اداریہ

حکومت بنائے گا کون؟

ریاست میںچنائو کے سبھی پانچ مراحل اب مکمل ہو چکے ہیں اور اب ان اسمبلی انتخابات کے نتائج دو دن کے بعد یعنی 23 دسمبر کو آنے والے ہیں۔ سبھی نظریں 23 تاریخ پر لگی ہیں ۔ حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو عوام کو نتائج سے کوئی غرض نہیں کیونکہ عوام کو ان نتائج سے نہ آج تک کوئی فائدہ ہوا تھا نہ ہونے کی رکھی جا سکتی ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے پارٹیوں کے اراکین اور لیڈران کو فائدہ ہی فائدہ ہے۔ آج کل اگر چہ بحث و مباحثوں میں یہ بات زور پکڑ رہی ہے کہ آیا 23 تاریخ کو کون سی پارٹی میدان مارنے میں کامیاب ہو گی۔ بحث و مباحثوں میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں پی ڈی پی  کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہیں اس کے بعد کئی حلقوں میں بی جے پی کا نمبر آتا ہے اور کئی حلقوں میں دوسرا نمبر نیشنل کانفرنس کا ہی آتا ہے۔ اس سے خدشہ ملتا ہے کہ ریاست میں حکومت بنانے کے قابل پہلے نمبر پر پی ڈی پی ہے۔ جبکہ دوسرے نمبر پر بی جے پی یا نیشنل کانفرنس ہو سکتا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت بنائے گا کون؟ جیسا کہ سبھی نظریں پی ڈی پی کے سرپرست مفتی محمد سعید پر لگی ہیں کیونکہ ان کی پارٹی نمبر ایک پرآ سکتی ہے۔ مگر سیاست میں کچھ بھی ممکن  ہے۔ جیسا کہ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کا چانس بھی کم نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ پی ڈی پی این سی کا چانس نہیں اور اسی طرح بی جے پی کانگرنس کا چانس بھی نہیں۔ مگر بی جے پی این سی اور پی ڈی پی کانگریس کے ملاپ کا زیادہ امکان ہے۔ کہتے ہیں سیاست سیاست ہے سیاست میں ہر کچھ ممکن ہو سکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے جس کا بر ملا اظہار وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کیا کہ کیا ریاست میں کسی اور کی اتنی ہمت نہیں کہ کیا یہاں باپ بیٹا اور باپ بیٹی کے بغیر حکومت بنانے کے قابل کوئی نہیں، کیا یہاں اس ریاست میں حکومت کرنے کے قابل کوئی اور نہیں ہے۔ خاندانی حکومت کبھی آپ کی آواز نہ بنی اورنہ بن سکے گی۔ کانگریس نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی یہ تینوں مجرم اور گنہگار ہیں۔ ان کو ووٹ کے ذریعے سزا دینا آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ کیوں اور کس لئے انہیں بار بار منتخب کرتے ہیں۔ ان کی ناقص کارکردگی ، لوٹ کھسوٹ دھاندلی دیکھ کر بھی آپ ان کو اعتماد اور ووٹ دے کر اپنے لئے مصیبت مول لیتے ہیں۔ یہاں کے عوام نے برسوں سے کانگریس کی خاندانی حکمرانی دیکھی ہے۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کا خاندانی راج بھی دیکھا ہے۔ نریندر مودی کے ان الفاظ کو اگر سنہری حروف سے تاریخ میں رقم کیا جائے تو غلط نہیں ہوگا کیونکہ یہی اصلیت اور حقیقت ہے۔ یہی کچھ ہو رہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ریاست میں اگر بی جے پی بھی حکومت بنانے کے قابل بنی تو ان تینوں پارٹی نے اگر کوئی کسر باقی رکھی تو وہ بی جے پی پوری کرے گی۔ کیونکہ کہتے ہیں نا سیاست میںسب کچھ جائز ہے۔ الیکشن کے ریلیوں، جلوسوں اور روڑ شوز میں سیاسی پارٹی کی الگ الگ بولیاں ہوتی ہیں اورچنائو مراحل ختم ہونے کے بعد ان کی بولیاں بدل جاتی ہیں۔ چنائو ریلیوں میں سیاسی پارٹیاں دوسرے پارٹیاں پر الزامات کے بوچھاڑ کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر یہاں تک کہ موقعہ پرست ، دھوکے باز ،فلاحی کاموں میں روڑے اٹکانے والے، کوئی تعاون نہ کرنے والے، اور عوام کویہ پیغام کہ آئندہ ان پارٹیوں کے ساتھ نہ کبھی تعاون ہوگا اور نہ ہی ہمارا ان پارٹیوں سے گٹھ جوڑ ہوگا۔ کیونکہ یہ دوسری پارٹیاں دھوکہ کی سیاست چلاتی ہیں ان پارٹیوں کے ساتھ اب اتحاد نہیں ہوگا۔ یہ سب کچھ الیکشن ریلیوں میں ہو چکا ہے اور اب جبکہ نتائج آنے میں دو دن بچے ہیں اور اب ان ہی پارٹیوں کے لیڈران اور ان ہی دوسری پارٹیوں کیلئے لہجہ نرم کر کے یہ کہنے میں شرم بھی محسوس نہیں کرتے کہ ہم نے دوسری پارٹیوں کیلئے رشتہ مکمل ختم نہیں کیا بلکہ رشتہ سنوارنے میں گنجائش ہے۔ یہ پارٹی لیڈران اتنا کہنے میں کیوں شرم محسوس کریں گے کیونکہ عوام بے وقف ہیں عوام میں سمجھ بوجھ ہوتی تو یہ سبھی پارٹیاں ان کو بے وقوف نہ بناتی اور عوام بھی اگر اپنا ووٹ دیتا تو اسی پارٹی کو دیتا جو ان کی حقیقی نمائندگی کرتے۔ یہی حق ہے اور یہی انصاف ہے اپنے ساتھ اپنے ووٹ کے ساتھ۔