اداریہ

خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے واضح اہداف مقر ر کرنے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا زور

خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے واضح اہداف مقر ر کرنے پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کا زور
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے سٹیٹ مشن اتھارٹی کو واضح اہداف مقرر کرنے پروگراموں کا تبادلہ کرنے اور متواتر جائزہ لینے کو مشن کے کام کاج کا اہم حصہ بنانے کے لئے کہاتاکہ خواتین کی بہبود اور انہیں بااختیار بنانے کے اس کار عظیم کی کامیابی یقینی بنائی جاسکے۔خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے قومی مشن کی عمل آوری کے لئے سٹیٹ مشن اتھارٹی کی پہلی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ جو کہ مشن کے چیئر مین بھی ہیں،نے کہا کہ خواتین کی معاشی و کلہم بہبودی کے لئے ہر محکمے میں خواتین کے لئے مخصوص اور مخلوط سرگرمیوں میں ان کی شرکت یقینی بنائیں جانی چاہیئے۔ انہوں نے کہاکہ ’’ میں سب سے پہلے سٹیٹ مشن کے اہلکاروں پر بچیوں کی شرح پیدائش میں آئی گراوٹ، نومولودوں اور حاملہ خواتین کی اموات ، تعلیم میں جنسی تفاوت ،سکولوں سے طالبات کاانخلاء اور ریاست میں خواتین کو درپیش ایسے دیگر مسائل کو اوّلین فرصت میں حل کرنے پر زور دونگا‘‘۔انہوں نے کہا خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے مختلف پروگراموں کے تحت مقررہ اہداف و مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں ان کے لئے حصول معاش کے مواقع پیدا کرنے ہونگے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ اکثر طالبات نے سکولوں میں معقول بیت الخلا ء کی فقدان کے سبب سکول چھوڑ دئیے۔انہوں نے طالبات کے سکولوں کی دیوار بندی کی اہمیت پرزور دیتے ہوئے کہا کہ طالبات ایک محفوظ سکول میں بہتر طور اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کو ریاست میں خواتین کے لئے مزید ڈگر ی کالج قائم کرنے کی استدعا کی ہے تاکہ خواتین کے لئے بہتر ماحول میں اعلیٰ تعلیم کا حصول یقینی بنایا جاسکے۔ تاہم وزیر اعلیٰ نے ابتدائی سکولی سطح پر ہی لڑکیوں کے سکول چھوڑنے میں کمی لانے کو یقینی بنانے پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ سکولوں میں معقول بیت الخلاء سہولیات ریاست میں تعلیمی پروگراموں کا اہم حصہ ہونا چاہیئے۔ریاست میں خواتین کوبااختیار بنانے کے لئے قومی مشن کی عمل آور ی کے لئے ہمہ وقتی مشن ڈائریکٹر اور ریسورس سینٹر کے قیام کے ہدایت دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پروگراموں کی ترتیب ، معاملات کی نشاندہی، دیگر محکموں کے ساتھ تعاون، مختلف محکموں میں خواتین کی بااختیار ی کے لئے زیر عمل سکیموں کی عمل آوری کی نگرانی جیسے معاملات کافی اہمیت کے حامل ہیں۔انہوں نے کہا مشن کی 90فیصد کامیابی کا دارومدار مشن ڈائریکٹر کی ذاتی دلچسپی، تندہی اور ایک بہتر طور قائم اور معقول کارکردگی دکھانے والے ریسورس سینٹر پر ہیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ریسورس سینٹر کوصحت،تعلیم اور تحفظ سے متعلق معاملات کی نشاندہی کر کے انہیں اعلیٰ سطح پر حل کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا ریاستی حکومت نے پہلے ہی جمو ں اور سرینگر میں دوخواتین پولیس سٹیشن قائم کرنے کو منظور ی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اضلاع میں پولیس سٹیشنوں میں خواتین سیلوں کو مزید مستحکم بنایا جارہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مشن کو آگے لے جانے اور اس کے اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے ہر ممکن مدد کر ے گی۔ میٹنگ میں وزیر برائے طبی تعلیم تاج محی الدین ، وزیر برائے زراعت غلام حسن میر ، وزیر برائے سماجی بہبود سکینہ ایتو ، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم محمد اکبر لون ، وزیر برائے قانون میر سیف اللہ ، وزیر مملکت برائے مال اعجاز احمد خان ، وزیر مملکت برائے صحت شبیر احمد خان ، صدر نشین ریاستی کمیشن برائے خواتین شمیمہ فردوس ، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری سوشل ویلفیئر ، مشن ڈائریکٹر حفیظہ مظفر اور دیگر سرکاری ارکان اور دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ ایک پاور پوائنٹ پرزنٹیشن میں سیکرٹری محکمہ سماجی بہبو د نے سٹیٹ مشن اتھارٹی کے کردار کو اُجاگر کر تے ہوئے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے قومی مشن کے اغراض و مقاصد کا خلاصہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا مدد تک پہنچ ، پینے کے صاف پانی ،حفظانِ صحت،اوّل سے بارہویں جماعت تک ، بچیوں کی تعلیم ،خواتین کو باہنر بنانے ،جنس کے بارے میں حساسیت پیدا کرنا،خواتین کے خلاف جرائم کی روکتھام ،خواتین کی اقتصادی بہبود اور غریبی ہٹانے ، خواتین کو سماجی طور بااختیار بنانے اور تعلیم فراہم کرنے ، تغذیہ کی فراہمی وغیرہ ایسے چند معاملات ہیں جن پر مشن پروگراموں کے تحت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔