اِسلا میات

حقیقی مومن کی پہچان

حقیقی مومن کی پہچان

حامد علی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:146146مومن اپنے گناہوں کو133بلاریب و شک133 ایسا محسوس کرتا ہے 145 گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اور اسے (ہردم) اس بات کا خوف ہے کہ کہیں پہاڑ اس پر ٹوٹ نہ پڑے اور حق فراموش و ناخدا ترس بندہ اپنے گناہوں کو بالکل ایسا محسوس کرتا ہے145 گویا ایک مکھی تھی جو اس کی ناک پہ سے گزری تو اس نے اسے یوں کرکے ہٹادیا۔145145 اور ابوشہاب (راوی) نے ناک کے اوپر پانے ہاتھ سے اشارہ کرکے بتایا۔
146146مومن اپنے گناہوں کو۔ بلا ریب و شک۔ ایسا محسوس کرتا ہے145گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے145 اور اسے (ہردم)اس بات کا خوف ہے کہ کہیں پہار اس پر ٹوٹ نہ پڑے133145145یعنی اللہ کی بندگی کا عزم راسخ رکھنے اور اس کی اطاعت کی راہ میں پہیم جدوجہد کرنے کے باوجود بندئہ مومن سے خواہشات نفس 145 جذبات و ہیجانات اور تسویلات شیطانی کے زیر اثر وقتی طور پر جو کوتاہیوں اور نافرمانیاں ہوجاتی ہیں145 وہ انہیں درست و صواب نہیں سمجھتا145 نہ تاویلات کے ذریعہ دوسروں کو اور خود اپنے آپ کو کسی فریب میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتا ہے145 اور نہ ایسا ہوتا ہے کہ اسے اپنی کوتاہیاں محسوس نہ ہوتی ہوں145 یا محسوس تو ہوتی ہوں مگر حقیر معلوم ہوتی ہوں۔ اس کے برعکس وہ اپنی ہر چھوٹی بڑی کوتاہی کو محسوس کرتا ہے اور شدت کے ساتھ محسوس کرتا ہے۔ ہو اپنے معمولی گناہ کو بھی پہاڑ کی مانند خیال کرتا ہے اور اللہ کی گرفت اور دنیا و آخرت میں اپنا گناہ کی ہولناک پاداش کے خوف سے لرزنے لگتا ہے۔ اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ ہر ایک ایسے خطرے میں پھنس گیا ہے جس سے بچ نکلنے کی اگر فورا ًکوشش نہ کی گئی تو وہ اسے ہلاکت سے دوچار کردے گا۔ اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اور پہاڑ سخت زلزلے کی حالت میں ہونے کی وجہ سے بس اْس پر گراہی چاہتا ہے145 اور پہاڑ گرا اور وہ المناک موت و ہلاکت سے دوچار ہوا۔ یہ محسوس کرکے وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس پرخطر موقف سے بھاگ کھڑے ہونے کی جدوجہد کرتا ہے جس گندگی نے اس کے دامن کو الودہ کردیا تھا اْسے اپنے سے زائل کردینے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے145 اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کی زد میں محسوس کرکے اپنی کوتاہی پر نادم و مغموم ہوتا ہے اوراس عذاب سے بچنے کے لیے اْسی کا دامن پکڑتا ہے جس کے سوا انسان کے لیے کوئی پناہ نہیں اور جس کے سوا انسان کو اس کے گناہوں کی ہولناک پاداش سے کوئی بچانے والا نہیں۔ وہ اس کی نافرمانی سے تائب ہوتا ہے145 الحاح و زاری کے ساتھ اپنے اْس مہربان آقا کے آگے سربجودہوتا ہے 145اْس کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پھر تھام لیتا ہے اور اْس کی نافرمانی سے بچنے اور اس کی رضا پر چلنے کا اس سے پھر محکم عہد کرتا ہے133 یہ ہے حقیقی ایمان کا نتیجہ او ریہ ہے حقیقی مون کی علامت ! آیئے اس آئینہ میں ہم سب اپنا اپنا چہرہ دیکھیں کہ ہم میں کس درجہ حقیقی ایمان ہے اور کہاں تک ہم میں یہ صفت موجود ہے اور کہاں تک موجود نہیں ہے!
146146اور حق فراموش و ناخدا ترس بندہ اپنے گناہوں کو بالکل ایسا محسوس کرتا ہے 145 گویا ایک مکھی تھی جو اس کی ناک پر سے گزری تو اْس نے اْسے یوں کرکے ہٹادیا۔145145یعنی وہ اللہ کی نافرمانی کو بہت معمولی خیال کرتا ہے145 وہ سمجھتا ہے کہ ان نافرمانیوں سے اْس پر کوئی خاص بات ہوئی ہی نہیں۔ جس طرح مکھیاں ادھر ادھر اڑا کرتی ہیں او رپھر انسان کے بدن پر بیٹھ جاتی ہیں اور اس سے انسان کسی ہلاکت سے دوچار نہیں ہوتا145 اور نہ مکھی کو اڑانے کے لیے کسی فکر یا جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے 145 وہ خودبخود اڑ جاتی ہے یا ہاتھ کا معمولی سا اشارہ اسے اڑانے کے لیے کافی ہوتا ہے145 بالخصوص جبکہ وہ ٹھیک سے بیٹھی بھی نہ ہو بلکہ اس نے انسان کی ناک کو بس ذرا سا چھولیا ہو۔ بالکل یہی حال ناخدا ترس بندے کی نظر میں اللہ کی نافرمانیوں کا ہوتا ہے145 وہ نافرمانیوں پر نافرمانیاں کرتا ہے مگر یہ نافرمانیاں کبھی بھی اس کے لیے تشویش خاطر جکا موجب نہیں بنتیں وہ ہر نافرمانی کو حقیر خیال کرتا ہے اور رفتہ رفتہ گناہوں میں سر سے پیر تک ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ وہ 146146فاجر145145 ہوتا ہے145 اسے نہ اس کا احساس ہوتا ہے کہ اللہ کے اس پر فی الواقع کتنے انعامات و احسانات ہیں اور ان کے سلسلے میں اس پر اللہ کے کتنے زیادہ حقوق عاید ہوتے ہیں اور انہ اس کے دل میں خوف خدا و آخرت زندہ وبیدار ہوتا ہے کہ اسے نافرمانی کی راہ پر آگے بڑھنے سے روک سکے اور شدید احتساب اور کثیر استغفار و توبہ کی طرف مائل کرسکے133 دیکھنا یہ ہے کہ اللہ کی نافرمانی کو حقیر سمجھنے کا مرض ہم میں تو پرورش نہیں پر رہا ہے!