نقطہ نظر

جنگ نہیں مفاہمت

کلدیپ نائر
کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ بنا دیا گیا ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے بھارت کے ساتھ الحاق کے سترسال بعد بھی وادی میں باغیانہ سوچ کا غلبہ ہے جہاں تک بھارت کا تعلق ہے تو اس کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وادی کے حالات معمول پر آتے ہی وہاں استصواب رائے کرا دیں گے لیکن وہ وعدہ پورا نہ کر سکے۔ نہرو کا خیال تھا کہ حالات نعرہ بازی تک ہی محدود رہیں گے لیکن دونوں فریق مذہبی معاملات میں اس قدر جذباتی ہو جاتے ہیں کہ اجتماعیت کے نظریہ کو طاق نسیاں پر رکھ دیتے ہیں۔ جب کشمیر کے مانے ہوئے لیڈر شیخ عبداللہ نے بھارتی یونین میں شمولیت اختیار کی تو ساتھ میں یہ بھی کہا کہ انھیں کشمیر میں استصواب رائے کرانے اور بھارت میں شامل ہونے کی عوامی تائید حاصل ہے اور ان کے یہ کہنے پر ہی بھارت کے ساتھ الحاق مکمل ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ اوڑی میں جو ہوا وہ مرض کی علامت ہے مرض نہیں۔ بیماری کو سمجھنے کے لیے ان نوجوانوں کو دیکھنا ضروری ہے جو کشمیر میں اس باغیانہ تحریک کی قیادت کر رہے ہیں‘ وہ اپنا الگ ملک چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے کچھ لوگ بھی پاکستان سے مقاطع پر تلا نظر آتا ہے وہ بھی اپنا الگ ملک چاہتے ہیں۔ اگر کشمیریوں کو اس کی اجازت دیدی گئی تو ہماری سرحد کے اندر ایک اور اسلامی ملک کھڑا ہو جائے گا۔
حال ہی میں کشمیری طلبہ کی دعوت پر سرینگر گیا تھا اور انھیں بتایا تھا کہ لوک سبھا آپ لوگوں کو اس کی اجازت دینے کے موڈ میں نہیں ہے ان کا جواب تھا کہ ’’یہ آپ کا مسئلہ ہے، کہ آپ اس تنازعے کو حل کس طرح کرتے ہیں۔‘‘ کشمیری نوجوانوں کی طرف سے آزاد ملک کا مطالبہ ویسا ہی ہے جیسا ان کے لیڈروں یٰسین ملک اور شبیر شاہ کا چند برس پہلے تھا تاہم یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی وادی کے عوام کے لیے اب اور زیادہ اہمیت ہو گئی ہے کیونکہ انھوں نے خودمختاری کا لفظ ترک کر کے آزاد ملک کا نام لینا شروع کر دیا ہے۔
سرحد پر متعین فوجیوں پر ان کا حملہ ان کے غیظ و غضب کا ایک اظہار تھا۔ پاکستان کو بھی آب و ہوا میں مناسبت دکھائی دے رہی ہے چنانچہ وادی میں دراندازیاں فزوں تر ہیں لیکن بھارت کی طرف سے پہلی مرتبہ نہیں ہوا اور نہ ہی یہ آخری مرتبہ ہوا ہے‘ اس قسم کے بہت سے واقعات پیش آتے رہے ہیں مثلاً بھارتی پارلیمنٹ‘ ممبئی اور پٹھانکوٹ پر حملے۔ ایسے ہر واقعہ کے بعد ملک سے جنگ کی چیخ بلند ہوتی ہے اور جوابی کارروائی کی دھمکیاں۔ چنانچہ اس مرتبہ تو حکومت پر دباؤ کچھ زیادہ ہی شدید تھا جس نے عوام کو بتایا کہ بدلہ اپنی مرضی کے موقع پر لیں گے لیکن لوگ ہیں کہ برسر زمین کچھ دیکھنا چاہتے ہیں‘ خواہ یہ جنگ ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے یاد ہے پارلیمنٹ، ممبئی اور پٹھانکوٹ پر حملے کے فوراً بعد کیا ہوا تھا۔ اس وقت سرحد پر فوجی دستے کھڑے کر دیے گئے جو تقریباً پورا سال یا اس سے بھی زیادہ وہاں رہے مگر اس مرتبہ غصہ زیادہ گہرا اور وسیع ہے۔
اس کے باوجود حکومت ضبط کا مظاہرہ کر رہی ہے گو وزیراعظم نریندر مودی نے یقین دہانی کرا دی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے سزا سے نہیں بچ سکیں گے‘ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ان تمام محدودات کا بخوبی علم ہے جن میں منتخب حکمران گھرے ہوتے ہیں بالخصوص اس صورت میں جب کہ دونوں طرف ایٹمی طاقتیں برسرپیکار ہوں لیکن مجھے جس بات کی سمجھ نہیں آ رہی وہ ہے کہ آخر اسلام آباد ان دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرنے سے کیوں ہچکچا رہا ہے جو پاکستان میں شناخت بھی کیے جا چکے ہیں۔ پاکستان نے دہشتگردوں کے خلاف جو کچھ بھی کیا ہے وہ بھارت کے کہنے پر نہیں کیا بلکہ امریکا کے کہنے پر کیا ہے۔
بھارت میں بھی جنگی جنونی موجود ہیں لیکن محض چند البتہ یہ سب مانتے ہیں کہ امن کا کوئی متبادل نہیں ہے یہ دونوں ملکوں کے سیاستدانوں کے لیے بھی ایسا وقت ہے کہ دونوں کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا ہو گا۔ خواہ وہ جنگ کا ذکر نہ بھی کریں مگر ان کی زبانوں اور باڈی لینگوئج سے دوستی کا کوئی احساس نہیں ابھرتا۔ آخر وہ کیوں نفرت کے شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں جب کہ دونوں اطراف کے لوگ پہلے ہی بھڑکے ہوئے ہیں۔
فرانس اور جرمنی نے سیکڑوں سال آپس میں جنگیں لڑی ہیں مگر آج وہ بہترین دوست ہیں۔ یہ بات قائداعظم محمد علی جناح نے کہی تھی جب میں نے ان سے کہا کہ اگر انگریز نکل گئے تو ہندو مسلمان ایک دوسرے کے گلے پر جھپٹ پڑیں گے۔ قائداعظم کا کہنا تھا کہ وہ بہترین دوست بن سکتے ہیں۔ مجھے کوئی شک نہیں کہ ایک دن یہ ہو کر رہے گا۔ سابق وزرائے اعظم اٹل بہاری واجپائی اور منموہن سنگھ دونوں نے کئی مرتبہ کہا کہ قسمت نے دونوں ملکوں کو اکٹھا پھینک دیا ہے لیکن وہ اچھے پڑوسی نہیں بن سکے مجھے لوگوں کی جرات اور عزم پر فخر ہے خواہ ان کی تعداد کتنی ہی کم کیوں نہ ہو کراچی میں موم بتیاں روشن کرتے ہیں لاہور میں جلوس نکالتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب بھارت کو فہم و شعور کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور یہی وقت ہے جب دونوں ملکوں کی اچھی نیت کی پرکھ بھی ہو سکتی ہے لیکن ساتھ ہی پاکستان کو بھی تو بھارت کے غصہ کا اندازہ ہونا چاہیے۔
ممکن ہے ممبئی اور پٹھانکوٹ پر حملہ کرنے والے القاعدہ یا طالبان کے لوگ ہوں جنہوں نے پاکستان میں بھی مصیبت کھڑی کر رکھی ہے آخر انھیں کھلا کس نے چھوڑ رکھا ہے بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد ان میں سے پکڑے بھی گئے تھے لیکن انھیں بھی رہا کر دیا گیا جو زہریلی گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہے جسے آپ نے گھر کا مین گیٹ بند کر دیا ہو مگر عقبی دروازہ کھلا رکھا ہو۔ عالمی طاقتوں میں سے جرمنی کے سوا اور کسی نے براہ راست پاکستان پر الزام نہیں لگایا جب کہ بھارت میں یہ خیال عام ہے کہ ہر ایسے واقعے میں ملوث شدت پسند پڑوسیوں کی رسائی میں ہیں۔ بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) جو اوڑی کے واقعہ کی تحقیقات بھی کر رہی ہے۔ این آئی اے 2009ء میں اسی قسم کے ایک واقعہ کے بعد عوامی دباؤ پر قائم کی گئی تھی لیکن اب تک اس کی کوئی تحقیقات کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکی۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)