اداریہ

حکومت سازی پربحث و مباحثے؟

ریاست میں مفتی محمد سعید کی رحلت کے بعد تاحال سیاسی غیر یقینی صورتحال قائم ہے اور اب جبکہ مفتی محمد سعید کی وفات کو پورے دو مہینے بھی ہوچکے ہیں ،کوئی ایک سیاسی پارٹی حکومت بنانے کے لئے اتنی پہل نہیں کرتی جنتی کی ضرورت ہے۔ ہر کوئی پارٹی عوام میں اپنا وقار بنانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر وزیراعلیٰ عہدے کی دعویدار محبوبہ مفتی اپنے آپ کو منجھی ہوئی سیاستدان ثابت کرنے کی کوشش میں ہے، کشمیری عوام کا مزاج جانچ کر وہ بیان بازی کرنے میں فی الحال مشغول نظر آرہی ہے۔ ان کی طرف سے کبھی دلی سرکار کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی بی جے پی کو، ان کا ایک بیان کہ دلی سرکار کا کشمیر کے تئیں اپروچ جارحانہ ہے اور انہیں ایسی کرسی نہیں چاہیے جس پر بیٹھ کر وہ عوامی مسائل حل نہ کر سکیں۔ سب ٹائیں ٹائیں فش ثابت ہونے والا ہے کیونکہ عوام جانتا ہے کہ محبوبہ مفتی کا بی جے پی کے ساتھ الائنس جاری ہے۔ ممبران اسمبلی اور ممبران کونسل کی تنخواہیں وگزار ہیں کابینہ درجے کے وزراء دفتر جانے کے بجائے آج کل دوسری مصروفیات میں ہیں۔پی ڈی پی نہ کانگریس سے اور نہ ہی نیشنل کانفرنس سے اتحاد کر کے سرکار بناسکتی ہے کیونکہ بی جے پی کے سوا کسی اور پارٹی کے ساتھ ان کا اتحاد کرنے میں مفاد نظر نہیں آتا اسی لئے دوسری ایک پارٹی کے ساتھ سرکار بنانے کا سوال ہی نہیں، ایک بڑا وجہ یہ بھی ہے کہ محبوبہ مفتی اپنے والد مفتی محمد سعید کا بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کو نظر انداز نہیں کر سکتی ہے ۔ ایسا بھی ہے کہ اگر ریاست میں ضمنی انتخابات کرانے کی نوبت آجائے تو دونوں پارٹیاں ریاست میں انتخابات کرانے سے خوف محسوس کریں گی دونوں پارٹیاں ضمنی انتخابات کرانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی ان سارے حالات کو مد نظر رکھ کر پی ڈی پی صدر اور وزیراعلیٰ عہدے کی دعویدار محبوبہ مفتی وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے میں کیوں لیت و لعل کر رہی ہے، اور ایسے بیانات دے رہی ہے جو کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں۔یہ ایک ایسا سوال کا جس کا جواب عام لوگوں کو عنقریب ملنے والا ہے ، محبوبہ مفتی ایسا رویہ کیوں اپنا رہی ہے جس سے لگتا ہے انہیں اقتدار سے زیادہ عوام کے مفادات عزیز ہیں،جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے جس سے ایک عام انسان بخوبی واقف ہے۔ یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ محبوبہ مفتی ایک طرف دلی سرکار اور بی جے پی کو نشانہ بناتی ہے دوسری طرف جموں میں بی جے پی کے منڈیٹ کو نظر انداز نہ کرنے کی باتیں کرتی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بی جے پی ان کی مانگیں پوری کرے گا ، اگر اندر سے حکومت سازی کی کھچڑی پک رہی ہے تو بی جے پی سرکار کی مخالفت کرکے محبوبہ کیا حاصل کرنا چاہتی ہے اور فی الحال جو محبوبہ مفتی نے رویہ اختیار کیا ہے دیکھنا یہ بھی ہے کیا اسے اُن کو یعنی بی جے پی کے ساتھ روٹھنے کا کونسا صلہ ملنے والا ہے۔غورطلب ہے کہ ریاست میں فی الوقت گورنر راج نافذ ہے اور اس کو جنوری سے ہی نافذ کیا گیا ہے اور فی الحال گورنر راج کو ہر طرح سے پذیرائی مل رہی ہے عام لوگوں کی رائے ہے کہ پی ڈی پی، کانگریس، نیشنل کانفرنس اور بی جے پی سے صد درجہ گورنر راج بہتر ہے۔ اس وقت عوامی حلقوں میں بحث مباحثے جاری ہیں کہ گذشتہ دہائیوں سے عوام ان پارٹیوں کے رول کو پرکھ چکا ہے اور برداشت بھی کرچکا ہے، اسی لئے گورنر راج بہتر مانتے ہیں۔ اس لحاظ سے عوامی حلقے اس میں خوش نظر آرہے ہیں کہ اگر ریاست میں گورنر راج ہی نافذ رہے گا تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ کم از کم استحصالی عناصرسے نجات تومل سکے گی۔