سرورق مضمون

حریت رہنمائوں کے بعد وزیراعلیٰ دہلی میں / کشمیر پر سرگرمیاں تیز ، نتائج ہنوز نہ دارد

ڈیسک رپورٹ
ریاستی اسمبلی کے جاری بجٹ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ہنگامہ آرائی اور مک مکا جاری ہے ۔ ہر روز کوئی نہ کوئی متنازع بیان سامنے آکر اس پر دونوں گروہوں کے درمیان تیزکلامی دیکھنے کو ملتی ہے۔ ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کی جاتی ہے اور دونوں طرف کے ممبران ایک دوسرے کو کشمیر کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ۔ اس سیشن میں ریاست کے وزیرخزانہ نے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ میں کئی نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا اور مرکز سے کم سے کم فنڈس لانے پر زور دیا گیا۔
ریاست کے وزیر خزانہ حسیب درابو نے 22 مارچ کو اسمبلی میں مالی سال کا اپنا مختصر بجٹ پیش کیا ۔ یہ نئی حکومت اور درابو کا بطور وزیر خزانہ پہلا بجٹ ہے ۔ بجٹ بہت ہی مختصر ہے اور اس میں کئی نئے اقدامات کا اعلان کیا گیا ۔ ملازمین کے حق میں ایک سال کا واجب الادا ڈے اے واگزار کیا گیا ۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کی پیدئش پر انہیں الئو نس دینے کی ایک نئی اسکیم کا اعلان کیا گیا ۔ عمررسیدہ شہریوں کو دئے جانے والے ماہانہ رقم میں اضافے کا اعلان کیا گیا ۔ اسی طرح بیوائو ں اور یتیموں کے حق میں ماہانہ رقم دینے کا اعلان کیا گیا۔ بجٹ میں ریاست کی مالی پوزیشن مستحکم بنانے کا بھی اعلان کیا گیا۔ سیلاب زدگان کی بحالی کے حوالے سے وعدہ کیا گیا تاہم اس مسئلے کو مرکز سے آنے والے امداد کے ساتھ جوڑا گیا ہے ۔بجٹ پر پہلے ہی کی طرح آج بھی ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوام کے لئے کوئی خاص راحت نہیں ہے۔ البتہ کوئی ایسا سخت اقدام بھی نہیں کیا گیا ہے جس سے عوام کو کسی طرح کا بوجھ پڑنے کا خطرہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تجارتی حلقوں نے بھی بجٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ تاہم یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ درابو جیسے ماہر سے جس طرح کے انقلابی بجٹ کی توقع تھی وہ پوری نہ ہوسکی۔ درابو بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید کے ساتھ دہلی گئے ہیں۔ جہاں انہوں نے کئی دوسرے رہنمائو ں کے علاوہ مرکزی وزیر خزانہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں سیلاب زدگان کی بازآبدکاری کے مرکز کے پروگرام میں تیزی لانے پر زور دیا گیا ۔ وزیراعلیٰ کی یہ دلی یاترا اس وقت پیش آئی جب اس سے پہلے حریت رہنمائوں نے دہلی میں مقیم پاکستانی سفارت کاروں سے ملاقات کی۔ حریت کی پاکستانی نمائندوں کے ساتھ ملاقات 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقعے پر ہوئی ۔ اس سے پہلے پاک بھارت کے درمیا ن اس بات پر سخت تنازع ہوا تھا جب ایسی ہی ایک ملاقات دونوں ممالک کے خارجہ سیکریٹری سطح کے مزاکرات سے کچھ روز پہلے ہوئی تھی۔ اس پر ہندوستان نے سخت اعتراض کرکے یہ مزاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا ۔ تاہم بعد میں ہندوستان پر سخت دبائو ڈالا گیا اور مذاکرات بحال کئے جانے کا پھر سے اعلان کیا گیا ۔ ادھر اسمبلی میں اس بات پر سخت تنائو پایا جاتا ہے جب سپیکر نے افضل گورو کے باقیات تہار جیل سے کشمیر لانے کے اس ریزو لیشن کو پیش کرنے کی اجازت نہ دی جو اسمبلی ممبر شیخ رشید نے کئی پی ڈی پی ممبران کی حمایت سے تیار کیا تھا۔ اس پر شیخ رشید نے سخت ہنگامہ آرائی کی جس کے بعد رشید کو اسمبلی ہال سے زبردستی باہر نکالا گیا ۔ اس مسئلے پر اسمبلی میں تاحال سخت تنائو پایا جاتاہے ۔