سرورق مضمون

حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت سے 2010کے بعد2016کی عوامی ایجی ٹیشن شروع

حزب  المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت سے 2010کے بعد2016کی عوامی ایجی ٹیشن شروع

ڈیسک رپورٹ
8 جولائی 2016 کو جب کوکرناگ علاقے کے بمڈور میں حزب المجاہدین کے جوان سال کمانڈر برہان وانی کو اپنے دو ساتھیوں سمیت جان بحق کیا گیا تب سے آج تک وادی میں 65 ہلاکتیں ہوئیں، ہزاروں کی تعداد میں عورتیں، بچے، بوڑھے اورنوجوان زخمی ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں زخمیوں کا علاج وادی کے بڑے ہسپتالوں میں چل رہا ہے جن میں کئی ایک آنکھوں میں پلیٹ لگنے کی وجہ سے بینائی سے بھی محروم ہو گئے ہیں، کئی ایک سننے سننانے کے بھی قابل نہیں رہے،کئی ایک بے سہارا ہو گئے۔ غرض نہتے شہریوں کے لہو کی ارزانی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور اس طرح سے حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت سے 2010 کے بعد 2016 میں اور ایک عوامی ایجی ٹیشن شروع ہوئی۔
پوری وادی میں ایک طرح کی بے چینی پائی جاتی ہے۔ اکثر علاقوں میں آئے روز سیکورٹی فورسز اور نوجوانوں کے درمیان لگاتار جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ جھڑپوں میں ہر روز قریباً درجنوں شہری زخمی ہوتے رہتے ہیں۔ وادی میں تقریباً ہر روز سیکورٹی فورسز کی زیادتیوں کی خبریں بھی موصول ہورہی ہیں، عوامی حلقوں کا کہنا ہی کہ سیکورٹی فورسز کو وادی میں زیادتیاں کرانے کی ایک طرح کی لائنس دی گئی تھی، عوامی حلقوں میں یہ بات گشت کر رہی تھی کہ شہری ہلاکتوں پر حکومت کو کسی قسم کا بھی افسوس نہیں لگتا ہے، وزیراعلیٰ صاحبہ نے پورے ایک مہینے کے دوران جب تک وادی میں 60 سے زائد شہری ہلاکتیں ہوئی ایک طرح سے اپنی زبان پر مہر ثبت کی۔ ہاں اگر بھیج میں کبھی مجبوراً سرکاری بیان دینا غورا کیا تووہ محض اپنا اقتدار بچانے کے لئے، وزیراعلیٰ سمیت کابینہ میں شامل کسی بھی وزیر نے شہری ہلاکتوں پر افسوس تک نہیں کیا، گنے چنے چند وزیروں نے اس دوران اپنی نوکری بدستور رکھنے کےلئے کبھی کبھی اپنے بیان جاری کئے وہ بھی محض ایک دیکھوا تھا۔
2010 ء میں جب عمر عبداللہ کی قیات والی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی سرکار تھی تب بھی ایک لمبی عوامی ایجوٹیشن چلی اور اس دوران بھی لگاتار قریباً تین مہینوں کے دوران شہری ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا مگر اس دوران حکومت میں شامل نیشنل کانفرنس کے وزیر علی محمدساگر نے ضرور ایک بیان میں کہا کہ مرکز سیکورٹی فورسز کو لگام دے، شہری ہلاکتوں کے لئے سیکورٹی فورسز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے علی محمد ساگر نے یہ بیان جو ان کو اُس وقت مسلسل شہری ہلاکتوں پر دینا پڑا ، وہ الگ بات ہے کہ مرکز نے یہاں کے پولیس سربراہ کو براہ راست ہدایت دینے شروع کئے۔ اور اس طرح سے فورسز نے علی محمد ساگر کے بیان کو خاطر میں نہیں لایا۔ یہ بھی الگ بات ہے کہ علی محمد ساگر ایک طرف سیکورٹی فورسز کو لگام دینے کی بات کہہ رہا تھا تو دوسری طرف سیکورٹی فورسز پھر بھی نہتے شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا اور عام شہری ہلاکتیں انجام دے رہا تھا۔ اتنا ہی نہیں اس دوران اس وقت کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی جوش میں آگئے وہ فوراً دلی روانہ ہوئے اور دلی میں وزیر داخلہ کے ساتھ اس بارے میں گفت و شنید کرنے چلا گیا حالانکہ یہاں وادی میں ایک افواہ ضرور چلی کی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ شہری ہلاکتوں کو لے کر بطور احتجاج مرکز کو اپنا استعفیٰ پیش کرنے دلی روانہ ہوا، مگر دلی سے جب عمر عبداللہ بغیر استعفیٰ دئے واپس سرینگر لوٹ آئے تو یہ بات بھی ضرور گشت کرنے لگی کہ سینئر عبداللہ نے عمر عبداللہ کو یہ کہہ کر ایک زبردست ڈھانٹ دی کہ نیشنل کانفرنس نے ایسے کئی دور دیکھے ہیں اور نیشنل کانفرنس کبھی بھی شہری ہلاکتوں کو لے کر کمزور نہیں ہوئی۔ اس طرح سے عمر عبداللہ کو سینئر عبداللہ نے ایک طرح سے دلی میں حوصلہ دے کر واپس سرینگر بھیج دیا۔ یہاں پر قابل غور ہے کہ مسلسل شہری ہلاکتوں کو لے کر عمر عبداللہ نے احتجاج کے طور پر ڈرامہ ہی سہی نئی دہلی جاکر اپنا استعفیٰ پیش کرنے کی ضرور کوشش کی مگر آج ریاست کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی لگاتار شہری ہلاکتوں کو لے کر اظہار غم بھی نہیں کرتیں، وزیراعلیٰ بننے سے پہلے محبوبہ مفتی عوام کی غمخوار تھی اور شہری ہلاکتوں کو لے کر حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے والی تھی مگر اب جب حکومت میں بطور سربراہ خود ہیں تو سارا کچھ دیکھ کر کچھ دیکھائی نہیں دیتی۔
محبوبہ مفتی جب وزیراعلیٰ کے عہدے پر نہیں تھیں اور پی ڈی پی بھی جب اقتدار میں نہ تھا تو محبوبہ مفتی ریاست کے عوام خاص کر وادی کشمیر کے عوام کی غمخوار نظر آرہی تھی، کشمیری عوام کے تئیں زبان کے ذریعے ہی سہی ہمدردی رکھتی تھی اتنا ہی نہیں پی ڈی پی کو جب اقتدار نہ تھا اور محبوبہ مفتی کو بھی جب وزیراعلیٰ کا منصب نہ تھا، وادی میں اگر کہیں پر کوئی ہلاکت ہوتی تھی چاہے وہ شہری ہلاکت ہی ہو ضرور ان کے اہل خانہ کو تعزیت کرنے جاتی تھی، سوگواران کو نہ صرف زبانی تعزیت کرتی تھی بلکہ اپنے آنسو بھی وہاں ضرور بہاتی تھی اس طرح سے محبوبہ مفتی نے خاص کر وادی میں ایک طرح کی کشمیری عوام کی ہمدردی رکھنے والی لیڈر کی لائسنس حاصل کررکھی تھی۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئی تو وہ اپنے تمام وعدے بھول گئیں جو وہ پہلے کشمیری عوام سے کی تھیں۔ اور وہ کسی بھی طرح سے عوام کی وہ لیڈر نہیں رہی جو اقتدار سے پہلے تھی، یہاں محبوبہ مفتی کی ہی بات نہیں بلکہ یہاں تقریباً سبھی لیڈر جو آج تک وزیراعلیٰ کے اعلیٰ منصب پر براجمان ہوئے یا رکھے گئے۔ اقتدار سے پہلے محبوبہ مفتی بھی عوام میں اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لئے یہاں جان بحق ہوئے نوجوانوں کی گھر جا کر آنسو بہاتی تھی اور اب جبکہ وزیراعلیٰ کا منصب حاصل کیا تو پہلے جیسا معاملہ اْن میں بھی نہ رہا ۔ اب ان بے گناہوں کی غمخوار نہ رہی جو آئے روز کسی نہ کسی طرح عذاب و عتاب کے شکار ہورہے ہیں۔ آج یہ وہ محبوبہ مفتی نہ رہی جو وہ اقتدار سے پہلے تھی، آج یہ وہ لیڈر نہ رہی جو جان بحق نوجوانوں پرواویلا کرتی تھیں۔ آج ان کی بھولی الگ سی ہے۔
2010میں اپوزیشن لیڈر کے طور محبوبہ مفتی نے شہری ہلاکتوں کو لے کر سرکار پر دبائو بنانے کے لئے ریلیاں نکالتی تھی، کئی ایک مارے گئے بچوں کی تصویر پلے کارڈوں پر لے کر آئے روز پی ڈی پی محبوبہ مفتی کی قیادت میں ریلیاں نکالتی تھیں۔
اب اگر چہ آج 2010نہیں بلکہ 2016 ہے صورتحال2010 سے بھی بدتر ہے ،2010 میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی سربراہی بطور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کر رہا تھا اور آج حکومت کی سربراہی محبوبہ مفتی کر رہی ہے، اُس وقت حکومت کو محبوبہ مفتی لتاڑ رہی تھی اور آج عمر عبداللہ لتاڑ رہا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ دونوں لیڈر شہری ہلاکتوں پر ایک دوسرے کولتاڑنے کے لئے مجبور نہیںبلکہ مجبور اگر وہ ہے بس اقتدار کے لئے،2010 میں محبوبہ مفتی کو اقتدار نہیں تھا اور آج عمر عبداللہ اقتدار سے محروم ہے۔