سرورق مضمون

حکومت سازی کا مسئلہ / درابو کا دہلی سے اورمحبوبہ کاگورنر سے ملاقات/ این سی کی نئے انتخابات کے لئے تگ ودو

حکومت سازی کا مسئلہ / درابو کا دہلی سے اورمحبوبہ کاگورنر سے ملاقات/ این سی کی نئے انتخابات کے لئے تگ ودو

پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے 4 مارچ کو گورنر سے ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں حکومت سازی کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ اس ملاقات میں کیا طے پایا تاحال واضح نہیں ہے ۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ برف پگھلنے کی امیدہے اور ریاست کی دو بڑی پارٹیوں کے درمیان سمجھوتہ کرنے کی کوششیں تیز کی جارہی ہیں ۔ اس سے پہلے رام مادھو نے جموں میں پی ڈی پی سربراہ سے ملاقات کی تھی ۔ لیکن اس ملاقات کا آج تک کوئی نتیجہ سامنے نہ آیا ۔ اس کے بعد سابق وزیرخزانہ حسیب درابو دہلی روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے کئی بی جے پی سربراہوں سے ملاقات کی ۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے طور حکومت سازی کے لئے میدان ہموار کیا ۔ اب محبوبہ مفتی کے اشارے کا انتظار ہے ۔ آخری فیصلہ اسی کو کرنا ہے ۔ وہ تاحال شش وپنج میں ہیں ۔ واضح فیصلہ لینے سے گھبرارہی ہیں ۔اس کو کئی طرح کے خدشات ہیں جن کا پہلے ہی اظہار کیا گیاہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز کے ساتھ اتحاد اس لئے کیا گیا کہ ریاست کو بھر پور مالی امداد دیا جائے ۔ لیکن ایسا نہیں ہورہاہے ۔ ان کو شکایت ہے کہ ان کے باپ مفتی محمد سعید کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور ان سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے گئے ۔ اب اگر دوبارہ اتحاد کی صورت میں ان کے ساتھ بھی یہی کیا گیا تو حکومت ناکام رہے گی ۔ حکومت کی ناکامی پی ڈی پی کے لئے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگی ۔ اس لئے ان کی کوشش ہے کہ مرکزی سرکار ان کے ساتھ مالی معاونت کا وعدہ کرے اور یہ وعدہ پورا کرنے کے لئے ٹائم فریم مقرر کیا جائے ۔ لیکن مرکز اس کے لئے تیار نہیں ہورہاہے ۔ وزیراعظم مودی اس میں سخت رکاوٹ ڈال رہے ہیں ۔وہ کشمیر کے لئے الگ سے کوئی مالی پیکیج یا کچھ دوسرے مراعات دینے کے لئے کسی طور تیار نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے مدنظر جموں کا علاقہ ہے ۔ جموں پارٹی کا ووٹ بینک ہے ۔ اس وجہ سے بی جے پی کی ساری توجہ جموں کی طرف لگی ہوئی ہے ۔ وہ اس بات کے لئے تیار نہیں ہیں کہ جموں کو چھوڑ کر وہ کشمیر کے لئے مدد کا سامان فراہم کریں ۔ اس وجہ سے حکومت سازی میں تاخیر ہورہی ہے ۔ پی ڈی پی کے اسمبلی ممبران کو ایک بار پھر جموں طلب کیا گیا ہے ۔ اس درمیان پی ڈی پی صدر نے گورنر کے ساتھ ملاقات کرکے حکومت بنانے کا اشارہ دیا ہے ۔ اب پھر امید کی جارہی ہے کہ ریاست میں جلد ہی مخلوط سرکار تشکیل پائے گی ۔ لیکن خدشات اب بھی موجود ہیں ۔
پی ڈی پی اس وقت اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ گورنر اپنے لئے مشیروں کی ایک ٹیم بنانا چاہتے ہیں ۔ نئے مشیر لانے سے پہلے آپ یہ جاننے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ بی جے پی حکومت بنانے کی خواہش مند ہے کہ نہیں ۔ گورنر یہ اس لئے جاننا چاہتے ہیں تاکہ وہ اطمینان سے کام کریں ۔ اگر حکومت بن گئی تو مشیر رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے اصل حقیقت جاننا چاہتے ہیں ۔ اس غرض سے انہوں نے چار مارچ وک پی ڈی پی صدر سے ملاقات کی ۔ اس مملاقات کے بعد محبوبہ مفتی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کسی بھی قسم کی تنقید سے نہیں ڈرتی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے سے وہ کسی بھی طرح خوفزدہ نہیں ہیں بلکہ وہ کئی معاملات صاف کرنے کی کوشش کررہی ہیں ۔ ان کے اس بیان کو اس بات کا اشارہ قراردیا جارہا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان جلد ہی حکومت سازی کے لئے اتحاد بن رہاہے ۔بی جے پی کے لئے اتحاد سے بھاگنا ممکن نہیں ہے ۔ اس کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ ملک میں مودی کے خلاف ہوا کھڑا کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی اس کام کا مرکز بن چکی ہے ۔ کنہیا اور اس کے ساتھی طلبا نے پورے ملک میں مودی کے خلاف عناصر کو حوصلہ دیا ۔ مودی کو ایک مقدس گائے سمجھا جاتا تھا ۔ لیکن یونیورسٹی طلبا نے اس خیال کی دھجیاں اڑادیں ۔ کنہیا کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے ۔ ضمانت کے بعد جب وہ یونیورسٹی آگئے تو وہاں جشن کا سماں تھا ۔ اس کے ساتھی طلبا نے اس کا شاندار استقبال کیا ۔ اس کے بعد انہوں نے جو تقریر کی وہ ماسٹر پیس قراردیا جاتا ہے ۔ کئی لوگوں کی کوشش ہے کہ اس تحریک کو پورے ملک میں پھیلا دیا جائے ۔ دوسری طرف پی ڈی پی کے لئے بھی اقتدار کو ٹھوکر مارنا ممکن نہیں ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے اسمبلی ممبران نے محبوبہ کو صاف بتادیا ہے کہ فوری انتخابات میں پارٹی کو منڈیٹ ملنا ممکن نہیں ہے ۔ این سی چاہتی ہے کہ فوری انتخابات کئے جائیں ۔ اس کو یقین ہے کہ پارٹی کو عوامی سپورٹ ملے گا ۔ سرینگر میں پی ڈی پی کے خلاف تاجر برادری نے شوروغوغا شروع کیا ہے ۔ تاجروں نے پچھلے انتخابات میں پی ڈی پی کا سپورٹ کیا تھا ۔ وہ سیلاب سے ہوئے نقصان کی تلافی کے لئے مرحوم وزیراعلیٰ کو آخری امید سمجھتے تھے ۔ لیکن بی جے پی نے مفتی کے ہاتھ باندھ کر رکھے ۔ ان تاجروں کی امداد کرنے سے مفتی کو بھر پور انداز میں روکا گیا ۔ اس سے لگا کہ بی جے پی مفتی کو سرینگر میں اپنی بیس بنانے کے حق میں نہیں ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ بی جے پی نے کچھ روز پہلے این سی کے ساتھ اتحاد کی آفر کی تھی ۔ لیکن این سی اقتدار سنبھالنے کے بجائے انتخابات کرانا چاہتی ہے ۔ این سی نے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکار کیا ۔ اب فیصلہ پی ڈی پی کو کرنا ہے ۔ اس وجہ سے حالات میں تناؤ ہے اور حکومت بننے پر پھر متضاد خیالات سامنے آرہے ہیں ۔ صورتحال صاف نہیں ہے ۔ وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے ۔