خبریں

حکومت کے قیام میں ہورہی دیری سے عام لوگ مشکلات کا شکار

حکومت کے قیام میں ہورہی دیری سے عام لوگ مشکلات کا شکار

ریاست میں حکومت کے دوبارہ سے قائم ہونے میںہورہی دیری سے انتظامیہ میں جمود آگیا ہے جبکہ اس غیر یقینی صورتحال سے عام لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مرحوم مفتی مفتی محمد سعید کے انتقال سے پیدا ہوئے سیاسی تعطل کے نتیجے میں لوگوں کو درپیش مسائل کو دور رکنے کیلئے سرکاری ایجنسیاں کوئی بھی کار گرکاروائی کرنے میں مکمل طور ناکام ہوگئی ہیں ۔ تمام تر دعووں کے باوجود بھی گورنر انتظامیہ لوگوں کو راحت دینے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اس جاری غیر یقینی صورتحال کے نتیجے میں سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا اہلیان وادی کو کرنا پڑرہا ہے۔ وادی میں جاری سردی کی شدید لہر کی وجہ سے لوگوں کو بجلی، راشن و پینے کے پانی کی قلت سے شدید پریشانیاں ہورہی ہیں جبکہ بجلی کی ابتر صورتحال نے پوری وادی میں بحرانی صورتحال پیدا کردی ہے لیکن محکمہ بجلی سے کوئی جواب طلبی نہیں کی جارہی ہے۔ جی این این خبررساں ایجنسی کے مطابق ریاست میں جاری سیاسی غیر یقینی حالات کے نتیجے میں انتظامی مشنری پوری طرح سے ٹھپ ہوکے رہہ گئی ہے۔سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے سرکاری افسران و اہلکار اپنی زمہ داریوں کو انجام دینے میں پوری طرح سے قاصر ہیں جبکہ ان سے کوئی جواب طلبی نہیں کی جارہی ہے۔ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کے نتیجے میں پی ڈی پی ، بی جے پی حکومت کے دوبارہ سے کام کاج سنبھالنے میں ہورہی دیری نے ریاست میں جو بحرانی صورتحال پیدا کی ہے اس سے عام لوگوں کو ہی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ ریاستی عوام جاری بحرانی صورتحال سے گونا گوں مشکلات میں ہیں لیکن لوگوں کو راحت دینے کیلئے انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی کار گر اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں۔سابق وزیر اعلیٰ کے انتقال کے بعد نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری میں ہورہی دیری اور مخلوط حکومت میںشامل دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہونے میں پیش آرہی اڑچنوں نے کئی مسائل لوگوں کیلئے پیدا کئے ہیں۔ اگر چہ یاست میں گورنر راج قائم ہوا ہے لیکن سرکاری مشنری اور حکام عام لوگوں کو در پیش مشکلات کو دور کرنے میں کوئی بھی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں۔ ریاست میں حکومت کے دوبارہ سے کام و کاج سنبھالنے میں ہورہی دیری سے اہلیان وادی کو جہاں چلہ کلان کی شدید سردی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے وہی سردی کے جاری ایام کے ساتھ ساتھ اہلیان وادی کو بجلی کی شدید قلت کے ساتھ ساتھ راشن و دوسری پریشانیوں کا سامنا ہے۔ جاری سیاسی بحرانی صورتحال کے نتیجے میں پوری وادی میںبجلی کی ابتر سپلائی نے بھی بحران پیدا کردیا ہے اور محکمہ بجلی اپنے ہی کٹوتی شیڈول پر عمل کرنے سے قاصر ہوگیا ہے۔ اس ضمن میں جو مزید تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق عام لوگوں کو درپیش مشکلات کو سننے کیلئے کوئی افسر و اہلکار تیار ہی نہیں ہے ۔ نمائندوں نے مختلف اضلاع سے اطلاعات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ بجلی و پینے کے پانی اور راشن کے مسلوں کے بارے میں گذشتہ کئی دنوں سے لوگ بجلی دفتروں و دوسرے محکموں کے حکام کے پاس جاتے ہیں لیکن حکام لوگوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ فی الحال ریاست میں گورنر راج قائم ہے۔ ان نمائندوں کے مطابق ریاست میں عوامی حکومت کے دوبارہ سے کام و کاج نہ سنبھالنے سے جوابدہی کا سلسلہ پوری طر سے ختم ہوگیا ے۔ وادی کے شمال و جنوب سے جو مزید تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق لوگ موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں جبکہ لوگوں کو اس طرح کے حالات سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نمائندوں کے مطابق مختلف سرکاری محکموں میں تعینات افسروں کے بارے میں اس بات کی شکائتیں مل رہی ہیں کہ افسران موجودہ صورتحال کی آڑ میں اپنی زمہ داریوں کو ادا کرنے سے پوری طرح سے قاصر ہیںاور افسران کے بارے میں معلوم ہو اہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کی تعزیت پُرسی کا بہانہ بنا کر اپنی ڈیوٹیوں میں بھی غفلت برت رہے ہیں جو کہ عام لوگوں کیلئے انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے ۔ دریں اثنا جاری سیاسی بحران نے سرکاری دفتروں کے کام وکاج پر بھی اثر پڑرہا ہے اور اکثر سرکاری دفاتروں کے ملازم من مانیاں کررہے جبکہ عام لوگوں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔