی تشکیل میں جو مشکلیں تھیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ پی ڈی پی اور بی جے پی دو ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے تقریبا ایک دوسرے کے عین مخالف و مقابل نظریات اورامور پر انتخابی لڑائی میں ایک دوسرے کا سامنا کیا۔ جس کے نتیجے میںجموںبی جے پی اور ایک کشمیر پی ڈی پی کے کھاتے میں آ یا۔ دونوں کا ملنا دو الگ الگ سمت میں بہنے والے دریا کے ملن جیسا ہے۔ دونوں ہی جماعتوں نے رسک لیا اور کچھ شرائط اور سمجھوتوں کے ساتھ حکومت تشکیل دی۔ حکومت بنتے ہی پی ڈی پی کے سرپرست اور وزیر اعلیٰ نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ جن لوگوں کا شکریہ ادا کیا گیا ان میں جموں و کشمیر کے عوام و خواص کے ساتھ ساتھ  پاکستان کے بھی تھے۔ اور وہ جماعتیں بھی ہیں جن سے کسی بھی وقت تشدد پسندی کے اظہار کی امید تھی ۔ شکریہ اس بات کا تھا کہ اس پورے انتخابی عمل میں کہیں بھی کو ئی فرقہ وارا نہ حملہ یا تشدد و انتہا پسندی کا اظہار نہ ہو ا ۔ اس بیان سے کچھ لوگوں کو تکلیف ہو ئی بالخصوص بی جے پی کارکنوں کو جن کا انتخابی مہم میںزور رہا۔ یہ ہنگامہ کچھ دنوں تک میڈیا کی زبانی صدائے باز گشت کی طرح گھومتا رہا۔ وقت گذرا اور حالات دوبارہ سدھر گئے ۔ ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ ایک قیدی مسرت عالم کی رہائی کامعاملہ سامنے آیا ۔ پھر سے ایک ہنگامی صورت پیدا ہو گئی ۔ بی جے پی کے لئے کافی مشکل حالات ہو گئے ۔ شاید انہیں اس اقدام کا اندازہ نہ رہا ہو یا اس حد تک سمجھوتہ کے لئے کسی خاص مقصد کی وجہ سے رضا مندی ظاہر ہو ئی۔ لیکن ایک سوال تو ابھرا۔ آخر بی جے پی حکومت کے مرکز میں آ تے ہی جو ماحول ہندوستان میں بنا وہ سب دیکھ رہے ہیں۔ آ ج کا ہندوستان نفرت ، تشدد اور فرقہ پرستی کی آ گ میں جھلس رہا ہے ۔ اور حد تو یہ ہے کہ نفرت اور فرقہ پرستی کی تبلیغ مذہبی رہنمائوںکی زبانی رواں ہے اور یہ آگ دھیرے دھیرے ناگا لینڈ تک پہنچ گئی۔ان حالات میں بی جے پی نے کشمیر میں ان معاملات پر کیسے سمجھوتہ کر لیا ؟۔ حالانکہ جب حالات قابو سے باہر آ تے نظر آئے تو بی جے پی کے لیڈروں نے آواز اٹھا ئی اور ایک رسمی دھمکی کا اظہار کیا کہ اگر آ گے سے ایسا معاملہ پھر سے در پیش آ یا تو ہم یہ معاہدہ ختم کر دیں گے ۔ ایک وقتی تو تو میں میں کے ساتھ ایک باب بند ہوا جبکہ پی ڈی پی ذمہ داران کا کہنا تھا کہ ہم نے کچھ غلط نہیں کیا اور ہمارے نظریات،معاملات اور معاملات معاہدے سے پہلے سے واضح تھے۔ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ دوران انتخاب جس عدم تشدد اور فرقہ وارانہ فسادات نہ ہو نے کی بات کی گئی تھی وہی سامنے آ گیا ۔ ایک تھا نے پر حملہ اور دیگر کئی حملوں کی خبروں سے اخبار کے صفحات سرخ و سیاہ ہو گئے ۔ جیسے ایک ٹھہرے ہو ئے دریا میں طغیا نی آ گئی ہو ۔ حالانکہ کہا تو یہ جا تا ہے کہ کسی بھی طغیا نی سے پہلے دریا کا سکوت خود آ نے والی لہروں کا اشارہ ہو تا ہے ۔ تو کیا ما ن لیا جا ئے کہ ایسا تو ہو نا ہی تھا؟۔ یوں تو دہشت گردانہ حملے اور اس کے جواب میں فوجی اقدام ریاستِ جموں وکشمیر بالخصوص کشمیر کے لئے نئے نہیں ۔ فلسطین کی طرح کشمیریوں کی بھی قسمت میں خو ف و دہشت لکھ دی گئی ہے ۔ ہر صبح کا اگتا سورج اپنی کرنوں میں روشنی کے ساتھ کسی بھی وقت درپیش خطرات لے کر آ تا ہے ۔ جب ہم کشمیر کے جغرافیا ئی کیفیت کی بات کریں تواس وادی میں قدرت کے عجیب و غریب کرشمے نظر آ تے ہیں ۔ چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہو ئی وادی جو سینکڑوں میل تک محیط ہے ۔ مختلف انواع و اقسام کے پھلوں اور میوں کے باغات کے درمیان جھیلم کے پانی اور زعفران کی کھیتی نے اس دادی کو مزید خوبصورت اور بیش قیمت بنا دیا ہے ۔ گردو نواح کے مناظر ایسے ہیں کہ ایک جھلک میں ہی تمام تر الجھنیں اور ذہنی تھکان کا فور ہو جا تی ہے ۔ دور درا ز سے لوگ دل بہلانے اور اپنے غموں کے ہلکان کے لئے کشمیر کا رخ کر تے ہیں ۔ بعض کا خیال ہے کہ جس جنت کا ذکر ہم کتابوں میں سنتے آئے ہیں وادیٔ کشمیر اس کی ایک جھلک ہے ۔ وادیٔ کشمیر کے دامن میں جنت سا سماں ہے ۔ یہ خوبصورت وادی اپنے دلفریب اور خوشنما مناظر سے لوگوں کے غموں کو دور کرنے کا کام کرتی ہے۔ اس وادی میں جہاں ایک طرف قدرت کے عجیب وغریب مناظر اور شاہکار ہیں وہیں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس وادی میں بسنے والے ہر انسان کے صبح و شام خوف وحراس میں گزرتے ہیں۔ جب وہ رات کو سوتا ہے تو صبح کے بارے میں یہی فکر رہتی ہے کہ نہ جا نے صبح کس کی ہو اور کیسی ہو ۔ رات کی تاریکی اور سناٹے کو فنا کر نے والی صبح نہ جا نے کو نسی نئی مصیبت لے کر آ ئے اور اب کس کا گھر دھواں آشیانہ خاکستر اورعزیز ہلاک ہوں ۔ یہ وہ وادی ہے جس کی ہر صبح دہشت زدہ اور رات غم آ لو د ہوتی ہے ۔ جب بچے والدین کو الوداع کہتے ہیں تو والدین اس وقت تک فکر والم میں رہتے ہیں جب تک بچے واپس نہ آ جا ئیں ۔ کیونکہ نہ بازار محفوظ ہے نہ اسکول ۔وہ تو بھلا ہوموبائل فون کاکہ ایک دوسرے کے زندہ ہونے کی خبر مل جا تی ہے۔ دنیا کی جنت کہی جا نے والی وادی میں عجیب سی دہشت گھر کئے ہو ئے ہے جو کسی بھی طرح سے جانے کا نام نہیں لیتی ۔یہ دہشت ایک کے بعد دوسری اس کے بعد تیسری نسل تک آ گئی لیکن خوف ودہشت کا ماحول اپنی جگہ قائم ہے ۔ کبھی اُدھر کی بندوقیں ان بے گناہ شہریوں کی کنپٹیوں پر ہو تی ہیں تو کبھی جواب میںان کے سینے  ادھر کے گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔ دونوں طرف سے عام بے گناہ شہری کا مرنا لازمی ہے ۔ وادیٔ کشمیر کا دورہ کرنے والوں پر یہ بات مخفی نہ ہوگی کہ جتنی کشمیر کی آ بادی ہے اتنی ہی وہاں پر فوج دکھتی ہے ۔ ہر پانچویں گھر کی چھت پر فوجی بندوقیں تانے تیار کھڑے ہیں ۔ ہر گلی ،نکڑ اور چوراہے پر تنی ہو ئی بندوقیں دکھا ئی دیتی ہیں ۔ اتنے سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود دہشت گرد وں کی مسلسل آ مد اور حملہ ایک سوال کھڑا کر تا ہے جو کہ افسوس ناک اور باعث الم ہے ۔ کئی بار اعلان ہو تا ہے اور منصوبہ بنایا جا تا ہے کہ اب کشمیر، جو فوجی چھائو نی میں تبدیل ہو چکا ہے، کو مزید فوجیوں کے بار خرچ سے آزاد کیا جا ئے لیکن نہ جا نے کیسے عین اسی دوران یک بیک حملہ ہوتا ہے اور حالات پھر سے کشیدہ ہو جا تے ہیں ۔ نیتجتاً منصوبہ بالائے طاق چلا جا تا ہے جو اب تک بدستور جا ری ہے۔ وہاں کی سیاسی نمائندگی بھی قابل غور ہے۔ قتل وخون ،نفرت و تشدد کے کئی سال گزرنے کے بعد کشمیر میں بسنے والوں نے امید نہ چھوڑی ۔ آج حالات پہلے سے بہت بہتر ہیں ۔ خوف و دہشت کا ماحول قدرے کم ہے ۔ لوگوں نے تعلیم کو ہتھیار بنا کر اس نفرت کے ماحول کے خلاف استعمال کیا ۔ اس میں قدرے کامیابی حاصل ہو ئی ۔ انہوں نے اپنے آ پ کو سنبھا لا اور دنیا کی جنت کہی جا نے والی اس وادی کی تعمیر و ترقی کے لئے اقدامات کئے ۔ امید ہے آ نے والے دن اچھی خبر کے ساتھ آئیں گے ۔دورِ حاضر کے ایک مفکر کا ما ننا ہے کہ یہ وادی اگر اتنی سرد نہ ہو تی تو شاید اس خطے کے لئے عالمی جنگ چھڑ جا تی ۔ میرا ما ننا ہے اگر اس وادی سے یہ دہشت اور خوف ختم ہو جا ئے تو پھر سے یہ وادی اسی جنت کا لطف دے گی جس کے لئے یہاں کے نظارے مشہور ہیں ۔
mail:abdulmoid07@gmail.com