سرورق مضمون

حکومت سازی کے آثار پھر مخدوش ، مزیدامداد دینے سے صاف انکار، محبوبہ پریشان

حکومت سازی کے آثار پھر مخدوش ، مزیدامداد دینے سے صاف انکار، محبوبہ پریشان

ڈیسک رپورٹ
پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان حالات اس قدر پیچیدہ ہوگئے ہیں کہ ان میں اتحاد کے آثار دوردور تک نظر نہیں آتے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ محبت اور سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے ۔ پچھلے کئی دنوں سے ایک بار پھر ان کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔ ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میں بیان دے کر سیاسی حلقوں میں ہل چل پیدا کردی ۔ اس کے بعد پھر حکومت سازی کے آثار دکھائی دے رہے تھے ۔ تاہم محبوبہ مفتی اپنے دو اہم ساتھیوں کے ساتھ دہلی میں خیمہ زن رہیں ۔ اس بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا تھا کہ وہ جلد ہی وزیراعظم سے ملاقات کرنے والی تھی جس میں حکومت کے بارے میں حتمی فیصلہ لئے جانے والے تھے، کہا جاتا ہے کہ دونوں جماعتوں پردبائو ہے کہ جلد از جلد حتمی فیصلہ لیا جائے۔ اس دوران محبوبہ مفتی کا دہلی میں بی جے پی کے صدر امت شاہ سے حکومت سازی کے معاملے پر ملاقات کے بعد بھاجپا جنرل سیکریٹری رام مادھو کے طرف سے بیان آیا کہ بھاجپا پی ڈی پی کے ساتھ پرانے ہی معاہدے پر سرکار بنانے کے لئے تیار ہے اور پی ڈی پی کے نئے شرائط بھاجپا کےلئے قبول نہیں۔ اس طرح سے پی ڈی پی کے حکومت سازی کےلئےنئے شرائط بھاجپا کو قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح ایک بار پھر محبوبہ مفتی کے وزیراعلیٰ بننے کا چانس کٹھائی میں پڑ رہا ہے۔ اور ایک بار پھر بھاجپا اور پی ڈی پی کے درمیان حکومت بننے کے چانس کم نظر آرہے ہیں
اس سے پہلے مرکزی خزانہ وزیرنے پارلیمنٹ میں بیان دے کر ریاست میں حکومت سازی کے لئے راہ ہموار کی ہے اور جیٹلی نے سالانہ بجٹ پر بحث کو سمیٹتے ہوئے بیان دیا کہ ان کی حکومت کشمیر سے متعلق اپنے وعدوں کی پابند ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں تکنیکی کالج اور میڈیکل انسٹی چیوٹ قائم کرنے کے جو وعدے کئے گئے ان پر ضرور عمل ہوگا ۔ ان کے اس بیان کے بارے میں سیاسی مبصروں نے رائے ظاہر کی کہ ان کا مقصد پی ڈی پی کو پیغام بھیجنا تھا۔ ان کے بیان سے پی ڈی پی کے علاوہ تمام حلقوں میں امید پیدا ہوگئی کہ ریاست میں جلد ہی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا ۔ ان کے اس بیان کے بعد پی ڈی پی صدر دہلی روانہ ہوگئی جہاں مبینہ طور ان کے دو اہم ساتھی پہلے ہی پہنچ چکے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ دہلی میں حکومت بنانے کے معاملے پر پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان بات چیت جاری ہے ۔ یاد رہے کہ حکومت بنانے پر اس وقت تعطل پیدا ہوگیا جب سابق سرکار کے سربراہ مفتی محمد سعید مختصر علالت کے بعد فوت ہوگئے ۔ ان کی بیٹی اور پی ڈی پی صدر نے مرحوم مفتی کے رسم چہلم تک نئی سرکار بنانے سے انکار کیا ۔ اس درمیان ریاست پر گورنرراج نافذ کیا گیا اور معاملہ تاحال تعطل کا شکار ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پی ڈی پی صدر نے مرکزی سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیر کے لئے فنڈس کی واگزاری میں اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی سرکار نے ان کے والد کے ساتھ کئے گئے وعدوں پرعمل نہیں کیا۔ دونوں جماعتوں کے درمیان اتحاد بناتے وقت جو پروگرام بنایا گیا تھا بی جے پی نے اس پرعمل نہیں کیا اور امداد کی راہ میں روڑے اٹکائے۔ اس پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی سربراہ نے مطالبہ کیا کہ ریاست کو بھاری امداد فراہم کی جائے اور کم از کم دو پاور پروجیکٹ ریاست کے حوالے کئے جائیں۔ فنڈس کی فراہمی مرکز کے لئے کوئی مشکل کام نہیں۔ لیکن پاور پروجیکٹ کی واپسی پر ان کا راضی ہونا مشکل قرار دیا جارہا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کسی بھی صورت میں کشمیر کو کسی طرح کا اضافی امداد فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وہ یہاں کے عوام کے ساتھ کسی قسم کی سہولیات دینے سے انکار کرچکے ہیں ۔ اس سے پہلے انہوں نے یہاں کے عوامی جلسے میں کھل کر مفتی کے مطالبات کو مسترد کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی پر کاربند ہیں اور مزید امداد فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ادھر گورنر این این ووہرا نے سالانہ بجٹ تیار کرنے کی تیاریاں شروع کی ہیں۔ اگرچہ ان تیاریوں میں جیٹلی کے بیان کے بعد سستی لائی گئی تاہم ماہرین کی رائے ہے کہ بجٹ بہت جلد تیار کیا جائے گا ۔ گورنر چاہتے ہیں کہ بجٹ پیش کرنے سے پہلے اسمبلی کو تحلیل کیا جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بارے میں انہوں نے مرکز کے سامنے تجویز پیش کی ہے۔ اس کی اگرچہ تصدیق ہونا باقی ہے ۔ تاہم جانکار حلقوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں باضابطہ میمورنڈم مرکز کو بھیجدیا ہے۔ اس وجہ سے اسمبلی ممبروں کی اکثریت سخت پریشان دکھائی دیتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی ان کی تجویز کے ساتھ اتفاق ظاہر کرچکے ہیں۔ اگرچہ مرکزی کابینہ کے اکثر ارکان اس تجویز سے اتفاق نہیں کررہے ہیں۔
ادھربی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری کے بارے میں ایک طرف کہا جاتا ہے کہ وہ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد قائم کرنے پرزور دے رہے ہیں اوردوسری طرف ان کا بیان کہ وہ پی ڈی پی کو پرانے ہی معاہدے پر اعتماد دینے کے لئے تیار ہے۔ ان کے مطابق پی ڈی پی کے حکومت سازی سے متعلق نئے شرائط بھاجپا کو منظور ہے اور نئی شرائط کی بنیاد پر حکومت کی تشکیل ناممکن بتایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے معاملہ اب تک لٹکا ہوا ہے ۔ حکومت بنانے میں دونوں پارٹیوں کےلئے بی جے پی کے لئے پیچھے ہٹنا اور آگے بڑھنا دونوں معاملوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں ۔ مرکز کے لئے حتمی فیصلہ کرنے میں کئی طرح کی دشواریاں درپیش ہیں ۔ ریاستی بی جے پی یونٹ پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد بنانے پرزور دے رہا ہے ۔ لیکن مرکز چاہتا ہے کہ اتحاد مزید شرطوں کے بغیرقائم ہو ۔ لیکن محبوبہ مفتی کی خواہش ہے کہ فنڈس کی فراہمی اور پاور پروجیکٹوں کی واپسی کا ٹائم فریم مقرر کیا جائے ۔ وہ زور دے رہی ہیں کہ مرکزی سرکار اس کا اعلان کرے اور اس کے لئے وقت مقرر کرے ۔ وہ اسی صورت میں حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہیں کہ مرکزی سرکار انہیں امدادکی فراہمی اور پاور پروجیکٹوں کی واپسی کا وعدہ کرے ۔ دہلی میں دونوں جماعتوں کے درمیان اب اور کیا ہونے جا رہا ہے تاحال واضح نہیں ہے ۔ پی ڈی پی کے جنرل سیکریٹری نے اعتراف کیا ہے کہ کسی بھی پارٹی ورکر کو معلوم نہیں کہ حکومت سازی کے حوالے سے کیا کچھ طے پارہاہے ۔ حکومت بنے گی یا نہیں ، اس بارے میں محبوبہ مفتی کے علاوہ کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔ تاہم خدشہ اس بات کی ہے کہ پی ڈی پی کو پرانے ہی تنخواہ پر کام کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں نظر آرہا ہے۔