سرورق مضمون

جنوبی کشمیر پر کرفیو کا نفاذ ، لوگ یرغمال شوپیان میں بارہ دن بعد کرفیو میں نرمی

جنوبی کشمیر پر کرفیو کا نفاذ ، لوگ یرغمال شوپیان میں بارہ دن بعد کرفیو میں نرمی

ڈیسک رپورٹ

شوپیان میں سی آر پی ایف کے ہاتھوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد عوامی احتجاج کو روکنے کے لئے انتظامیہ نے وہاں کرفیو لگا دیا ۔ اس کے ساتھ اننت ناگ ، کولگام اور پلوامہ کے بعض علاقوں میں بھی کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا ۔ کرفیو کا یہ اطلاق کئی دن تک جاری رہا۔ اس سے امن وامان قائم تو ہوا البتہ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔سب سے زیادہ قہر شوپیان کے عوام پر نازل ہوا جہاں برا بر بارہ دن تک کرفیو جاری رہا اور لوگ گھروں سے باہر آنے سے روک دئے گئے۔ اس دوران وہاں فورسز اہلکار بڑی تعداد میں تعینات کئے گئے جنہوں نے لوگوں کو گھروں سے باہر نہیں آنے دیا ۔ پھر بارہ دن کے بعد شام کو کرفیو میں کچھ ڈیل دی گئی۔ اس دوران امن و امان کی صورتحال قدرے بہتر رہی تو اگلے دن کرفیو ہٹا لیا گیا ۔ لوگوں نے شکایت کی کہ ان بارہ دنوں کے دوران وہاں گھروں میں قید لوگوں کو خوردونوش اور دوائی حاصل کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ انتظامیہ نے ان الزامات کی تردید کی کہ ایمرجنسی کی صورت میں لوگوں کو باہر آنے نہیں دیا گیا۔ تاہم لوگوں کو جن مشکلات سے دوچار ہونا پڑاوہ قہر وغضب کے حالات تھے ۔ طلبہ تعلیمی سال کے اس اہم مرحلے پرجبکہ ان کے امتحانات نزدیک ہیں، وہ اپنی تعلیم پر توجہ مرکو زنہ کرسکے۔ اسی طرح لوگوں نے طبی سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت بھی کی ہے ۔
شوپیان میں کرفیو 7ستمبر کو اس وقت لگایا گیا جب نزدیکی بستی گاگرن میں قائم سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکاروں نے چار نوجوانوں کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ ابتدا میں ان اہلکاروں نے دعویٰ کیا کہ مارے گئے نوجوان ایک جنگجو تنظیم سے وابستہ بندوق بردار ہیں۔ لیکن لوگوں نے ان کے اس دعوے کی تردید کی اور احتجاج کرتے ہوئے ان کے عام شہری ہونے کا اعلان کیا۔ ان ہلاکتوں کے خلاف جب احتجاج بڑے پیمانے پر ہونے لگا اور امن و امان درہم برہم ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا تو انتظامیہ نے پورے علاقے میں کرفیو لگایا ۔ بلکہ پورے جنوبی کشمیر پر قدغن لگا یا گیا۔لوگوں کی نقل و حمل زبردستی روک دی گئی اور پورا جنوبی کشمیر سنسان پڑارہا۔سرکاری ملازم دفتر جانے سے قاصر رہے ۔ اسکول اور تمام کاروباری ادارے بند رہے اور سارا کام کاج ٹھپ پڑ ا رہا۔ یہ ایام جنوبی کشمیر میں لوگوں کے لئے کافی اہم ہیں ۔ ایک طرف خریف کا موسم ہے۔ شالی کاٹنے کے ایام ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سیب اتارنے اور ملک کی مختلف منڈیوں میں بھیجنے کا زمانہ ہے ۔ اس حوالے سے بتا یا گیا کہ فورسز اہلکاروں نے سیب کھانے کے علاوہ بہت سا میوہ درختوں سے نیچے پھینک دیا ہے جس وجہ سے ان کی پیٹیوں میں بھرائی اور فروخت کئے جانے کا کوئی امکان نہیں رہا ہے ۔ کسانوں اور باغ مالکان کو سخت نقصان سے دوچار ہونا پڑا۔یہ عجیب بات ہے کہ جنوبی کشمیر میں ایک ہفتے تک اور شوپیان میں بارہ روز تک کرفیو نافذ کیا گیا ۔ انتظامیہ نے کسی کا مشورہ سنے بغیر سخت کرفیو نافذ کیا اور لوگوں کو گھروں میں اتنے دنوں تک قید کررکھا ۔ لوگوں کے پاس خورد ونوش کا سامان ختم ہوگیا اور کچھ لوگوں نے شکایت کی کہ انہیں اپنے اہل و عیال سمیت فاقہ کے دن گزارنے پڑے ۔ اس میں کہاں تک حقیقت ہے وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ البتہ کرفیو میں ڈیل ملتے ہی لوگ جس طرح بڑے پیمانے پر خورد و نوش کا سامان خریدنے کی غرض سے دکانوں کی طرف دوڑ پڑے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔
اس دوران علاحدگی پسندوں نے شوپیان واقعے کے خلاف سخت شور مچایا۔ سید علی گیلانے نے کئی روز تک ہڑتال کرنے کی اپیل کی جس پر لوگوں نے عمل بھی کیا ۔ میرواعظ عمرفاروق اپنے حریت گروپ کی ایکزیکیٹیو کااجلاس بھی بلایااور پریس کانفرنس بلانے کااعلان کیا۔ انتظامیہ نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا ۔ تاہم انہوں نے کرفیو جاری رہنے کی صورت میں جمعہ کے روز شوپیان مارچ کااعلان کیا۔ ادھر پی ڈی پی رہنما محبوبہ مفتی نے کرفیو نہ ہٹانے کی صورت میں شوپیان میں دھرنا دینے کااعلان کیا ۔ اس طرح کی صورتحال کے بعد شوپیان سے کرفیو ہٹائے جانے کااعلان کیاگیا۔
کشمیر میں معمولی طرح سے بھی بات بگڑ جائے تو کرفیو نافذ کیا جاتا ہے ۔ ڈویژنل اور ضلع انتظامیہ کو کرفیو کے سوا کچھ سوجھتا نہیں ہے۔ کرفیو لگاکر اپنے کام تو نکالا جاتا ہے لیکن عوام کو سخت مشکلات سے دوچار کیا جاتا ہے ۔ خاص طور سے سرینگر کے ڈاون ٹاؤن علاقے میں یہ بات بڑی عام ہے۔ یہاں ہر جمعہ کو جامع مسجد کے آس پاس کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح حریت سربراہوں کو گھروں میں نظر بند رکھا جات ہے ۔ حریت (گ) کے سربراہ سید علی گیلانی ایک سال سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں ۔ انہیں کہیں آنے جانے نہیں دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ علاحدگی پسند لیڈروں نے دھمکی دی ہے کہ کرفیو نہ ہٹایا گیا تو وہ شوپیان پہنچ جائیں گے ۔