سرورق مضمون

جوبائیڈن وھایٹ ہائوس کا نیا مکین!/ بہار میں بھاجپا کی جیت، جموں کشمیر سرگرم

سرینگر ٹوڈےڈیسک
امریکہ میں ہوئے صدارتی انتخابات میں جوبائیڈن نے میدان مارکر موجودہ صدرڈونالڈ ٹرمپ کو شکست دے دی ۔ ٹرمپ نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کیا ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے انتخابات میں دھاندلی کی ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ وہ عدالت جاکر نتائج کو چیلنج کریں گے۔ جوبائیڈن نے ٹرمپ کی اس ہٹ دھرمی کو افسوسناک قرار دیا ۔ امریکہ میں ہوئے ان انتخابات کے حوالے سے جو پیش گوئیاں کی گئی تھیں ان میں ٹرمپ کی شکست پہلے ہی ظاہر کی گئی تھی ۔ اس کے باوجود اس نے اپنی ہار ماننے سے انکار کیا۔ 3نومبر کو ہوئے انتخابات کے نتائج6 نومبر کو سامنے آئے ۔ ووٹ شماری کے آخری مرحلے پر بائیڈن نے ٹرمپ کو پیچھے چھوڑدیا ۔ پنسلونیا اور جارجیا میں بائیڈن کو توقعہ سے زیادہ حمایت ملی ۔ اس دوران ٹرمپ کے حمایتیوں نے کئی جگہوں پر احتجاج کرنے کی کوشش کی اور ووٹ شماری کو فراڈ قرار دیا ۔ تاہم ووٹوں کی گنتی جاری رہی جس کے مطابق جو بائیڈن کو 273 الیکٹورل ووٹ ملے ۔ بائیڈن کے مقابلے میں ٹرمپ نے صرف 214 الیکٹورل ووٹ حاصل کئے۔ یہ نتائج بحال رہے اور عدالت کی طرف سے کوئی اثر نہ ڈالا گیا تو جوزف بائیڈن وھایٹ ہائوس پہنچنے والے 46 ویں صدر ہونگے ۔ بائیڈن نے اس کامیابی کو تاریخی فتح قرار دیا ۔ کامیابی کے بعد اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ جیسے عظیم ملک کی قیادت کرنا ان کے لئے ایک اعزاز کی بات ہے ۔ اس الیکشن کے حوالے سے یہ بات بہت ہی اہم مانی جاتی ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک سیاہ فام خاتون کو نائب صدر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا ۔ ہندی نژاد اس امریکی خاتون نے امریکہ کا نائب صدر نامزد ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ۔ ٹرمپ کے حوالے سے یہ بات بڑی عجیب ہے کہ اس کی ہار کے ساتھ دنیا بھر میں اس کی برائی اور بائیڈن کی تعریف کی جارہی ہے ۔ ٹرمپ کو ایک مغرور، شرارتی اور نسل پرست شخص قرار دیا جارہاہے ۔ ان کے بارے میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ انہوں نے دنیا کے عوام میں امریکہ کے خلاف نفرت پھیلانے میں ایک اہم رول ادا کیا ۔ ان کی کوشش تھی کہ سفید رنگ کے لوگوں کے مفادات کی حفاظت کی جائے تاکہ ان کے ووٹ آسانی سے حاصل کئے جائیں ۔ دوسری قوموں کو انہوں نے اپنے دور میں مبینہ طور پوری طرح سے نظر انداز کیا ۔ اس وجہ سے ان کے بارے میں کہیں بھی اچھے خیالات کا اظہار نہیں کیا گیا ۔ اس کے برعکس جو بائیڈ کو ایک اعتدال پسند شخص بتایا جاتا ہے جس نے رنگ اور نسل کی کبھی کوئی اہمیت نہیں دی ۔ امریکہ کے ان انتخابات کو دنیا کے لئے ایک نئے آغاز کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے ۔
امریکی انتخابات کے نتائج کے ساتھ ہی بہار میں ہوئے انتخابات کے نتائج بھی سامنے آئے ۔ بہار کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ موجودہ وزیراعلیٰ نتیش کمار اور ان کی حمایتی جماعت بی جے پی انتخابات میں بری طرح سے ہار جائے گی ۔ ایکزٹ پول بتارہے تھے کہ بھاجپا کے مقابلے میں مہا گٹھ بندھن کو آسانی سے حکومت کے لئے درکار اکثریت مل جائے گی ۔ آر جے ڈی اور کانگریس کے اس گٹھ جوڑ کے حوالے سے بتایا جاتا تھا کہ نتیش کمار کے طویل دور کا اختتام ہوگا اور آر جے ڈی ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی ۔ لیکن نتائج سامنے آئے تو سب کو یہ دیکھ کر حیرانگی ہوئی کہ این ڈی اے نے میدان مار لیا ہے ۔ مہاگٹھ بندھن کے لیڈر الزام لگارہے ہیں کہ ووٹ چوری کرکے انہیں ہرایا گیا۔ اس پر ان کا کہنا ہے کہ کم فرق والے حلقوں کے آفیسروں پر دبائو ڈالا گیا کہ وہ این ڈی اے کے حق میں اعلان کریں ۔ بھاجپا کی طرف سے ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی۔ نتیش کمار اب تک چھ بار بہار کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک بار پھر لیڈر منتخب ہوکر وزیراعلیٰ کا حلف اٹھائیں گے ۔ اگرچہ ان کا کہنا ہے کہ یہ اسمبلی ممبر فیصلہ کریں گے کہ اگلا وزیراعلیٰ کون ہوگا ۔ تاہم بہت سے سیاسی پنڈتوں نے اندازہ لگایا ہے کہ ساتویں بار وزیر اعلیٰ نتیش کمار ہی ہونگے ۔ ادھر جموں کشمیر میں بھی انتخابات کا پہلا مرحلہ شروع ہوچکا ہے ۔ یہاں بھاجپا کا براہ راست مقابلہ پیپلز الائنس فار گپکار اعلامیہ کے ساتھ ہوگا ۔ ضلع ترقیاتی کونسل کے لئے ہونے والے ان انتخابات کے لئے بھاجپا نے اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست منظر عام پر لائی ہے ۔ بھاجپا کا دعویٰ ہے کہ وہ ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرے گی ۔ جمعرات رات گئے پیپلز الائنس نے اپنے 27 امیدواروں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد اکٹھے الیکشن لڑے گا ۔ اس اتحاد میں نیشنل کانفرنس سب سے بڑی عوامی جماعت مانی جاتی ہے ۔ اس وجہ سے امیدواروں کی زیادہ تعداد اسی جماعت کی ہوگی ۔ پہلے مرحلے کے انتخاب کے لئے جن امیدواروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا ان میں این سی کے 21 ،پی ڈی پی کے 4 اور پیپلز کانفرنس کے 2 امیدوار شامل ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ان جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم پر اتفاق نہیں ہورہاتھا ۔ تاہم تینوں جماعتوں کے نمائندوں نے جمعرات کو ایک اہم اجلاس میں امیدواروں کی فہرست تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی ۔ عوامی اتحاد کے لیڈر دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کے امیدوار بڑی آسانی سے انتخاب جیت جائیں گے ۔ انتخابات میں کامیابی کے بعد یہ پارٹی کیا کچھ حاصل کرنے میں کامیاب ہونگی اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے ۔ پیپلز الائنس جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن بحال کرنے کے علاوہ دفعہ370 اور دفعہ35A آئین میں واپس لانے پر زور دے رہے ہیں ۔ آنے والے دنوں میں ضلع ترقیاتی کونسل کے لئے جو الیکشن ہونے والا ہے اس سے پیپلز الائنس کو کیا حاصل ہوگا ابھی تک نہیں بتایا گیا ۔ الائنس نے اس وقت انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا جب جموں میں اس کی ایک اہم نشست منعقد ہورہی تھی ۔ اسی نشست میں الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا گیا ۔