سرورق مضمون

حریت پھوٹ پردہلی سرگرمیاں تیز دال میں کچھ کالا نظر آرہاہے

حریت پھوٹ پردہلی سرگرمیاں تیز دال میں کچھ کالا نظر آرہاہے

ڈیسک رپورٹ
حریت (م) کے رہنماؤں کے درمیان جو تنازع پایا جاتا ہے وہ دن بہ دن سنگین ہوتا جارہاہے ۔اس تنازعے کے بعد لگتا ہے کہ دہلی نے اپنے کھلاڑی متحرک کردئے ہیں۔ ان کی طرف سے دئے جانے والے بیانات سے لگ رہاہے کہ علاحدگی پسندوں کے اندر پایا جانے والا پھوٹ کوئی معمولی معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے پس پردہ ایک بڑا کھیل کھیلا جارہاہے ۔ حکومت بہ ظاہر خاموش ہے اور اس پر کوئی بیان دینے سے گریز کررہی ہے ۔ البتہ اس دوران سرینگر سے لے کر دہلی تک جو سرگرمیاں نظرآرہی ہیں ان سے لگ رہاہے کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس کے ذریعے ایک بڑا سیاسی ڈرامہ کھیلا جائے گا ۔حریت (م) کے اندر پھوٹ اس وقت شروع ہوا جب لبریشن فرنٹ کے یاسین ملک نے اسے منافقوں کا ایک ٹولہ قرار دیا ۔اس کے بعد شبیر شاہ نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور سرحد پار اس کے کنویر کو اس سے علیحدہ کردیا ۔ اس کے بعد نعیم خان نے بھی ناراضگی دکھانی شروع کی اورشبیر شاہ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملاکر چلنا شروع کیا ۔ ابھی یہ تنازع جاری ہی تھا کہ دہلی سے کشمیر کے بارے میں نئی سرگرمیاں شروع ہونے لگیں ۔25جون کو وزیراعظم منموہن سنگھ کے ہمراہ یوپی اے چیرپرسن سونیا گاندھی سرینگر آرہی ہیں ۔ اس سے پہلے کانگریس کے جنرل سیکریٹری راہل گاندھی نے سرینگر میں امید نام کی ایک روزگار اسکیم کاآغاز کرنے کے بہانے کشمیر کا دورہ کیا۔ اس کے بعد ملک کے چیف جسٹس التمش کبیر یہاں تشریف لائے ۔ اسی دوران مکھن لال فوطیدار نے سرینگر میں اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے لئے ایک معنی خیزبیان دیا ۔ اس نے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی کچھ غلطیوں کی نشاندہی کی اور موجودہ وزیراعلیٰ پر بھی تنقید کی ۔ اندورنی خود مختاری کے حوالے سے اس نے نیشنل کانفرنس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ان کا کہنا ہے کہ این سی نے دہلی کے ساتھ 1975 میں ایکارڈ کرکے اندورونی خود مختاری کو دفن کیا۔ فوطیدار کے بیان کے ساتھ ہی دہلی سے خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ اور کشمیر میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے ماہرکے،ایس، دُلت نے ایک بیان میں حریت سربراہ مولوی عمر کو انتخابات میں حصہ لینے کا مشورہ دیا ۔اس نے ایک اخبار میں اپنے ایک مضمون میں مولوی عمر کو مشورہ دیا کہ وہ مذہبی گدی تک محدود رہنے کے بجائے ریاست کا وزیر اعلیٰ بننے کی کوشش کرے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ براہِ راست الیکشن میں حصہ لینے میں دشواری ہو تو حریت(م) کو پراکسی امیدوار کھڑا کرنے پر سوچنا چاہئے۔ اس طرح کے بیانات اور سرگرمیوں سے اندازہ ہورہاہے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔
انتخابات کی تاریخیں قریب آنے کے ساتھ ہی ان بیانات کا منظر پر آنے سے لوگ شش و پنج میں پڑ گئے ہیں۔ حریت (م) کے ساتھ منسلک کئی رہنماؤں کے اس کے خلاف سرگرمیوں نے بھی لوگوں کو اس بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر مجبور کیا ہے ۔ حریت کا یہ دھڑا بہت پہلے سے لوگوں کے لئے مشکوک سرگرمیوں کا مرکز بن گیا ہے ۔ پروفیسر غنی اور عباس انصاری نے جو محاذ بنایا تھا اس سے بھی لوگ اندازہ لگارہے تھے کہ اندر ہی اندر کوئی ہنڈیا پکائی جارہی ہے ۔ اب شبیر شاہ اور نعیم خان کے تیسرے محاذ بنانے کے بارے میں جو افواہیں اڑائی جارہی ہیں ان سے بھی اندازہ ہورہاہے کہ یہاں کسی نئے ڈرامہ کے لئے سٹیج تیار کیا جارہاہے۔ اگرچہ اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ حریت کا کوئی دھڑا جلد ہی انتخابات میں حصہ لینے کے لئے تیار ہوگا تاہم ان سرگرمیوں کے بارے میں لوگ مختلف شک وشبہات کا اظہار کررہے ہیں ۔ مولوی عمر اس بات پر پریشان ہیں کہ ان کا ریاستی معاملات میں کوئی رول نہیں رہا ہے ۔ دہلی کی خواہش ہے کہ آپ الیکشن میں حصہ لیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں ٹریک ٹو ڈپلومیسی کا سہارا لے کر حریت نوازوں کو انتخابی عمل کا حصہ بننے کے لئے تیار کیا جارہاہے ۔ ایک اور حریت لیڈر بلال لون نے پہلے ہی الیکشن بائیکاٹ کے بارے میں منفی بیانات دینا شروع کیاہے ۔ اس کا بھائی سجاد لون عملی طور الیکشنوں میں حصہ لے چکا ہے ۔ اب کی بار بھی لگ رہاہے کہ سجاد بڑے پیمانے پر الیکشن میں حصہ لے گا ۔ اس کا خیال ہے کہ وہ کپوارہ کے علاوہ سرینگر میں بھی کئی امیدواروں کو میدان میں اتارے گا ۔ اس غرض سے اس نے سرینگر کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنایا ہے ۔ اس نے آج سے ہی نیشنل کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بنانا شروع کیا ہے ۔ این سی کو وہ سرینگر میں سخت فائٹ دے سکتا ہے ۔ سرینگر میں این سی کا کوئی خاص حریف نہیں ہے ۔ البتہ لون برادرس اکٹھے ہوکر انتخابات میں حصہ لیں تو نیشنل کانفرنس کے لئے مشکلات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ ایسا ہو اتو حریت (م) خاص کر مولوی عمر کے لئے پیچھے رہنا ممکن نہ ہوگا ۔