سرورق مضمون

حکومت سازی پر بات چیت جاری / رام مادھو کا مشن کشمیر 2 / پی ڈی پی پرامید ، این سی پریشان

حکومت سازی پر بات چیت جاری / رام مادھو کا مشن کشمیر 2 / پی ڈی پی پرامید ، این سی پریشان
ریاست میں حکومت کے قیام کے حوالے سے سرگرمیوں میں پھر سے تیزی لائی گئی ہے ۔ مرکزی سرکار نے اپنے طریقے میں نرمی لاکر رام مادھو کو سرینگر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ لیکن کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہورہاہے۔ مرکزی سرکار نے ریاست میں اپنے بی جے پی رہنماؤں کو ہدایت دی ہے کہ حکومت کی تشکیل کے حوالے سے وہ اپنے طور کوئی بیان نہ دیں۔ انہیں اس بیان بازی سے روکنے کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مرکزی سرکار کسی قسم کی پیچیدگیوں سے بچنا چاہتی ہے ۔ اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ مرکز نے پی ڈی پی کے ساتھ اپنے طور بات چیت کرنے کا من بنایا ہے۔ مرکزی سرکار نے کشمیر میں حکومت سازی کا مشن رام مادھو کے حوالے کیا ہے اور انہیں پی ڈی پی رہنما سے معاملات طے کرنے کا اختیار دیا ہے۔ اگرچہ حتمی فیصلہ وزیراعظم نریندر مودی خود کریں گے ۔ تاہم رام مادھو سے پی ڈی پی کی طرف سے رکھے گئے شرائط پر بات چیت کا کام سونپا گیا ہے۔ رام مادھو کے ریاست کے دورے سے پہلے سابق وزیراعلیٰ اور بی جے پی رہنما نرمل سنگھ کو دہلی طلب کیا گیاجہاں ان کے ساتھ حکومت سازی کے حوالے سے مشورہ کیا گیا۔ جمعرات کو دہلی میں ہوئی اس میٹنگ میں بی جے پی کے کئی سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔ بند کمرے میں ہوئی اس میٹنگ کی تفصیل سامنے نہیں آئی۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ اس میٹنگ میں محبوبہ مفتی کے حکومت سازی کے شرائط پر نرمل سنگھ کی رائے سے واقفیت حاصل کی گئی۔ ادھر جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ نرمل سنگھ کے دہلی جانے سے پہلے جموں میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے اہم رہنماؤں کے درمیان صلاح مشورہ ہوا۔ نرمل سنگھ نے مرکز کو پوری صورتحال سے باخبر کیا جس کے بعد رام مادھو کو جلد از جلد پی ڈی پی کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے کہا گیا۔ آگے کے مذاکرات کہاں تک کامیاب ہونگے اس بارے میں سیاسی حلقے کچھ کہنے سے قاصر ہیں ۔ تاہم کئی حلقوں کا کہنا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی دونوں جماعتیں نئے انتخابات سے بچنا چاہتی ہیں۔ اس تناظر میں جلد ہی ان کے درمیان معاہدہ ہونے اور مخلوط سرکار بنانے کی پیشن گوئی کی جارہی ہے ۔ اس وجہ سے این سی حلقوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ این سی کی کوشش ہے کہ اسمبلی توڑ کر نئے انتخابات کرائے جائیں۔ پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ موجودہ مرحلے پر ان کی پارٹی کو لوگوں کے ووٹ مل سکتے ہیں اور وہ نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ این سی رہنما مفتی محمد سعید کی وفات سے لے کر آج تک بیان بازی میں لگے ہوئے ہیں اور نئے انتخابات کرانے پر زور دے رہے ہیں ۔ لیکن ان کی بات پر زیادہ توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس سے این سی حلقوں خاص کر پارٹی لیڈر اور سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کافی مایوس بتائے جاتے ہیں۔حکومت بنانے کے معاملے میں پی ڈ ی پی اور بی جے پی مبینہ طور بہت قریب آچکے ہیں۔ پچھلے ہفتے کے دوران کی سرگرمیوں سے اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مفاہمت عنقریب ہونے والی ہے ۔ یاد رہی ریاست میں اس وقت سیاسی تعطل پیدا ہوگیا جب وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید مختصر علالت کے بعد دہلی کے میڈیکل انسٹچوٹ میں وفات پاگئے ۔ محبوبہ مفتی نے اس کے بعد حلف لینے سے انکار کیا اور مرکز کے سامنے کچھ شرائط رکھیں اور اعلان کیا کہ شرائط پورے نہ کئے گئے تو بی جے پی کے ساتھ ناطہ توڑ ا جائے گا۔ اس کے بعد یہاں گورنر راج کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور سیاسی تعطل برقرار ہے ۔