نقطہ نظر

حالیہ با رشیں اور بگڑتا ہوا ڈرینیج نظام
کیا ہم 2014ء جیسے سیلاب کے متحمل ہو سکتے ہیں ؟

ہر چہا ر طرف سے پہا ڑوں سے گری وادی ٔ کشمیر میں شدید با رشوں کے بعد سیلا ب کا آنا کو ئی نئی با ت نہیں بلکہ یہ سلسلہ یہاں پر صدیوں سے جا ری و ساری ہے تاہم اگر کسی خطے میں معمولی سی با رش کے بعد سیلا بی صورتحال پیدا ہو جا ئے تو وہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس طرح کے حالا ت علاقہ میں پا نی کے نکا سی کے عمل میں کسی شدید نو عیت کے نقص کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔پچھلے دنوں وادی میں ہو ئی با رشوں نے اسی خطر نا ک اور انتہا ئی سنگین صورتحال کی طرف اشارہ کیا ہے اور حکو مت یہ متعلقہ محکمہ جا ت کو دبے ہو نٹوں ہی صحیح مگر ایک وارننگ ضرور دی ہے کہ وہ اگر اب بھی نہ جا گے تو حالات کسی بھی وقت ایک سنگین کر وٹ لے سکتے ہیں اور سال2014ء سے بھی بد تر صورتحال پیش آسکتی ہے ۔وادی میں رواں ما ہ کے دو ابتدائی عشروں میں سخت گر می رہی اور ہر طرف سے لو گ با رش کے لئے دعا ئیں کر نے لگے ۔مساجد کے اندر بھی ائمہ حضرات نے رحمت ِ با راں کے لئے ہا تھ اٹھا اٹھا کر دعائیں کیں اور پھر اللہ کی رحمت جو ش میں آئی اور 19 جو لا ئی سے وادی کے اطراف و اکنا ف خاص کر جنو بی کشمیر کے کولگام ،شوپیا ن اور پلوامہ اضلا ع میں با رشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔19 جو لائی کو جنو بی کشمیر کے ان تینو ں اضلا ع میں اس قدر مو سلہ دھا ر با رشیں ہو ئیں کہ ندی نا لے بھر آئے اور کئی علا قوں میں با رش کا پانی مکا نوں اور گلی کو چوں میں سیلا ب بن کر گھس گیا جس کے کئی ویڈیو ز اور تصاویر سوشل میڈ یا پر بھی وائرل ہو گئیں ۔اگلے دن جب با رشوں نے سرینگر شہر اور گردو نواح کے علا قوں کا رخ کیا تو یہاں بھی جنو بی کشمیر جیسی صورتحال پیدا ہو گئی اور کئی علا قوں میں سڑکیں اور گلی کو چے زیر آب آگئے ۔
شہر و گام میں معمولی بارشوں کے بعد ندی نالوں کا بھر آنا اور گلی کو چوں میں پا نی جمع ہو جانے سے سیلا بی صورتحا ل کا پیدا ہو نا کئی سنگین مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی جا نب ہمیں انفرادی سطح پر بھی ، سماجی سطح پر بھی اور حکو متی سطح پر بھی فوری تو جہ دینے کی ضرورت ہے ۔ سرینگر شہر کے بیچوں بیچ کسی زمانے میں پا نچ ندیاں بہتی تھیں جو لوگوں کو صاف و شفاف پینے کا پا نی مہیا کر نے کے علا وہ اس شہر کی خوبصورتی اور جازبیت میں بھی چار چاند لاگ دیتی تھیں مگر امتداد زمانہ کے ساتھ ساتھ ہم نے اپنے حقیر مقصد کے لئے ان ندی نا لوں کو پُر کر نا یا ان میں گندگی ڈالنا شروع کر دیا جس سے نہ صرف ان میں بہتا ہوا مثلِ شیشہ پا نی ناقابل استعمال بلکہ بد بو دار بن گیا بلکہ کچھ عرصہ پہلے ان ندیوں کا وجود بھی ہما رے اجتماعی حافظہ کے تہہ خانوں میں طاقِ نسیاں کا مکین ہو گیا۔آج یہ ندی نالے ڈھو نڈھے سے بھی کہیں نہیں ملتے اور اس طرح سے ہم اپنے اس عظیم قومی ورثے سے محروم ہو گئے ہیں ۔ایسے میں ایک خوش آئند با ت یہ ہے کہ ڈویژنل کمشنر کشمیر نے حال ہی میں ان ندیوں کی بحالی کے احکامات صادر کر دئے تھے تاہم دیکھنا یہ ہو گا کہ حکو مت اس پراجیکٹ پر کس قدر سنجیدگی کے ساتھ کا م کر تی ہے اور کیا وہ ان ندیوں کی بحالی میں کا میابی سے ہمکنا ر ہو گی بھی کہ نہیں۔
دیہی علاقوں میں کسی زمانے میں پانی کے چھو ٹے چھو ٹے تالاب ہوا کر تے تھے یہ تالاب کئی طرح کے کا م دیتے تھے ۔پانی کو فلٹر کر کے صاف و شفا ف پینے کا پانی دیہی بسکینوں تک مہیا کر نے سے لے کر کھیت کھلیا نوں میں استعمال کی جا نے والی قدرتی کھا د کی فراہمی تک اور پھر با رشوں اور سیلاب کا پانی اپنے اندر سمیٹے رکھنے تک کاکام یہ چھوٹے چھو ٹے تالاب کیا کرتے تھے مگر ہما ری بد قسمتی یہ ہو ئی کہ ہم نے پہلے ان تا لابوں کو ہی پُر کرکے انہیں ذرعی اراضی یا قابل کا شت اراضی میں تبدیل کر دیا اور اب ہمیں دیہی علا قوں میں بھی نہ پینے کا صاف پانی دستیا ب ہے اور نہ ہی پانی کو سمیٹنے والے تالاب۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی سی بارش ہونے پر بھی دیہی علا قوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جا تی ہے اور پھر کہیں مکا نات ڈہہ جا تے ہیں تو کہیں کھیتوں اور باغات کو نا قابل ِ تلا فی نقصان ہو تا ہے ۔
حکومتی سطح پر بھی کئی طرح کی کو تا ہیاں ہو رہی ہیں جس کی مستقبل میں ہمیں بھا ری قیمت چکانا پڑ ے گی ۔شہروں میں ہی نہیں بلکہ دیہی علاقوں میں ڈرینیج کا نظام انتہا ئی خستہ یا نہ ہو نے کے برابر ہے ۔حکو مت سرینگر شہر کے اندر ہر سال ڈرینیج نظام کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر تی ہے مگر یہ ڈرینیج نظام کتنا کا ر آمد یا مو ثر ہے اس کا ثبو ت معمولی سی با رش کے بعد زیر آب آنے والی ہما ری سڑ کیں ہیں ۔اگر ہم ایک مو ثر اور کا ر آمد ڈرینیج نظام قائم نہیں کر سکتے ہیں تو مستقبل میں اگر کبھی سال2014ء جیسی با رشیں ہو ئیں تو وادی کے اندر بھا ری تباہی ہو گی جس سے ہمیں کو ئی نہیں بچا سکتا ۔حکو مت کو چاہئے کہ وہ حالیہ با رشوں اور اس کے بعد پیدا ہو نے والی صورتحال سے سبق حاصل کر ے اور وادی کے اندر خاص طور سے سر ینگر شہر میں ڈرینیج نظام کو مضبوط سے مضبوط تر کر دے تاکہ آنے والے کل میں ہمیں کسی تبا ہی کا منہ نہ دیکھنا پڑ ے اور حکو مت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ جہاں پر بھی ندی نا لوں ،ڈرینوں اور آبی ذخائر پر قبضہ جمایا جارہا ہے وہاں پر اس قبضے کو ہٹا لے اور خلاف ورزی کر نے والوں کے خلاف سخت قانونی کا روائی کرے تاکہ یہاں کی آبگا ہوں کو محفوظ بناکر وادی کے مستقبل کو بھی محفوظ بنایا جا سکے ۔