نقطہ نظر

خام خیالی جا ن لیوا ہو سکتی ہے

خام خیالی جا ن لیوا ہو سکتی ہے

ملک منظور
کووڈ 19 ایک عالمی وباء ہے۔اس کے لپیٹے میں دنیا کا تقریباً ہر چھوٹا بڑا ملک آچکا ہے۔عالمی اقتصادیات کو اس وبا نے تہس نہس کر کے رکھ دیا۔۔اس لہاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک آفت ہے قہر ہے جو دنیا پر مسلط کیا گیا ہے۔یہ ایک لہر ہے جو لاکھوں کو بیمار بناتی ہے اور ہزاروں کو از جان کرتی ہے۔اقوام متحدہ نے اس وبا کو اب عام بیماریوں کی طرح ایک بیماری تسلیم کرلیا ہے جو ممکن ہے ہر سال مارچ کے مہینے سے سر اٹھائے گی۔اس بیماری کا تعلق نہ کسی مزہب، علاقہ ،زبان ،رنگ ،نسل یا عمر سے ہے اور نہ ہی کوئی اس معاملے میں مستثنیٰ ہے۔بڑے بڑے رئیس ،عالم دین ،سادھو سنت ،ڈاکٹر ،سائنسدان، سیاستدان ،بوڑھے ،جوان ،بچے ،مرد اور عورتیں اس بیماری کے شکار ہوگئے ہیں اور ہو بھی رہے ہیں۔ہزاروں بچے یتیم ہوگئے ،مرد اور عورتیں بیوہ بن گئے اور والدین بے اولاد۔نماز اور تہجد ادا کرنیوالے عابد ،ذاہد اور عارف بھی اس بیماری سے نہیں بچ سکے تو پھر ہم کیا چیز ہیں۔آئے دن خبروں میں ترقی یافتہ اور طاقتور ممالک کے تشویش کو بیان کیا جارہا ہے لیکن ہم یعنی کشمیر کے لوگ عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں آیا کووڈ ہے یا نہیں۔شک کی یہ بیماری لاعلاج ہے۔شک کرنے کی یہ عادت اب ہمارے دلوں میں پیوست ہو چکی ہے۔اس ضمن میں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لوگ بھی جب بحث کرتے ہیں تو بڑی فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ یہ ایک ڈھونگ یا بہتان ہے۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے پیسے ملتے ہیں۔اب زرا کوئی یہ بتائیے کہ وہ پیسے آئیں گے کہاں سے۔کیا ترقی یافتہ ممالک بھی اقوام متحدہ سے بھیک مانگیں گے اور لاک ڈاؤن کر کے اپنے اقتصادی ڈھانچے کو تباہ کریں گے۔کیوں ہم لوگ فضول بحث و مباحثے میں الجھ رہے ہیں۔کیا خانہ کعبہ کو بند کرنا بھی ایک سازش ہے ؟ کیا حج جیسے اہم فرض پر پابندی لگانا کسی کی کارستانی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔اگر ہم یہ کہیں کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے ہماری گمراہیوں اور اخلاقی گراوٹوں کا نتیجہ ہے تو بات بنتی ہے لیکن بیماری کو پراپیگنڈا قرار دینا لاعلمی اور جہالت ہے یا کہا جاسکتا محض بیوقوفی ہے۔باقی بیماریوں کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہے جس نے سب انسانوں کو یکساں طور پر اپنے پنجوں میں جکڑ لیا ہے اور دنیا کے ہر ایک ملک کو بیبس بنادیا ہے۔یہ کوئی سازش نہیں ہے اور نہ ہی کسی کی کوئی چال۔یہ وہم وگمان مضر صحت کے سوا کچھ نہیں ہے۔
اگر بیماری ہے تو اس کی دوائی کے لئے جدوجہد یا کاوشیں بھی لازمی ہیں۔اس ضمن میں تمام ممالک جی لگا کر کوشش کررہے ہیں اور ایسا کرنا حکومتوں کا فرض بھی ہے۔عالمی سطح پر اپنی چھاپ ڈالنے کے لئے یا اپنا لوہا منوانے کے لیے سارے ممالک بازی مارنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اس بیماری کی دوائی محض دوائی ہی نہیں بلکہ تجارت کا ایک حسین موقعہ بھی ہے۔اسی لئے ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے اور دعوے کیے جارہے ہیں کہ ہماری ویکسین زیادہ موثر اور قابل اعتماد ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی حکومت اپنی رعایا کو خطرے میں نہیں ڈالے گی اور نہ ہی ان کے جانوں سے کھیلے گی۔یہ ایک زمداری ہوتی ہے جس کا سارا بوجھ وقت کی حکومت پر ہی ہوتا ہے۔اب چونکہ ویکسین آگیا ہے۔طبیبوں اور اہم اشخاص نے خود پر آزمایا ہے تو اب ہماری باری ہے۔اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔اقوام متحدہ نے بھی سراہنا کی ہے۔دوسرے ممالک کو بھی سپلائی کیا جارہا ہے۔یہ سب کچھ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی انجام دیا جارہا ہے۔ملک کے بڑے بڑے سائنسدان اس پر باریکی سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔سب کچھ سنجیدگی اور متانت سے انجام دیا جارہا ہے تو شک و شبہات کی وجہ کیا ہوسکتی ہے۔یہ خام خیالی محض آنکھوں کا دھوکا ہے اور کچھ نہیں۔اپنے والدین اور رشتےداروں کو ویکسین لگا کر ان کی قوت مدافعت میں اضافہ ضرور کریں کہیں دیر نہ ہوجائے اور ہماری کارستانی سے ہمارے پیارے از جان نہ ہوجائیں۔
اب رہا سوال مکمل یا جزوی لاک ڈاؤن کا۔حکومت اقتصادی ڈھانچے کو خطرے میں تبھی ڈالتی ہے جب گنجائش ہوتی ہے اور اگر گنجائش ہی نہ ہو تو تھوڑا بہت رسک لینا ہی پڑھتا ہے۔اگر سرکار مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کرتی ہے تو ملک کی اقتصادی حالت اور ذیادہ خراب ہوجائے گی۔لوگوں کو خود ہی سمجھنا چاہیے کہ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور حکومت کو سو فیصد لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور نہ کریں۔بصورت دیگر مہنگائی جو پہلے ہی آسمان چھورہی ہے اور زیادہ بڑھ جائے گی۔کھانے پینے کی چیزیں میسر نہیں ہونگی اور غربت میں اور زیادہ اضافہ ہوگا۔سرکار لوگوں کے لئے ہوتی ہے اور لوگوں کے پیسے سے ہی چلتی ہے ،کاروباری سرگرمیوں سے چلتی ہے اور اگر کشمیر کی بات کریں تو سیاحت اور میوہ صنعت پر پورا اقتصادی ڈھانچہ منحصر ہے۔اس لئے ہمیں بحیثیت مہذب شہری اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ہم بھیڑ بھاڑ نہ کریں ،ماسک پہنیں اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔ پولیس کے ڈنڈوں سے ڈر کر ماسک پہننا کہاں کی ثقافت ہے۔اگر ہم خود کو نہ بدلیں گے تو ہماری حالت بھی کہاں بدلے گی۔بہتر یہی ہے کہ ہم بروقت احتیاطی تدابیر کی اہمیت کو سمجھیں اور شک و شبہ اور الزام تراشی سے گریز کریں۔جہاں امریکہ جیسا طاقتور ملک اس بیماری کا اعتراف کر رہا ہے وہاں ہماری خام خیالی بچگانہ حرکت سے کم نہیں ہے۔مسجد ہو ،گھر ہو ،گلی ہو ،بازار ہو یا کوئی اور جگہ کووڑ 19 کے لئے سب کچھ یکساں ہے۔اس کو روکنے یا تھامنے کی طاقت صرف خدا کو ہے اور ہمارے ہاتھوں میں تدابیر اور احتیاط کے تقاضے ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔اندھی تقلید اور جھوٹ موٹ کی تسلی سے کچھ ہونیوالا نہیں ہے عقل و دانش سے کام لینا از حد ضروری ہے۔کیوںکہ جان ہے تو جہاں ہے۔وبائی بیماریاں تو ہماری پیغمبر آخرالزماں کے وقت میں بھی پیدا ہوئیں اور اصحاب اس کے شکار بنے۔ اگر رحمت عالم کے زمانے میں ایسا ہوا ہے تو ہمارے وقت میں کوئی سازش کیسے ہوگی۔نماز پڑھ کر مطمئن ہونا مومن کی علامت نہیں ہے اور نہ ہی اپنے آپ کو قہر قدرت سے مستثنیٰ سمجھنا دینداری ہے۔کیوں کہ گناہوں کا سمندر جب حد سے تجاوز کرتا ہے تو تباہی کی صورت اختیار کرتا ہے پھر راستے میں جو بھی آتا ہے اس کو تباہ کردیتا ہے چاہیے نمازی ہو یا بے نمازی ،نیک ہو یا بد، جاہل ہو یا عالم سب کے ساتھ یکساں سلوک اور یہی حدیث بھی ہے۔تباہی گناہوں کا نتیجہ ہے اور بھلائی خدا کا کرم۔۔۔خدا سارے عالم کو اپنی تحفظ میں لے۔اپنوں کو کھو کر زندگی کے پنکھ کٹ جاتے ہیں۔