نقطہ نظر

حقوق انسانی کی نفی

کلدیپ نائر
جب جمہوریت لڑکھڑاہٹ کا شکار ہوتی ہے تو اس سے آمریت کو شہ ملتی ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں سری لنکا کے خلاف ووٹ دینے سے باز رہ کر ایک بڑے گناہ کا ارتکاب کیا ہے۔ ایک قرار داد پاس کرانے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ کیا سری لنکا میں تامل ٹائیگرز (ایل ٹی ٹی ای) کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران 40 ہزار جنگجوؤں اور دیگر افراد کو ہلاکت کا شکار بنایا گیا ہے چنانچہ اس کے لیے ایک شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائے۔ واضح رہے تامل ٹائیگرز نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے تھے۔
حقوق انسانی کے لیے ووٹنگ سے بھارت کی غیر حاضری نے مجھے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے یہ الفاظ یاد دلا دیے کہ جارحیت یا حقوق انسانی کی خلاف ورزی پر ہمیں ہرگز غیر جانبدار نہیں رہنا چاہیے۔ تاہم منموہن سنگھ حکومت نے کولمبو میں مہندرا راجہ پاکشے کی حکومت کے خلاف غیر جانبداری اختیار کر کے آمریت کی حمایت کی ہے۔ نئی دہلی نے اس بارے میں کوئی تردد نہیں کیا کہ اس نے ایسا کر کے تاملوں کے حقوق کو کتنا زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور یہی نقصان خود بھارت کے انداز حکمرانی کو بھی پہنچا ہے۔
میری تشویش وزارت امور خارجہ کے بیوروکریٹس کے بارے میں ہے جنہوں نے اپنے مخصوص ’’مائنڈ سیٹ‘‘ کی وجہ سے ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہی ان کے ملک کے مفاد میں ہے۔ بے اختیار وزیر خارجہ سلمان خورشید کے لیے سر تسلیم خم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ غالباً ان 100 ماہی گیروں کی رہائی چاہتے تھے جو سمندر میں راستہ بھٹک کر سری لنکا کی حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ لیکن سلمان خورشید اب کیا کریں گے جب کولمبو کی بحریہ نے چار ماہی گیروں کو ہلاک بھی کر دیا ہے؟
’’ڈی ایم کے‘‘ کے سربراہ ایم کرونا نندھی جو بصورت دیگر حکمران کانگریس کے حامی ہیں اب وہ سری لنکا کے تاملوں کو نیچا دکھانے پر نئی دہلی حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ تامل ناڈو اور دوسری ریاستوں کا ردعمل قابل فہم ہے۔ لیکن جو بات قابل فہم نہیں وہ منموہن سنگھ کی حکومت کا طرز عمل ہے جسے ہر صورت میں عوام کے جذبات اور تمناؤں کو فوقیت دینی چاہیے خواہ نئی حکومت کے انتخابات میں بمشکل چھ ہفتے ہی کیوں نہ رہ گئے ہوں۔ سری لنکا کو بھارت کی حکمران کانگریس کو معصوم سمجھ کر دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ اس نے تاملوں کے جمہوری حق سے غداری کی ہے۔
مجھے راجہ پاکشے کی حکومت کے ردعمل پر حیرت نہیں ہوئی، ان کا یہ کہنا کہ ’’آ پ کا شکریہ۔ بے شک نئی دہلی حکومت پوری جمہوری دنیا کی طرف سے دباؤ میں تھی جس کا قائد امریکا ہے جب کہ چین اور پاکستان میں جمہوریت ابھی اتنی مضبوط نہیں، لیکن انھوں نے سری لنکا کی حمایت کی ہے۔ بھارت کا موقف یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ ہر صورت میں حقوق انسانی کے تحفظ پر کاربند ہے۔
مجھے ایل ٹی ٹی ای (LTTE) کی شکست پر کوئی افسوس نہیں کیونکہ وہ ایک دہشت گرد تنظیم بن چکی تھی لیکن حقوق انسانی کی پاسداری کے حوالے سے مجھے ان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد ان کے جنگجووں اور دیگر حامیوں کے قتل کا بڑا افسوس ہے۔ سری لنکا کی فوج نے، جسے کہ صدر راجہ پاکشے اور ان کے بھائی وزیر دفاع گوٹا بھائیا راجہ پاکشے کی سرپرستی حاصل ہے، خون کی یہ ہولی کھیلنے پر کسی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔
دنیا کو اس قتل عام کا کبھی پتہ نہ چلتا اگر بی بی سی کا چینل 4 اس کی دستاویزی فلم نہ دکھاتا کہ ایل ٹی ٹی ای (LTTE) کے عسکری دستوں کے ساتھ بے گناہ تاملوں کو کس بے دردی سے تشدد کے بعد ہلاک کیا گیا۔ کولمبو نے خود جو انکوائری کی وہ محض خانہ پری تھی۔ اس میں فوج کو ہر قسم کے الزام سے مبرا قرار دیکر سارا ملبہ تاملوں پر ڈال دیا گیا جو کہ سری لنکا کے امور میں برابری کا حق چاہتے ہیں۔
بھارت نے سنہالیوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ ملک کے شمال میں واقع جافنا کے علاقے کو خود مختاری دیدیں۔ لیکن یہ ساری کوششیں وزیر اعظم اندرا گاندھی کے دور میں کی گئی تھیں۔ ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا کیونکہ بھارت کو خود بھی اس بات کا خطرہ تھا کہ اس کا اثر کہیں اس کے اس پڑوسی پر نہ پڑے جس کے چین کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ لیکن ہم کب تک یہ منافقانہ موقف قائم رکھ سکتے ہیں کہ ایک طرف تو سری لنکا کے حکمران سنہالیوں کی خوشنودی کا خیال رکھیں اور دوسری طرف تاملوں کو ان کی خود مختار حیثیت کا یقین دلاتے رہیں۔ کاغذات پر سنہالی اور تامل دو سرکاری زبانیں ہیں لیکن عملی طور پر تامل کے لیے کوئی جگہ نہیں حتیٰ کہ کوئی پولیس اسٹیشن بھی تامل زبان میں لکھی ہوئی شکایت قبول نہیں کرتا چہ جائیکہ ریاست کے سیکریٹریٹ میں اس زبان کی کوئی جگہ ہو۔
میں اس دلیل کو سراہتا ہوں کہ ہمارا ناراض پڑوسی سری لنکا بھارت کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہے لیکن کولمبو کی حکومت اس سے زیادہ اور کر بھی کیا سکتی ہے کہ اس نے چین کو اپنے ملک میں قدم رکھنے کی اجازت دیدی ہے۔ ایک طرف ٹرنکو مالی بندر گاہ کو بہتر بنانے کا ٹھیکہ بیجنگ کو دیدیا گیا ہے اور دوسری طرف سری لنکا بھارت دشمن عناصر کو پناہ دے رہا ہے۔
جب سری لنکا کی حکومت اس بارے میں کسی احتساب سے انکار کر دے تو پھر ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اس نے پہلے ہی دو قرار دادیں مسترد کر دی ہیں جن میں سے ایک اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی معاونت سے پیش کی گئی تھی۔ بھارت نے رائے شماری میں حصہ نہ لے کر سری لنکا کی حکومت کو الزام سے بچانے کی کوشش کی۔ شاید یہ ہم نے اس لیے کیا کہ انسانی حقوق کے حوالے سے ہمارا اپنا ریکارڈ بھی داغدار ہے اور ہم اس حوالے سے کسی بیرونی طاقت سے تحقیقات بھی نہیں کرانا چاہتے۔ ہماری بے حسی کا اندازہ اس حقیقت سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری کسی سیاسی پارٹی کے انتخابی منشور میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ دو بڑی پارٹیاں کانگریس اور بی جے پی کے اپنے اقتدار کا ریکارڈ اسقدر خراب ہے کہ وہ اس موضوع پر بحث کرنا بھی گوارہ نہیں کرتیں۔ عام آدمی پارٹی (عاپ) جو کہ این جی اوز کا سیاسی پلیٹ فارم ہے اس کو اپنے ایجنڈے میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کا معاملہ سرفہرست رکھنا چاہیے لیکن یہ پارٹی بھی اپنے راستے سے بھٹک رہی ہے۔ وہ کانگریس اور بی جے پی کا متبادل بننے کی کوشش کر رہی ہے۔ عوام ایک تبدیلی چاہتے ہیں ’عاپ‘ ایک تیسری طاقت بن سکتی ہے لیکن اس کا لیڈر اروند کجریوال خود بھی ایسے ہی مصاحبین میں گھرا ہوا ہے جیسے کہ کانگریس اور بی جے پی۔ ’عاپ‘ دوبارہ کامیابی حاصل کر سکتی ہے بشرطیکہ وہ انتخابات کو ہی اپنی آخری منزل نہ سمجھ لے۔ قوم کو ایک ایسی قوت کی ضرورت ہے جو خط غربت کے نیچے گزر بسر کرنیوالے آدھے سے زیادہ لوگوں کو ان کے قدموں پر کھڑا کر سکے۔ کرپشن کو ختم کرے اور اجتماعیت کے نظریے کو بروئے کار لائے۔
اگر سری لنکا کی حکومت نے اپنے اصولوں کو اقتدار کی سیاست سے بالاتر رکھا ہوتا تو اس پر جنگی جرائم کا الزام نہیں لگ سکتا تھا لیکن راجا پاکشے سے اس بات کی توقع عبث ہے کیونکہ وہ سر تا پا ایک آمر ہے۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ نئی دہلی حکومت نے ایسے ملک کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرنے کی کوشش کی ہے جو عام انسان کو بے جا دباؤ کا شکار بنانے کے لیے جانا جاتا ہے خاص طور پر تاملوں کو۔ مزید افسوس اس بات کا ہے کہ الیکشن کے ہنگامے میں عدل و انصاف کے مطالبے کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے مجھے ایک ذاتی بات یاد آئی۔ میں کولمبو کے دورے پر گیا تھا کہ آدھی رات کے وقت میرے ہوٹل کے دروازے پر دستک ہوئی اور پولیس دندناتی ہوئی کمرے میں داخل ہو گئی۔ وہ وہاں کوئی تحریری مواد تلاش کرنے آئے تھے لیکن کچھ دیر کے بعد وہ ناکام ہو کر واپس چلے گئے۔ میرا جرم یہ تھا کہ میں نے اس دن ایک پریس کانفرنس کر کے ایل ٹی ٹی ای (LTTE) پر سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان سے سیاسی طور پر لڑا جائے۔
(رجمہ: مظہر منہاس)