سرورق مضمون

حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں ہڑتال، بندشیں اور احتجاج جاری

حزب المجاہدین کمانڈربرہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی میں ہڑتال، بندشیں اور احتجاج جاری

ڈیسک رپورٹ
8 جولائی 2016 ء کی بات ہے جب کم عمر معروف حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کو کوکرناگ علاقے میں اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ جان بحق کیا گیا ، جب یہ خبر آنی شروع ہوئی تو لوگوں کی بڑی تعداد جوق در جوق برہان وانی کے آبائی علاقے ترال کی طرف کوچ کرنے لگے، جن میں زیادہ تر کمر عمر بچوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ مختلف علاقوں سے آئے یہ لوگ سکوٹروں، بائیکوں، چھوٹی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹرکوں میں آنے لگے۔ برہان وانی کی نعش اگر چہ انتظامیہ نے اُسی شام یعنی8 جولائی کو وارثین کے حوالے نہیں کیا تاہم بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے ترال کے قصبے میں جمع ہو کر رات بھر مقامی مساجد کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر گذری، ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں نے جان بحق ہوئے حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کے گھر کے سہن میں ہی رہنا پسند کیا، اتنا ہی نہیں دیگر علاقوں سے آئے نوجوانوں نے مساجدوں کے ساتھ ساتھ برہان وانی کے گھر کے سہن میں زبردست نعرہ بازی کر کے پورے علاقے کو ماتم کدہ کر دیا۔
بتایا جاتا ہے قریباً رات کے ڈھائی پونے تین بجے جب حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی میت ان کے گھر لائی گئی تو وہاں ایک الگ سی کیفیت طاری ہوئی اور ایک زبردست احتجاج کے ساتھ ساتھ نعرے بازی ہونی شروع ہوئی، مسجدوں اور سڑکوں پر رات گذرنے والے لوگوں کو جب اس بات کی جانکاری ہوئی کہ برہان وانی کی میت ان کے گھر لائی گئی تو ہر طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے ہونے لگے اور لوگ جوق در جوق برہان کے گھر آنے لگے، اس دوران برہان کے گھر میں زبردست بھیڑ جمع ہو گئی اور لوگ مکان کے سہن کے ساتھ ساتھ سڑک پر بھی جمع ہو گئے اور صبح کے وقت تک وہاں ہی قیام کر کے زبردست غم و غصہ کا اظہار کیا گیا تاہم صبح جب حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی میت کو ترال کے عید گاہ میں لایا جا رہا تھا تو اس وقت بھی زبردست نعرہ بازی ہوئی اور لوگوں کی زبردست بھیڑ تھی، ہر طرف لوگ چھوٹے ، بڑے، بزرگ، عورتیں اور بچے عید گاہ کی طرف بڑنے گلے تاہم جب برہان کی میت کو عیدگاہ پہنچایا گیا تو نماز جنازہ کے لئے گیارہ بجے کا وقت مقرر کیا گیا، اس دوران مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ دور دور سے ہزاروں میں لوگ عید گاہ کی طرف آنے لگے۔ اس طرح سے لوگوں کا سمندر عیدگاہ ترال کی طرف اُمنڈنے لگا۔ بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کی بھیڑ اتنی ہونی لگی کہ جنازہ کا وقت جو پہلے مقرر کیا گیا کو تبدیل کر کے دو گھنٹے پہلے ہی یعنی 9 بجے ہی مقررکرنا پڑا، لوگوں کے مطابق ٹھیک 9 بجے پہلا جنازہ پڑھا گیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی، اس کے بعد تقریباً دن بھر متعدد بار نماز جنازہ پڑھے گئے جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ نماز جنازہ میں شرکت کے لئے تقریباً وادی کے سبھی اضلاع کے لوگ شریک ہوئے۔
اس دوران انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے ساتھ ساتھ دوسرے اضلاع میں بندشوں کا نفاذ عمل میں لانے کا فیصلہ کیا، جس دوران پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان کئی مقامات پر جھڑپیں ہوئی جس میں کئی شہریوں کے جان بحق ہونے کی خبر آتے ہی پورے کشمیر میں زبردست احتجاج ہونا شروع ہوا، اس طرح سے کشمیر کے سبھی اضلاع میں شہری ہلاکتوں پر احتجاج ہونا شروع ہوا جو ہنوز جاری ہے۔ اس دران وادی میں انتظامیہ نے موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بھی بدستور معطل رکھا گیا ہے
اس دوران حکومت نے شمال و جنوب میں احتجاجی لہرپیدا ہونے کے چلتے وادی کے سبھی 10 اضلاع میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا۔ اتنا ہی نہیں انتظامیہ نے سرینگر میں کئی اخباروں کی اشاعت پر بھی روک لگا دی۔ انتظامیہ نے کئی پرنٹنگ پریسوں کو باضابطہ بند کرنے کے لئے کہا گیا تاہم بعد میں اخبار مالکان نے احتجاج کے طور پر کئی روز تک اخبار نہ چھاپنے کا فیصلہ لیا۔ جب یہ معاملہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اُٹھایا گیا تو مجبوراً ریاستی حکومت کو ایک بڑا جھوٹ کہنا پڑا کہ وادی میں اخبارات پر کوئی پابندی نہیں کی گئی۔حالانکہ حکومت کے ترجمان اور ایک سینئر وزیر نے پہلے ایک بیان میں کہا کہ وادی میں موجودہ سنگین حالات کے پیش نظر سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لانا پڑا جس کے چلتے حکومت نے اخبارات کی اشاعت پر بھی فی الحال روک لگا دی۔ اس کے بعد جب یہ اخبار والوں نے اخباروں کی اشاعت بند کی تو سرکار کو لینے کے دینے پڑے اور وزیراعلیٰ کے آفس سے اخبار والوں کو مسیج آگئی کہ وہ اخباروں کی پھر سے اشاعت شروع کریں تاہم اخباروالوں نے پہلے اخبارات کی اشاعت پر روک لگانے کا معاملہ ایک میٹنگ میں وزیراعلیٰ کے سامنے لایا جس پر وزیراعلیٰ نے معذرت کا اظہار کیا اس کے بعد تین روز کے بعد پھر سے باضابطہ اخباروں کی اشاعت شروع ہوئی۔
ادھر وادی میں نہتے شہریوں کے لہو کی ارزانی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اسی نوعیت کے واقعے آئے روز پیش آتے ہیں۔ اس طرح سے 8جولائی سے وادی میں احتجاجی لہر کے دوران مر نے والوں کی تعداد 49 ہو گئی ہے ۔ جبکہ زخموں کی تعداد چار ہزار سے تجاویز کر گئی۔
قابل ذکر ہے کہ وادی میں8 جولائی سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہوئے شہریوں کی تعداد میں جمعہ کی صبح اس وقت ایک اوراضافہ ہوا جب ککر ناگ میں فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے وا لے نوجوان اشفاق احمدسر ینگر کے سکمز میں زخموں کا تاب نہ لاکر میں چل بسا۔ بتایا جاتا ہے کہ مذ کورہ شہر ی گذ شتہ ہفتے فا ئرنگ میں شدید زخمی ہو اتھا جس کے بعد وہ سکمزاسپتال میں زیر علاج تھے۔ اسی دران اونتی پورہ میں احتجاجیوں پر راست فائرنگ سے ایک اور طالب علم جان بحق ہوا۔
واضح رہے کہ وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران تاحال 49 افراد جان بحق جبکہ قریب 4000دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ جان بحق ہونے والے49 افراد میں تین خواتین 18 سالہ جواں سال لڑکی یاسمینہ 10 جولائی کو ضلع کولگام کے دمہال ہانجی پورہ جبکہ 55 سالہ سیدہ بیگم اور 32 سالہ نیلوفر اختر18 جولائی کو ضلع کولگام کے قاضی گنڈ میں سیکورٹی فورسز کی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں جان بحق ہوئیں۔
اس طرح سے پچھلے پندرہ دنوں کے دوران لگاتار آج تک پولیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے اور ان جھڑپوں میں ابھی تک مرنے والوں کی تعداد 49 تک پہنچ گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ چکی ہے۔