اِسلا میات

حجاب اتروانے کیلئے

حجاب اتروانے کیلئے

اسد مفتی
فرانس اور بلجیم کے بعد اب ہالینڈ میں بھی برقعہ پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت نے برقعہ نقاب، حجاب یا جلباب سمیت چہرہ ڈھکنے والے لباس یا پورے چہرے کو چھپانے والے اسکارف یا ہیلمٹ کے پہننے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ ہالینڈ کی وزیر داخلہ لزبتھ سپیس کا کہنا ہے کہ کابینہ کا یہ فیصلہ ہے کہ برقعہ، نقاب حجاب وغیرہ جن سے چہرہ نظر نہ آئے، کے پہننے پر مکمل پابندی ہوگی۔ انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ یہ پابندی صرف برقعہ یا دیگر اسلامی ملبوسات پر نہیں بلکہ یہ پابندی چہرہ چھپانے والی ہر چیز پر ہوگی۔ ان کے پہننے پر زیادہ سے زیادہ 380 یورو جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔ وزیر داخلہ لزبتھ سپیس نے کہا ہے کہ یہ بات اہم ہے کہ کھلی سوسائٹی میں لوگ بغیر کسی بندھن رکاوٹ یا پردے کے ایک دوسرے سے ملیں۔ ستمبر 2011 میں پابندی کی تجویز ریاستی کونسل کو بھیجی گئی تھی جس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ بہرحال ہنوز پوری طرح اس قانون کے نفاذ میں مہینوں لگ سکتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس کی منظوری ملنا باقی ہے۔ مغرب میں رہنے والے مسلمانوں کو یہاں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہئے کہ اس سے قبل فرانس اور بیلجیم برقعہ، حجاب، نقاب یا جو بھی کہہ لیں پر پابندی عائد کر چکے ہیں باقی ملکوں میں پردہ، برقعہ حجاب اور نقاب کس حال میں ہے، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
بیلجم میں برقعہ پرپابندی سے متعلق قانون پر عمل درآمد 27 جولائی سے شروع ہوچکا ہے جبکہ اپریل میں فرانس نے بھی حجاب پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر ڈیڑھ سو یورو کا جرمانہ عائد کر دیا ہے ایسے افراد جو خواتین کو چہرہ ڈھانپنے پر مجبور کریں گے انہیں 30 ہزار یورو جرمانہ اور دو سال تک سزا سنائی جائیگی۔ یاد رہے کہ فرانس میں 65 لاکھ کے لگ بھگ مسلمان بستے ہیں جو یورپ کے کسی بھی ملک سے زیادہ تعداد میں ہیں۔ مغربی یورپ میں ہالینڈ، بلجیم اور فرانس کے علاوہ اٹلی اور سوئٹزر لینڈ میں بھی برقعہ پر پابندی عائد ہونے کے آخری مراحل میں ہے۔ سوئٹزر لینڈ یورپ کا پانچواں ملک ہوگا جہاں جلد برقعہ پر پابندی عائد کر دی جائیگی کہ وہاں کی پارلیمنٹ میں دائیں بازو کی شدت پسند جماعت نے برقعہ پر پابندی کی قرارداد پیش کر دی ہے جس کی تائید میں 102 ووٹ ملے ہیں جبکہ 77 ارکان پارلیمنٹ نے اس قرارداد کی مخالفت کی ہے۔ اٹلی کی ایک پارلیمانی کمیٹی نے ایک ایسے مسودے کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت ملک میں خواتین کے نقاب پہننے پر پابندی عائد کر دی جائیگی۔ اس بل کو حکومتی اتحاد کی حمایت حاصل ہے اور جلد ہی وہ اس بل پر ووٹنگ کریگی، اس بل کے مطابق اٹلی میں کسی بھی ایسے برقعہ، حجاب یا نقاب پر پابندی عائد کر دی جائے گی جس سے چہرہ چھپتا ہو۔ اگراطالوی پارلیمنٹ نے یہ بل منظور کر لیا (جس کے 85 فیصد چانسز ہیں) تو پردہ کرنے پر ڈیڑھ سو سے تین سو یورو جرمانہ اور کمیونٹی سروس کی سزا دی جاسکے گی۔
یورپ سے دور آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں برقعہ پوش خواتین کیلئے لازمی ہوگیا ہے کہ وہ پولیس کے حکم دینے پر اپنے چہرے سے نقاب ہٹائیں، پولیس کسی بھی باپردہ خاتون کو کہہ سکتی ہے (آپ اسے حکم مانیں یا گزارش) نقاب، پردہ، ہیلمٹ یا دوسری مذہبی پوشش کو ہٹا کر اپنی شناخت کرائیں، چہرہ سے نقاب نہ ہٹانے پر 220 آسٹریلین ڈالر جرمانہ اور ایک سال کی سزا ہو سکتی ہے تاہم اگرکسی کو کھلے عام اپنی شناخت ظاہر کرنے پر اعتراض ہے تو وہ تخلیہ میں اپنی شناخت ظاہر کر سکتے ہیں لیکن چہرہ سے نقاب ہٹانا ضروری قرار دیدیا گیا ہے۔ آسٹریلیائی ریاست وکٹوریہ نے بھی نیو ساؤتھ ویلز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایک نیا قانون نافذ کیا ہے جو ہو بہو نیو ساؤتھ ویلز کے قانون سے ملتا جلتا ہے یعنی پولیس کو برقعہ پوش مسلم خواتین کو چہرے سے نقاب اٹھانے کا حکم، خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔
آسٹریلیا کے پڑوسی ملک نیوزی لینڈ میں بھی چہرہ کا نقاب اور حجاب تنازع کا سبب بنا ہوا ہے جہاں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی طالبہ کو ایک پُرہجوم بس سے اتار دیا گیا تھا کہ بس کے ڈرائیور نے اس کے نقاب پر اعتراض کیا تھا بس سے اتارنے کے بعد جوہر سعود الشوبتی نامی یہ طالبہ سڑک پر ہی زار و قطار رونے لگی۔ اس واقعے سے دو روز قبل اسی کمپنی این زیڈ بس سروس کے ایک ڈرائیور نے ایک پاکستانی عورت کو چہرہ سے نقاب ہٹانے کا \’\’حکم\’\’ دیا تھا۔ پے در پے اس نوعیت کے واقعات کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کیلئے کسی کالج کی ڈگری کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ایک مثبت امر یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ برقعہ یا نقاب اسلامی عقیدہ کا ایک حصہ ہے اور مسلم خواتین کو اس کا حق حاصل ہے۔ فریقین کو ایک دوسرے کے عقائد اور مذاہب کا احترام لازم ہے لیکن وزیراعظم نے اس بات کی بھی وضاحت کر دی ہے کہ بعض حالات میں اور بعض مقامات پر سیکورٹی اسباب کی بنا پر برقعہ اتارنا یا چہرہ سے نقاب ہٹانا ازحد ضروری ہوجاتا ہے۔ ادھر این زیڈ بس سروس کے جنرل منیجر نے کا کہنا ہے کہ کمپنی کے ڈرائیورز کا اعتراض مذہبی بنیادوں پر قطعی نہیں تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ نفسیاتی مرض کا شکار ہیں اور وہ برقعہ اور نقاب کو دیکھتے ہی خوفزدہ ہو جاتے ہیں اور بسوں میں خودکش حملہ آوروں کا تصور کرکے ان کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان بنیادوں پر ڈرائیوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی ایسا کوئی قانون ہے۔
میں نے کہیں پڑھا ہے کہ شناخت اور پہچان کی تجارت نہیں ہو سکتی اور دنیا میں سب سے بڑی مصیبت یہ ہے کہ بے وقوف پریقین اور عقلمند شک و شبہ میں گھرے رہتے ہیں۔