اداریہ

حکومت عوام سے بدلہ لے رہی ہے

حکومت عوام سے بدلہ لے رہی ہے

حریت(ع) سربراہ میرواعظ عمر فاروق نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ حریت کانفرنس ہرقسم کی الیکشن سیاست کومستردکرنے کے اپنے فیصلے پراٹل ہے۔ یہ مرحلہ اقتدار سازی کا نہیں بلکہ تقدیر سازی کا ہے۔میرواعظ نے نئی دہلی کیساتھ دوطرفہ مذاکرات کو مستردکرتے ہوئے پھرواضح کیا کہ بامعنیٰ سہ فریقی ڈائیلاگ مسئلہ کشمیر حل کرنے کا ایک بہترین راستہ ہے۔وادی کشمیر میں جاری بجلی بحران پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے میر واعظ نے کہا ہے کہ حکومت بجلی اور پانی کیلئے عوام کو ترساکر ان سے ’بدلہ‘ لے رہی ہیں۔ کشمیر میں ہند نواز پارٹیاں ہندوستان کے ظلم کی کلہاڑی کا دستہ بن کر اپنے ہی لوگوں کا قافیہ حیات تنگ کرنے میں پیش پیش رہی ہیں جس کیلئے تاریخ ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انتخابات کو ایک لا حاصل عمل قرار دیتے ہوئے میر واعظ کا کہنا تھا کہ انتخابات کبھی بھی مسئلہ کشمیر کے حل نہیں بن سکتے کیونکہ اس مسئلہ کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں یا سہ فریقی بات چیت میں مضمر ہیں۔ ہند نواز سیاست دانوں نے اپنے اقتدار کی کرسی کو استحکام فراہم کرنے کیلئے یہاں کے وسائل پانی بجلی اور زمین کو بیچ ڈالا جب کہ ان وسائل پر بنیادی حق یہاں کے عوام کا ہے۔حریت کبھی بھی ان حقوق کے استحصال کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس عوام کے ہر نوعیت کے حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرتی رہے گی اور یہاں کے عوامی وسائل اور مفادات کی نگرانی جاری رہے گی۔حریت (ع)چیرمین نے کہا کہ ریاستی حکومت کرپشن اور اقربا پروری میں غرق ہو چکی ہے، رشوت ستانی عروج پر ہے بیشتر سرکاری محکمے رشوت ستانی کے اڈوں میں تبدیل ہو چکے ہیں ،یہاں کے عوام پر بجلی فیس ، ٹیکس اور مہنگائی کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالا جارہا ہے اور محض اپنے اقتدار کی خاطر کچھ بھی کر گذرنے والے لوگوں کو عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے کا کوئی حق نہیں۔حریت (ع) چیر مین نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام پر مار دھاڑ، ظلم و جبر اور مصائب ڈھانے اور یہاں کے عوامی وسائل کا بڑی بے دردی کے ساتھ استحصال کرنے میں حکومت ہندوستان اور کشمیر کی ہند نواز جماعتیں برابر کی ذمہ دارہیں۔ 1947 سے کشمیری عوام کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے جہاں حکومت ہندوستان اور اسکی فوج ذمہ دار ہے وہیں وہ لوگ یہاں کے عوام کا ہر سطح پر استحصال کرنے سے بری الذمہ قرار نہیں دئے جاسکتے جنہوں نے صرف اپنے اقتدار کے حصول اور مراعات کی خاطر کشمیری عوام سیاسی اور اقتصادی طور مفلوک الحال بنا کر رکھ دیا ہے۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے بھارت کی فوج کو کشمیر آنے کی دعوت دی کبھی کشمیریوں کے قتل عام اور کبھی پاکستان پر بمباری کرنے کا نعرہ بلند کیا یہاں کے عوام کے وسائل پانی، بجلی اور زمین کونہ صرف اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کی خاطر فروخت کردیا بلکہ1947ء میں جو کچھ ہمارے پاس تھا وہ سب اپنے ذاتی اغراض کی خاطر دوسروں کو بیچ دیا اور حکومت میں رہ کر لوگوں کو دوسروں کا دست نگر بنا دیا۔ جب یہاں کے عوام پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے تو یہ لوگ بیرون ریاست عیش و عشرت کی زندگی گذار رہے تھے۔ یہ لوگ کس منہ سے عوام کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طویل عرصے میں اقتدار حاصل کرنے کے علاوہ اورلوگوں کو نان شبینہ کا محتاج بنانے سوا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیااور آج یہ لوگ اگر مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کرتے ہیں تو صرف اپنے مفادات کی خاطر اور اس طرح یہ لوگ نہ صرف عوام کو بلکہ خود کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں۔حریت(ع) چیرمین نے کہا کہ کشمیر کی آزادی پسند قیادت 1931 سے برابر اپنے موقف پر چٹان کی طرح قائم ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے ہمارے موقف کی پوری عالمی برادری تائید کرتی ہے۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا ایکارڈ کرنے والے اور مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ قرار دینے والے لوگوں کو یہ حقیقت جان لینی چاہئے کہ ان کی سیاسی قلابازیوں کے باوجود مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے اور اس مسئلہ کو کسی دوطرفہ مذاکراتی عمل سے حل نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس حوالے سے ہمارا موقف بالکل واضح ہے کہ یہ مسئلہ یا تو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل آوری یا مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان بامعنی سہ فریقی مذاکرات سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ یہ مرحلہ تقدیر سازی کا ہے اقتدار سازی کا نہیں اور حریت (ع) اپنے اس موقف کو پھر واضح کرتی ہے کہ کسی بھی قسم کی انتخابی سیاست یا حکومت سازی کا عمل مسئلہ کشمیر کی متناعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتی اور حریت کانفرنس ہر قسم کی انتخابی سیاست کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔