سرورق مضمون

جنوبی کشمیر میں جنگجووں کا دن دہاڑے حملہ / دوسیکورٹی اہلکار ہلاک ، ایک کی بندوق اڑالی گئی

ڈیسک رپورٹ
جنوبی کشمیر کے سنگم علاقے میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب یہاں جموں سرینگر قومی شاہراہ پر تعینات دو سی آر پی اہلکاروں کو گولیاں مارکر ہلاک کیا ۔ عسکریت پسند ہلاک کئے گئے اہلکاروں میں سے ایک کی سروس رائفل بھی اڑا کر لے گئے ۔ جنگجو جائے وقوع سے بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ سخت تلاش کے باوجود تاحال ان کو گرفتار نہیں کیا جاسکا نہ پولیس نے ان کی شناخت کے بارے میں کچھ کہا ہے ۔ پولیس اور فوج نے واقعہ کے فوراََ بعد کئی علاقوں کی ناک بندی کی، جگہ جگہ سڑکوں پر تلاشی کاروائی کی گئی اور کئی جگہوں پر چھاپے بھی مارے گئے ۔ لیکن کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنگجووں نے کاروائی منظم طریقے سے کی اور اپنا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑا۔ اس وجہ سے پولیس اب تک کوئی اتہ پتہ معلوم کرنے میں ناکام رہی ہے ۔
جنوبی کشمیر میں سی آر پی ایف کے دو اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ ہی گھنٹے پہلے ریاست کے وزیراعلیٰ نے جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں کا دورہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے دورے میں اننت ناگ کے کئی علاقوں میں جاکر وہاں بہت سے مسائل سے متعلق جانکاری حاصل کی۔ا پنے دورے میں انہوں نے سیر جاگیر ، پہلگام اور آڑو کے کئی عوامی وفود سے ملاقات کی۔ اس کے اگلے روز جنگجووں نے اسی علاقے میں کاروائی کی اور سیتھر سنگم کے نزدیک دو اہلکاروں پر نزدیک سے گولیاں مارکر ہلاک کیا۔ ان میں سے ایک اہلکار آفیسر رینک کا بھی بتایا جاتا ہے۔ اس طرح سے جنگجووں نے ایک بار پھر جنوبی کشمیر میں اپنی موجودگی اور بالا دستی کا اظہار کیا۔ یاد رہے یہ علاقہ وزیراعلیٰ مفتی سعید کے آبائی قصبے بجبہاڑہ کے نزدیک ہے واقع ہے اور یہاں رات دن سیکورٹی دستوں کا سخت پہرہ رہتا ہے۔ جگہ جگہ سیکورٹی دستے تعینات ہونے کے علاوہ گشتی پارٹیوں کا چکر بھی جاری رہتا ہے۔ اس کے باوجود یہ حملہ کیا گیا اور بڑی چالاکی کے ساتھ انجام دیا گیا ۔ یہ حملہ اپنی نوعیت کا اہم حملہ ہے ۔ اس سے پہلے کئی موقعوں پر جنگجووں نے دوردراز اور پہاڑی علاقوں میں کئی حملے کئے ۔ لیکن قومی شاہراہ پر دن دہاڑے یہ اپنی نوعیت کا بہت ہی کامیاب حملہ ہے۔اس طرح سے جنگجووں نے حکومت کا یہ دعویٰ کہ کشمیر میں ملی ٹنسی پر قابو پایا گیا بالکل غلط ثابت کیا۔ سنگم میں ہوئے اس حملے پر مین اسٹریم جماعتوں نے   بیانات ایک بار پھر جاری کئے ۔ تمام سیاسی حلقوں نے اسے ایک بزدلانہ کاروائی قرار دیا ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام پر ان بیانات کا کوئی اثر نہ ہوا اور لوگ اسے جنگجووں کی ایک کامیاب اور اہم کاروائی قرار دے رہے ہیں۔ اسے عسکریت حامی حلقوں کو کافی حوصلہ ملا ہے ۔ یہ کاروائی ایک ایسے ماحول میں ک گئی جب سرینگر سے لے کر دہلی تک میڈیا کے تمام کارندے سرینگر اور ترال میں سیدعلی گیلانی کی طرف سے کئے گئے جلسوں میں پاکستانی جھنڈے لہرانے پر واویلا کررہے ہیں۔ اس کے باوجود یہ حملہ کیا گیا ۔ اس حوالے سے عجیب بات یہ ہوئی کہ سیکورٹی ایجنسیوں نے جنگجووں کو پکڑنے کے لئے کئی علاقوں میں ناکے لگاکر گاڑیوں کی تلاشی کی لیکن کامیابی نہ ملی۔ یہاں تک کہ واقعے کے فوراََ بعد وچی ، شوپیاں اور ترال کے علاقوں میں مسافر گاڑیوں کی بڑے پیمانے پر چیکنگ کی گئی لیکن کہیں سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا ۔اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سٹریجی میں تبدیلی لارہے ہیں ۔ سی آر پی ایف کے سربراہ نے اعلان کیا ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں پر حملوں خاص کر بندوق چھیننے کے واقعات پر قابو پانے کے لئے ایک پلان ترتیب دیا گیا ہے ۔ سی آر پی ایف کے ڈائریکٹر جنرل نے سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ جنگجو پچھلے کئی مہینوں سے ہمارے اہلکاروں کی بندوقیں چھین رہے ہیں اور ان کی اس پریکٹس پر تا حال قابو نہیں پایا جاسکا ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا بڑا مشکل ہے کہ اس طرح کی مزید وارداتوں پر جلد ہی قابو پایا جاسکے ۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی فورس اس حوالے سے جلد ہی نئی حکمت عملی اپنا رہی ہے تاکہ ایسے واقعات کو کم کیا جاسکے۔تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات سامنے نہیں لائیں ۔