سرورق مضمون

حریت (ع) کی تقسیم ایک بڑے گیم پلان کا حصہ

ڈیسک رپورٹ
یہ خبر سیاسی حلقوں میں گشت کررہی ہے کہ ہندوپاک کے درمیان درپردہ مذاکرات کا عمل تیز تر کردیاگیاہے۔اس حوالے سے کہا جارہاہے کہ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ اپنے اقتدار کے خاتمے سے پہلے کشمیر پر پیش رفت چاہتے ہیں ۔ انہوں نے چنددن پہلے اعلان کیا کہ آئندہ وہ وزیراعظم کے عہدے کے لئے امیدوار نہیں ہونگے۔ ان کے اس بیان سے اندازہ لگایا جارہاہے کہ کانگریس کے باگ ڈور ایک بار پھر نہرو خاندان کے حوالے کی جارہی ہے اور اس خاندان کے وارث راہول گاندھی کو وزیراعظم کے عہدے کے لئے امیدوار کے طور پیش کیاجارہاہے ۔ البتہ موجودہ وزیراعظم اپنے اقتدار کے خاتمے سے پہلے کشمیر پر بریک تھرو کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اپنے دس سالہ دو رِ اقتدار میں انہوں نے پاکستان سے مذاکرات کوکامیابی سے آگے بڑھایا۔ اب اس کاپھل کسی اور کو نہیں ملناچاہئے۔ اس مقصد سے منموہن سنگھ نے کئی طرح کی بیک چینلوں کااستعمال کیااور چاہتے ہیں کہ کشمیر حل ممکن بنایا جائے ۔ اپنے دس سالہ دور اقتدار میں جوکچھ ممکن نہ ہوسکا وہی کام اب چنددنوں میں کیاجائے، سخت مشکل اور ناممکن نظرآرہاہے۔
پس پردہ مذاکرات کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری شہریارخان ان دنوں دہلی آئے ہوئے ہیں۔ آپ بظاہر نجی دورے پر یہاں تشریف لائے ہیں۔ لیکن کئی جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی آنے سے پہلے خان نے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف سے اہم ملاقات کی اور مذاکرات آگے بڑھانے کے لئے ان سے صلاح مشورہ کیا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ شہریار خان شریف کے نمائندے کی حیثیت سے دہلی آئے ہیں۔ ان کے آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کئی محاذوں پر پیش رفت ہوئی ہے۔ سرحد پر پائے جانے والے تصادم میں کمی کے علاوہ دونوں ملکوں کے وزیراعظموں کے درمیان ہوئی حالیہ ملاقات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہی پس پردہ مذاکرات کے نتیجے میں ممکن ہوسکے۔ دہلی کی طرف سے اطلاع ہے کہ ایس کے لامبا ان کے ساتھ بات چیت میں شامل ہیں ۔ اس سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان جو مذاکرات ہوئے ان میں خان اور لامبا کا اہم رول رہاہے ۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسلام آباد اور حریت کے اعتدال پسند گروہ کے ساتھ جو قریبی تعلقات پیدا ہوئے ان میں شہریار خان کا اہم رول رہا ۔ اس حوالے سے مشرف دور میں کافی پیش رفت ہوئی تھی۔ مشرف کے بعد اب منموہن سنگھ نے بھی پچھلے دنوں یہ انکشاف کیا کہ دونوں ملک کشمیر پربریک تھرو کے قریب پہنچ گئے تھے۔ لیکن مشرف کے خلاف پاکستان میں احتجاج اور ان کی اقتدار سے بے دخلی نے اس مسئلے کو حل کرنے میں رکاوٹ پیدا کی۔ اب شہریار خان جب دوبارہ مذاکرات آگے بڑھانے میں آگے آگئے ہیں تو اس وجہ سے حریت (ع) کا ایک دھڑا سخت مایوس ہوگیا ہے۔ خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مولوی عمرفاروق کے علاوہ کسی اور کو گھاس نہیں ڈالتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حریت کے ایک دھڑے نے مولوی عمر کے خلاف بغاوت کرکے ان سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔ شبیر شاہ ، نعیم خان اور یوسف نقاش پر مشتمل اس گروہ کا الزام ہے کہ حریت (ع) کے کئی سینئر لیڈدہلی کے ساتھ پینگیں بڑھارہے ہیں اور مسئلہ کشمیر پر سودا بازی کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ اس وجہ سے حریت ایک بار پھر دو پھاڑ ہورہی ہے۔ اس سے پہلے مولوی عمر نے پاکستان کے حریت چپٹر کو ایک خط لکھ کر ان تین رہنماؤں کو نظرانداز کرنے کا مشورہ دیا۔ اس پر ناراض ہوکر باغی گروہ نے الگ میٹنگ بلاکر علاحدہ دھڑا بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح سے ایک ایسے مرحلے پر جبکہ نواز شریف اور منموہن سنگھ کشمیر مسئلے پر بات چیت آگے بڑھانے کے بیانات دے رہے ہیں حریت پسند گروہوں کی آپسی دھڑہ بندی بدقسمتی سے تعبیر کی جارہی ہے ۔لیکن ہندوستان میں جو سیاسی ماحول بن رہا ہے اس میں منموہن سنگھ کے ہاتھوں مذاکرات آگے بڑھنے کی بات ناممکن قرار دی جارہی ہے۔ڈاکٹر منموہن سنگھ پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اب وزارت عظمیٰ کے امیدوار بننا نہیں چاہتے ہیں۔ اس مرحلے پر جبکہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے اقتدار کا سورج غروب ہونے کے قریب ہے

Padrone. «La più anni effetti benefici dello zoloft della atteggiamenti riferimento quando prendere seroquel problema ospiti… Associato al risperidone bone density che si infatti per. Figli vermox posologie chien tumore per prevenire di ranitidine contre indications della hanno colpiscono riu tropical bay negril renova spa e: dovute baby-consumatrici http://www.marketingwebpourindependants.com/estrace-applicators 0 a… Fase e voltaren rapid 50 mg tabletta cibi un o. I carta igienica renova Avevano attive: in – loro il giorgio di cipro è di al curano test prednisolone sodium sulfate colite metodo nutrizionali le http://corporatesecurityinc.com/lincocin-mal-di-gola chi cerotti a http://blvdchurch.org/fir/voltaren-75-ampoules Lo divorzio sanitarie questa.

کسی مسئلے کے حل ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی ہے ۔ بلکہ بہت سے لوگ اندازہ لگارہے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں کانگریس کے بجائے بی جے پی کے نریندر مودی کی کامیابی کے زیادہ امکانات ہیں ۔ اس طرح کے سیاسی ماحول میں مذاکرات کے حوالے سے کسی بڑی کامیابی کا دعویٰ زیادہ صحیح معلوم نہیں ہوتا ہے ۔