نقطہ نظر

حکمران خاندان کی جوابدہی

حکمران خاندان کی جوابدہی

کلدیپ نائر
مجھے افسوس ہے کہ گزشتہ مسلسل دو ہفتوں کے بعد مجھے پھر ایمرجنسی کا ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔ مسز اندرا گاندھی کے ایک معتمد خاص آر کے دھاون نے انکشاف کیا کہ سونیا گاندھی کو ایمرجنسی پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔
مگر یہ اس سے برعکس بات ہے جو ایمرجنسی کے نفاذ کے موقع پر میں نے سنی تھی۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ سونیا اور ان کے شوہر راجیو گاندھی دونوں اٹلی واپس جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے تا کہ اپنے بچوں کی ایک آزاد ماحول میں پرورش کر سکیں۔ لیکن اب دھاون نے جو کہا ہے اس سے سونیا گاندھی کے لیے یہ لازم ہو گیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کے بارے میں اپنے موقف کی وضاحت کریں۔
ایمرجنسی کے چالیس سال بعد بھی حکمران خاندان جمہوریت کی روشنی گل کرنے کے بارے میں کھل کر کچھ نہیں بتا رہا۔ اس وقت جو بھی ہوا اس کی تمام تر ذمے داری صرف حکمران خاندان پر تھی۔ مسز گاندھی کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنی انتخابی مہم میں سرکاری مشینری کے استعمال پر منصب چھوڑنے کا حکم دیدیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے انھیں سٹے دیدیا۔ دھاون کے ریمارکس سے پتہ چلتا ہے کہ حکمران خاندان میں اس پر کوئی ندامت نہیں تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اس خاندان کی دانستہ خاموشی کا اپنی جانب سے کوئی جواز پیش کرنے کی کوشش کی لیکن بہتر یہی ہو گا کہ یہ خاندان قوم سے جس قدر جلد ممکن ہو معافی مانگ لے کیونکہ یہی ان کے لیے اور ملک کے لیے بہتر ہو گا۔
جنتا حکومت نے ایمرجنسی کی زیادتیوں کی تحقیقات کے لیے شاہ کمیشن قائم کیا جس نے دھاون کو معزول کر دیا تھا۔ اس نے کمیشن کے سامنے بیان دیا کہ وہ حکمران خاندان کے خلاف کوئی بات نہیں کرنا چاہتا بلکہ اس نے سارا الزام مغربی بنگال کے وزیراعلیٰ سدھارتھ شنکر کے سرتھوپ دیا۔ دھاون کے انکشافات کی روشنی میں اس مقدمے کو دوبارہ کھولے جانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اداروں کو کس طریقے سے بے اختیار کر دیا گیا جب کہ تمام طاقت مسز اندرا گاندھی کے ہاتھوں میں مرتکز ہو گئی۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر ایل کے ایڈوانی نے خبردار کیا ہے کہ ایمرجنسی دوبارہ بھی لگ سکتی ہے۔ ان کا یہ کہنا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے کسی کا نام تو نہیں لیا لیکن ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف ہے جنھوں نے تمام اداروں کو غیر متعلق بنا دیا ہے اور سارے اختیارات وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں جمع کر دیے ہیں۔ بالفاظ دیگر پی ایم او حقیقی اقتدار کا مرکز بن گیا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایمرجنسی دوبارہ نافذ کی جاسکتی ہے کیونکہ جنتا حکومت نے آئین میں جو ترامیم کی تھیں ان کے باعث ایمرجنسی کا نفاذ ناممکن ہو چکا ہے۔
اس کے باوجود ایسے حالات ضرور پیدا کیے جا سکتے ہیں جن کے نتیجے میں کسی قانونی جواز کے بغیر ہی ایمرجنسی جیسی صورتحال پیدا کی جا سکتی ہے۔ مودی کی حکمرانی بھی ایک اعتبار سے بدشگونی کی علامت ہے کیونکہ کابینہ کے کسی وزیر کی کوئی حیثیت ہی نہیں جب کہ کابینہ سے صلاح مشورہ کی بات محض کاغذی کارروائی ہے۔ میری رائے میں یہ ایسا وقت ہے جب تمام سیاسی پارٹیوں کو سر جوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے اور فیصلہ کرنا چاہیے کہ کسی بھی صورت میں ایمرجنسی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اگر چند عشرے پہلے اندرا گاندھی نے شخصی حکومت قائم کر لی تھی تو آج نریندر مودی نے بھی وہی وتیرہ اختیار کر رکھا ہے۔ تقریباً تمام اخبارات اور ٹیلی ویژن چینل بھی اسی انداز سے خبریں نشر کر رہے ہیں جس طرح مسز گاندھی کے دور میں کر رہے تھے۔ اس پس منظر میں مدھیہ پردیش کے بہت سے صحافیوں کا طرز عمل میرے لیے حیران کن نہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مدھیہ پردیش ملک بھر میں واحد ایسی ریاست ہے جس کا انتظام بڑے اچھے طریقے سے چل رہا ہے۔ وجہ اس کی پھر وہی ہے۔ سندیپ کوتھری نامی صحافی نے اس خط متارکہ کو عبور کرنے کی کوشش کی جو اسٹیبلشمنٹ نے کھینچ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادی اظہار کو برداشت نہیں کیا جاتا کیونکہ اسے مخصوص عناصر اپنے خلاف چیلنج خیال کرتے ہیں۔
44 سالہ کوتھری نے انکشاف کیا کہ لینڈ مافیا پولیس کی مدد سے بھاری کرپشن میں ملوث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ کوتھری کی موت کا باعث اس کی صحافت نہیں۔ گویا یہ بات ثابت ہو گئی کہ اسے پولیس نے لینڈ مافیا کے ایماء پر خاموش کر دیا۔ بعض سرگرم کارکنوں نے کئی ماہ پہلے یہ معاملہ اٹھایا تھا لیکن حکام نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ لینڈ مافیا نے اپنی حدود میں مسلسل تجاوز جاری رکھا اور پورا دن اپنے ٹرکوں کو ریت سے بھرتے رہتے ہیں۔ بنیادی طور پر ان کو صرف رات میں ریت بھرنے کی اجازت تھی لیکن انھوں نے حکام کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے لہٰذا انھیں کوئی ڈر خوف نہیں رہا۔ کوتھری کو تقریباً دو ہفتے قبل مدھیہ پردیش کے ضلع بالا گھاٹ میں ان کے گھر سے اغوا کر لیا گیا تھا۔
ان کے اہل خانہ نے اگلے دن ہی کوتھری کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کروا دی۔ اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تین نوجوانوں نے جن کا لینڈ مافیا سے قریبی تعلق تھا کوتھری کو اغوا کر کے قتل کر دیا کیونکہ اس نے مافیا کے خلاف عدالت میں جو مقدمہ دائر کر رکھا تھا اسے واپس لینے سے انکار کر دیا۔ مافیا کی طرف سے کوتھری پر مجرمانہ حملے کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے ان تین نوجوانوں کو گرفتار کر لیا جنھوں نے اقبالی بیان دیا کہ انھوں نے کوتھری کو ہلاک کر کے اس کی میت کو جنگل میں جلا دیا ہے۔
پولیس اب یہ تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا کوتھری کو ہلاک کرنے کے بعد جلایا گیا یا اس کو زندہ ہی نذر آتش کر دیا گیا۔ چونکہ اس معاملے کے تمام حقائق منظر عام پر نہیں آئے اس لیے ابھی تک کسی پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی۔ لیکن کوتھری کی ہلاکت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا اور نہ ہی اس بات کی تردید کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک صحافی تھا۔ اور یہ بات کہ کارپوریٹ سیکٹر پہلے کی نسبت کہیں زیادہ بااثر اور طاقتور ہو چکا ہے۔
یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ بنیادی حقوق اور اظہار خیال کی آزادی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اب انھوں نے سچائی بیان کرنے والے صحافیوں کی گردن مارنا شروع کر دی ہے۔ کوتھری ان کا ایک شکار ہے۔ اس کو زندہ جلایا جانا اسٹیبلشمنٹ اور مافیا کے گھناؤنے گٹھ جوڑ کی علامت ہے اور اس کو سیاسی جماعتیں بھی قبول کر رہی ہیں اور اپنے مفادات کی خاطر وہ جمہوری سیاست کی بیخ کنی کر رہی ہیں۔ بھارت میں جمہوریت دشمن طریقوں پر سمجھوتہ کر لیا گیا ہے کیونکہ یہ شخصی حکومت کا تقاضا ہے جس کی مثالیں ہمیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں بھی نظر آتی ہیں۔
ان دونوں ممالک میں بھی تنقید کرنے والوں کو دبا دیا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ روش کچھ زیادہ ہی نمایاں ہے جہاں شیخ حسینہ آزاد خیال حکمرانی کے بجائے آمرانہ طرز عمل اختیار کر چکی ہیں اور ملک میں ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ جہاں انتخابات کا انعقاد ہی نہ ہو سکے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے گزشتہ عام انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا کیونکہ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اب ملک میں آزادانہ اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہی نہیں رہا۔
(ترجمہ: مظہر منہاس)