سرورق مضمون

حکومت سازی میں شریک پارٹیوںکے درمیان تصفیہ / پی ڈی پی صدر پرانی تنخواہ پرکام کرنے پر راضی

حکومت سازی میں شریک پارٹیوںکے درمیان تصفیہ / پی ڈی پی صدر پرانی تنخواہ پرکام کرنے پر راضی

ڈیسک رپورٹ
ریاست میں حکومت سازی کا مسئلہ حل ہوگیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ حصہ داری پر کچھ تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔ پی ڈی پی کو اس وقت اسمبلی میں ایک سیٹ کا خسارہ ہے۔سابق وزیراعلیٰ مفتی سعید کی وفات سے پی ڈی پی کو ایک سیٹ کم ہوگئی ہے۔ اب بی جے پی کو سیٹیں اور پی ڈی پی کا سیٹوں پر قبضہ ہے ۔ اس وجہ سے بی جے پی مطالبہ کررہی تھی کہ انہیں کابینہ میں ایک اور وزارت مل جائے۔ اس بات پر کئی روز تنازع رہا۔ یہ تنازع اس وقت حل ہوگیا جب مرکز سے بی جے پی کو ہدایت ملی کہ وزارت پرتنازع کھڑا نہ کریں بلکہ حلف برداری کی تقریب میں شریک ہونے کی تیاری کریں ۔
محبوبہ مفتی ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہونگی۔ انہیں اگرچہ سیاست کا کافی تجربہ ہے اس کے باوجود کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وزارت ان کے سر پر پھولوں کا نہیں بلکہ کانٹوں کا تاج ہوگا۔ ان کی پارٹی پی ڈی پی کا لوگوں کے اندر شہرت کا گراف مبینہ طوربہت ہی نیچے آگیا ہے ۔ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے پارٹی لوگوں کی نظروں میں گرچکی ہے ۔ اس وجہ سے محبوبہ مفتی کا پہلے ہی وزیراعلیٰ بننے میں تامل تھا۔ آپ پارٹی کو مضبوط کرنا چاہتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تین مہینے تک ٹال مٹول سے کام لیا ۔ لیکن ایسی صورت میں الیکشن کے لئے میدان میں آنا تھا۔ اس وقت پی ڈی پی کو لوگوں کا جو سپورٹ ہے وہ اس قدر نہیں ہے کہ پارٹی آسانی سے الیکشن جیت جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی صدر پر کافی دبائو ڈالا گیا کہ وہ کسی طرح سے اقتدار حاصل کرے۔پارٹی کارکنوں کا کہنا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہونا الیکشن لڑنے سے آسان ہے۔ اسی وجہ سے محبوبہ مفتی بی جے پی کے ساتھ اتحاد میں شامل ہونے پر راضی ہوگئیں۔ این سی کی کوشش تھی کہ الیکشن کئے جائیں۔ اس غرض سے عمر عبداللہ نے گورنر کے ساتھ ملاقات کرکے انہیں ریاستی ا سمبلی توڑنے اور جلد از جلد الیکشن کرانے کا مشورہ دیا۔ آئین کے مطابق اسمبلی توڑنے کا مشورہ صرف وزیراعلیٰ دے سکتا ہے ۔ باقی کسی کا مشورہ قبول یا رد کرنے کا اختیار صرف اور صرف گورنر کو ہے۔ عمر عبداللہ اپنی موجودہ حیثیت میں گورنر کو اسمبلی توڑنے پرمجبور نہیں کرسکتا ہے۔ اسی وجہ سے گورنر نے عمرعبداللہ کا مشورہ ماننے سے انکار کیا۔ اگرچہ گورنر کو بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ پی ڈی پی اقتدار سنبھالنے کے لئے راضی نہیں۔ اس وجہ سے اس نے سارا ریاستی انتظام اپنے ہاتھوں میں لیا۔ گورنر نے اپنے لئے دومشیر بھی مقرر کئے۔ گورنر نے جس طریقے سے انتظامیہ پر گرفت حاصل کی اس سے لگتا تھا کہ ان کی حکمرانی لمبی ہوگی۔ اس دوران اس نے لوگوں کو گڈ گورننس دینے کی کوشش کی۔ کئی مسائل کو حل کرنے کے لئے گورنر نے فوری اقدامات اٹھائے۔ سیلاب زدگان کی باز آباد کاری کے لئے فنڈس واگزار کئے گئے۔ دریا سے ملبہ ہٹانے کے کام میں سرعت لائی گئی۔ مرکز سے ریاست کے لئے مزید فنڈس واگزار کرنے کے لئے کہا گیا۔ اس غرض سے گورنر نے مرکزی وزیرخزانہ ارون جیٹلی کو ایک مراسلہ بھیجدیا۔ لیکن یہ انتظام زیادہ آگے نہ بڑھ پایا۔ اس پرجلد ہی بریک لگادیا گیا۔ جیٹلی کا پلڑہ محبوبہ مفتی کے حق میں جھکا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کئی بار کھلے عام اعلان کیا کہ مرکزی سرکار محبوبہ مفتی کو ہرقسم کی امداد فراہم کرے گی ۔ انہوں نے ذاتی طور محبوبہ کو یقین دلایا کہ بی جے پی اعتمادسازی کے اپنے وعدے پرکاربند ہے اور وزیراعظم پیکیج میں اضافہ کرنے کے لئے تیار ہے ۔ انہو ں نے پارلیمنٹ میں اپنے بجٹ تقریر میں اعلان کیا کہ ریاست کو مالی امداد فراہم کی جائے گی۔اس کے بعد ہی پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بات چیت آگے بڑھ سکی۔ بعد میں وزیراعظم نریندر مودی نے محبوبہ مفتی کو ملاقات کے لئے بلایا۔ دونوں کی ملاقات کامیاب رہی اور ریاست میں حکومت بنانے پراتفاق کیا گیا۔اس کے بعد دونوں پارٹیوں کے رہنمائوں نے اپنے اپنے اسمبلی ممبروں سے میٹنگ کی۔ میٹنگ کے بعد پی ڈی پی صدر اور بی جے پی نمائندے نے گورنر سے ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے مخلوط سرکار بنانے کی حامی بھرلی۔ اس طرح سے ریاست میں نئی عوامی سرکار بنانے کا اعلان کیا گیا۔ دونوں پارٹیوں کے اندر وزارت بانٹنے کے مسئلے پرمبینہ طور سخت اختلاف پایا جاتا ہے ۔ کئی سینئر لیڈر اپنے لئے پورٹ فولیوز کا مطالبہ کررہے ہیں۔ پیپلز کانفرنس امیدوار سجاد غنی لون بہتر وزارت کا مطالبہ کررہے ہیں۔ یاد رہے کہ سابق کابینہ میں انہیں پشوپالن کا محکمہ دیاگیا تھا ۔لون اس پر راضی نظر نہیں آرہے تھے۔ شروع میں انہوں نے اس وزارت کا چارج لینے سے انکار کیا تھا ۔ بعد میں ان پر دبائو بڑھ گیا اور مشکل سے انہوں نے وزارت کا چارج لیا۔ اس دوران انہوں نے مفتی سعید کے بہت نزدیک آنے کی کوشش کی ۔ مفتی سعید کی وفات پر انہوں نے کافی دکھ اور افسوس کااظہار کیا ۔ انہوں نے ان کو سب سے زیادہ خراج عقیدت ادا کیا ۔ اس کے بعد جب نئی سرکار بنانے کے لئے کوششیں تیز ہوگئیں تو کہا جاتا ہے کہ لون نے ایگریکلچر یا کوئی انجینئرنگ محکمہ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اب کہا جاتا ہے کہ معمولی رد وبدل کے ساتھ سابق کابینہ موجود رہے گی ۔ اگرچہ سابق سرکار میں کئی وزیرا پنے قلمدانوں پر مطمئن نہیں ہیں۔ لیکن محبوبہ جی نے ان کے مطالبات ماننے سے انکار کیا ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ بجبہاڑہ کے ایم ایل اے رحمٰن ویری نے بھی وزارت میں اپنا درجہ بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ وہ مفتی خاندان کے بہت ہی قریب مانے جاتے ہیں ۔ لیکن ان کے مطالبے پر نظر ثانی کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اسی طرح این سی سے بھاگ کر آنے والے رہنما محبوبہ بیگ کا بھی مطالبہ ہے کہ انہیں اننت ناگ کے اپنے آبائی حلقے سے منڈیٹ دے کر اسمبلی ممبر بنایا جائے اور وزارت میں شامل کیا جائے ۔ اننت ناگ سے مفتی محمد سعید اسمبلی کے ممبر تھے۔ اب ان کی وفات کے بعد یہاں ضمنی انتخاب ہونے والا ہے۔ اسی طرح محبوبہ کے وزیراعلیٰ بننے کی صورت میں ان کی پارلیمنٹ نشست بھی خالی ہوجائے گی ۔ یہاں بھی ضمنی انتخاب ہونے والا ہے۔ محبوبہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بجبہاڑہ سے انتخاب لڑنا چاہتی ہیں۔ ابھی یہ سب قیاس آرائیاں ہیں ۔ منظرنامہ محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد ہی صاف ہوجائے گا۔