سرورق مضمون

جنگ نہیں بات چیت ہوگی: (سشما ) /مودی شرفف کی نئی اننگز / اگلے ماہ پھر ملاقات کا امکان

جنگ نہیں بات چیت ہوگی: (سشما ) /مودی شرفف کی نئی اننگز /  اگلے ماہ پھر ملاقات کا امکان

ڈیسک رپورٹ

ہند وپاک کے وزرا ء اعظم کے درمیان اگلے ماہ سوئزر لینڈ میں ملاقات کا امکان ہے۔ دونوں وزراء اعظم وہاں ایک کانفرنس میں شرکت کے لئے جارہے ہیں۔ وہاں دونوں کے درمیان ملاقات ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہاہے ۔ ملاقات کے بارے میں اگرچہ کوئی تفصیل سامنے نہیں لائی گئی ہے تاہم کئی حلقوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی دنوں سے جو ماحول بن رہاہے اس کو دیکھ کر دونوں کے درمیان ملاقات کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ دونوں طرف کے کئی حلقے اس وجہ سے تذبذب کا شکار ہیں کہ آخر بات چیت کا ایجنڈا کیا ہے۔ اس کے باوجود کئی حلقے امید ظاہر کررہے ہیں کہ ماحول میں کافی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب کی نظریں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر لگی ہوئی ہیں ۔
کئی دن پہلے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ ہندو پاک کے درمیان اتنی جلد دوستی کا ماحول بن جائے گا ۔ لیکن پیرس ملاقات نے سب کچھ تبدیل کردیا اور دشمنی بہت جلد دوستی میں بدل گئی ۔ مودی نواز کے درمیان پیرس میں بس دو منٹ کی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں کے درمیان علیک سلیک سے زیادہ کوئی بات نہ ہوئی ۔ لیکن دو منٹ کی اس ملاقات نے بہت بڑی تبدیلی لائی اور کل کے دشمن آج کے دوست نظر آتے ہیں۔ اس دوران ایشیا ہارٹ کانفرنس میں شرکت کے لئے سشما سوراج اسلام آباد پہنچ گئی۔ یہاں اس نے مودی نواز دوستی کے گیت گانے شروع کئے ۔ لگتا نہیں ہے کہ یہ وہی سشما سوراج ہے جو کچھ دن پہلے پاکستان کے خلاف سخت بیان بازی کرتی تھی۔ لیکن اچانک ان کے رویے میں تبدیلی آگئی۔ سشما جی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ہے بلکہ پاکستان کے ساتھ دوستی کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ اس درمیان ہندوستان کے سخت گیر وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کو بڑھاوا دینا از حد ضروری ہے ۔ اس درمیان کشمیر میں لوگ سخت حیران ہیں کہ اتنی بڑی تبدیلی کیسے ممکن ہوئی۔ حریت (م) نے اپنے بیان میں دونوں ملکوں کے درمیان تازہ دوستی اور مفاہمت پر خوشی کااظہار کیا ہے ۔ حریت(گ) نے ایک وفد دہلی بھیجدیا جس نے وہاں پاکستانی ہائی کمشنر سے ملاقات کی۔ حریت وفد نے دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر سے کیا کہا اس کی تفصیل نہیں بتائی گئی ۔ البتہ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی ہائی کمشنر نے وفد کو یقین دلایا کہ مذاکرات کے دوران کشمیر کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور کشمیری عوام کے جذبات کو مدنظر رکھا جائے گا ۔ حریت وفد نے واپس آکر کوئی تفصیل نہ بتائی ۔ البتہ ان کی خاموشی کو ان کی مایوسی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ بات چیت کس ایجنڈا پر ہوگی۔ ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر بات چیت ہوگی۔ اسلام آباد میںہندوستانی سفیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک پاکستانی زیرانتظام کشمیر پر بات چیت کرے گا ۔ اس سے حالات بگڑنے کا خطرہ تھا ۔ تاہم ان کے بیان کو زیادہ اہمیت نہ دی گئی اور بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا گیا ۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ دونوں ملک ایک بار پھر بات چیت کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔ اس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کا امکان ہے ۔ یہ دونوں ملکوں کے عوام کے لئے بہت ہی بہتر ماحول فراہم کرے گا ۔