مضامین

خوا جہ ثناء اللہ بٹ

خوا جہ ثناء اللہ بٹ

شبنم قیوم
بابائے صحافت خواجہ ثناء اللہ بٹ 87 سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔ ہماری اُن سے آخری ملاقات 15 روز قبل صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں ہوئی، جب وہ صاحب فراش تھے۔ کم سُننے کے ساتھ پہچان سے بھی محروم تھے۔ اس دوران یہاں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں انٹینسیو کیر یونٹ کے مختلف بیڈ پر کئی بیماریوں کے ساتھ تین ایسی شخصیات زندگی اور موت کے درمیان کے دور سے گذر کر اپنی یادیں پیچھے چھوڑنے کا اقرار کر رہی تھیں۔ میں اپنے ماموں جان صوفی غلام محمد، شیخ غلام محمد اور خواجہ ثناء اللہ بٹ کی مزاج پرسی کے سلسلے میں صوفی غلام محمد کے VIP روم میں بیٹھا تھا۔ اسی دوران میرے ہم قلم میرے دلدار میرے چھوٹے بھائی کے سماں ش م احمد بھی صوفی صاحب کی خریت دریافت کرنے اس روم میں آئے ان کے ساتھ محمد ابراہیم قریشی بھی تھے۔ جن کی سرینگر ٹائمز کے ساتھ برسوں تک وابستگی رہی۔ صوفی صاحب کے بعد ہم تحریک حریت کے ایک اہم ستون شیخ غلام محمد کے بیڈ کے پاس آئے وہ اس حالت میں تھے کہ نہ کچھ دیکھ سکتے نہ بول سکتے، بس آخری سانس گن رہے تھے۔ اس کے بعد ہم تینوں خواجہ صاحب کے پاس گئے۔ جو اپنے خدمت گار سے دریافت کرتے کون آیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آنکھیں کھولنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔ ان تینوں شخصیات کی حالت دیکھ کر جب ہم یہاں سے روانہ ہو گئے تو ہمارا اندازہ تھا، سب سے پہلے شیخ غلام محمد رحلت فرمائینگے۔ اس کے بعد خواجہ ثناء اللہ بٹ کی باری ہے۔ صوفی غلام محمد شاید Recover کریں گے۔
باری تعالیٰ نے اپنے فیصلے کے مطابق شیخ غلام محمد کے بعد صوفی غلام محمد اور اب خواجہ ثناء اللہ کو بلا وا بھیجا۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
ریاست میں عسکری تحریک کے ساتھ ہی میرے اور خواجہ صاحب کے تعلقات ایک طرح سے منقطع ہوئے ، کسی اختلاف کی وجہ سے نہیں، بس حالات کی وجہ سے، میری ہجرت اور مصروفیات اور خواجہ صاحب کا ایک طرح سے گوشہ نشینی آپس میں ملنے میں رکاوٹ بنی۔ شروع شروع میں فون پر تبادلہ خیال ہوتا رہا گزشتہ چھ سال سے یہ سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔
’’ آفتاب‘‘ جب ویکلی نکلتا تھا تب بھی اس میں لکھتا تھا۔ جب وہ روزنامہ بنا تب کسی وقت تک میں اس میں مسلسل لکھا کرتا تھا۔ جب میری پہلی سیاسی کتاب’’ یہ کس کا لہو ہے کون مرا‘‘ ضبط کی گئی اور پھر دوبارہ شائع ہو کر ریلیز ہوئی خواجہ صاحب نے اس کتاب کی نہ صرف خوب پبلسٹی کی بلکہ انہوں نے اس کتاب کی اشاعت پر میری جرأت مندی صداقت اور بے باکی پر میری سراہنا کی ، میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے حقائق اجاگر کرنے کی نصیحت بھی کی، انہوں نے میرے مضامین کے لئے آفتاب کے صفحے وقف رکھے، چنانچہ کئی سنسنی خیز آرٹیکل جو خواجہ صاحب نے اپنے آفتاب میں شائع کئے یہاں کوئی اور اخبار شائع کرنے کی جرأت نہ کر سکتا، خواجہ صاحب میری بڑی قدر کرتے تھے۔ وہ حقیقی معنوں میں ایک اچھے صحافی تھے۔ ان میں جرأت اور بے باکی کوٹ کوٹ کر بھری تھی، وہ کسی حاکم کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور نہ ہی بے مقصد کسی کی پگڈی اچھالتے تھے۔ خواجہ ثناء اللہ بٹ کا یہ ریکارڈ ہے کہ وہ مراعات حاصل کرنے کے لئے نہ کسی حاکم اور نہ ہی کسی آفیسر کے ہاں گئے۔ نہ جاہ و حمشت کے دلدادہ تھے نہ نمود و نمائش کے قائل۔ نہ ہی دولت اور جائیداد بنانے کی تمنا تھی۔ لہٰذا انہیں عزت اور ضمیر کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، ان میں ذرہ بھی لالچ نہ تھی۔صحافت کو انہوں نے پیشے کے طور پر نہیں لیا، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے پیچھے سرمایہ اور جائیداد نہیں چھوڑ سکا، انہوں نے اپنی مختصر سی پراپرٹی اپنے اُن ملازموں میں تقسیم کی جنہوں نے ان کی خدمت کی، اپنی زندگی میں ہی مختصر وراثت کی تقسیم کا فیصلہ ان کی دور اندیشی کی ایک قابل قدر مثال ہے۔ روزنامہ آفتاب اور اس کا پرنٹنگ پریس پہلے ہی ٹریسٹ کے سپرد کیا ہے۔ اس بارے میں وہ صاحب بصیرت اور دور اندیش ضرور تھے۔
خواجہ ثناء اللہ بٹ نے ۱۴؍ نومبر ۱۹۲۲ ء میں سرینگر کے چھتہ بل علاقے میں ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا، ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے کے ایک سرکاری سکول میں حاصل کی، مڈل کا امتحان انہوں نے سرینگر میں پاس کیا اس کے بعد وہ پاکستان چلے گئے۔ پاکستان میں ان کا قیام لاہور میں رہا۔ ۱۹۳۸ ء میں یہاں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد انہوں نے روزگار کی تلاش شروع کی، مسلسل دس برسوں تک انہوں نے سرکاری اور پرائیویٹ ملازمت تو کی لیکن کسی جگہ مستقل طور پر وہ ٹک نہ سکے، وہ ایک جگہ ملازمت چھوڑ کر دوسری جگہ جاتے رہے۔ اس چکر میں لاہور، راولپنڈی مظفر آباد میں چند برس گزار کر انہوں نے ہندوستان کی طرف رخ کیا اور چلتے چلتے ممبئی میں قیام کیا۔ ممبئی میں چند ماہ تک بیکار رہنے کے بعد انہیں برٹش آرمی کے ایک کنٹین میں ملازمت مل گئی۔
کہا جا رہا ہے یہ ملازمت بھی انہیں راست نہ آئی، وہ کشمیر واپس آگئے اور یہاں سے ۱۹۴۷ ء میں مہاجر بن کر مظفر آباد روانہ ہو گئے۔ مظفر آباد میں ۱۹۴۰ ء کے دوران ملازمت کر چکے تھے یہاں اُن کی کافی جان پہچان تھی۔ چونکہ مہاجرین خاص طور پر کشمیری مہاجرین کو یہاں نہ صرف ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا تھا بلکہ ان کے روزگار کا بندوبست بھی کیا جاتا، خواجہ ثناء اللہ بٹ پڑھے لکھے تھے۔ مہاجر بھی تھے۔ انہیں اسی محکمے میں سٹلمنٹ آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا، چند سال تک یہ ملازمت کرنے کے بعد سیمابی طبیعت نے اپنا کام کیا، ملازمت چھوڑ دی پورے ایک سال تک فیصلہ نہ کر سکے انہیں کیا کرنا چاہیے ان کا مستقبل کیا ہے۔
۱۹۵۳ ء میں جب کشمیر میں سیاسی بحران پیدا ہوا، وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ کو نہ صرف وزارت اعظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا بلکہ نظر بند بھی کیا گیا۔ تو انہوں نے مظفر آباد میں بھارت سرکار کی اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا، اس احتجاج کا نام’’ کشمیر ‘‘ رکھا، مطلب یہ کہ انہوں نے اپنا احتجاج اپنی آواز عوام تک پہنچانے کے لئے’’ کشمیر‘‘ نام کا ویکلی نیوز پیپر شائع کیا، پورے پانچ سال تک ان کا یہ اخباری جاری تو رہا لیکن کتنی بار سرکاری عتاب کا شکار بھی بنا، ان پر قدغن بھی لگا۔ ان کو اپنے جذبات قابو میں رکھنے کی ہدایات بھی ملیں، بالآخر سرکار کے ساتھ ٹکراؤ نے شدت اختیار کر لی انہیں ملک بدر کیا گیا۔
۱۹۵۷ ء میں مظفر آباد سے سرینگر بوریا بستر کے بغیر ہی واپس آئے تو گھر میں بیکار پڑے رہے۔ کچھ مدت کے بعد نوکری کی تلاش میں نکلے اپنے جانے پہچانے ساتھیوں سے اس کا تذکرہ کیا، وزیر اعظم بخشی غلام محمد تک بات پہنچی اور انہیں یہ جانکاری بھی ملی۔ ثناء اللہ بٹ ایک صحافی ہیں۔ مظفر آباد میں ایک اخبار شائع کرتے تھے۔ وزیر اعظم بخشی غلام محمد نے انہیں محکمہ انفارمیشن میں پبلسٹی آفیسر کی پوسٹ کی آفر کی، جو انہوں نے نامنظور کی، چونکہ انہوں نے پہلے ہی ملازمت کرنے سے توبہ کر لی تھی لہٰذا انہوں نے سرینگر سے ایک اُردو اخبار نکالنے کا فیصلہ کر لیا تاکہ مظفر آباد میں جو ان کا مشن ادھورا رہا وہ کشمیر میں آکر پورا ہو سکے۔ چنانچہ انہوں نے اپنا ذاتی اخبار اجراء کرنے کا فیصلہ کر لیا، ان کا یہ فیصلہ’’ آفتاب‘‘ کی صورت میں جلوہ گر ہوا،
ریاست جموں کشمیر جس کا خواجہ ثناء اللہ بٹ ایک باشندہ تھا۔ وہ’’ آفتاب‘‘ لا کر یقیناًصحافت کا آفتاب بن گیا۔ بڑے خوبیوں کا مالک تھا۔ لوگ ثناء آفتاب کے نام سے بھی یاد کرتے تھے۔ جب تک اخبار’’ آفتاب ‘‘ جاری رہے ثاء آفتاب زندہ رہے گا۔ چمکتا رہے گا، ہاں ! اب ولر کے کنارے خضر سوچے گا نہیں۔ کیونکہ سوچ باقی نہیں رہی اس لئے کہ شیخ محمد عبداللہ کی معذولی اور گرفتاری کا ایک ذمہ دار وہ بخشی غلام محمد کو ٹھہراتے تھے۔
البتہ جب اکتوبر 1975 ء میں شیخ محمد عبداللہ نے تحریک آزادی، حق حق ارادیت اور مطالبہ رائے شماری سے دسبرداری دے کر نہ صرف سرنڈر کیا بلکہ تنزل عہدہ قبول کر لیا تو ثناء اللہ بٹ سخت بے دل ہو گئے اور وہ ہر ملنے والے سے کہتے رہے ،شیخ محمد عبداللہ نے اپنی ساری زندگی کی امیچ خراب کر دی وہ اقتدار کے لئے بک گئے، انہوں نے عوام کا مستقبل داؤ پر لگا دیا۔ اگر اقتدار ہی ان کا مدعا و مقصد تھا تو انہوں نے مرکز کے ساتھ حالات خراب کیوں کئے۔ وہ اپنے وعدوں پر قائم نہ رہ سکے جن کا وہ ۲۲ سال تک بار بار اعادہ کر رہے تھے۔ درگاہ حضرت بل اور خانقاہ معلی میں کلام پاک کی تلاوت کر کے قسمیں کھایا کرتے تھے۔
اُن ایام میں، میں نے اکثردیکھا وہ اپنے ملنے والوں سے شیخ محمد عبداللہ کی سیاسی زندگی پر ان کے روپ اور بہروپ پر جذباتی لہجے میں دلیلیں بتا کر اپنے دل کی گویا بھڑاس نکالتے تھے۔
چنانچہ میرے ساتھ بھی جب ایسا ہی واقعہ پیش آیا تو میں نے ان سے شکایت کی کہ 1975 ء کے سرنڈر جس کا نام ایکارڈ رکھا گیا ۔ میں نے شیخ محمد عبداللہ سے 15 سوالات کئے، ان سوالات کو کسی بھی اخبار نے شائع نہیں کئے۔ آپ نے بھی نہیں کئے۔ انہوں نے ان سوالات کو دیکھنے سے لا علمی ظاہر کی اور بتایا مجھے لکھ کر دیدو میں آج ہی’’ آفتاب‘‘ میں شامل کر لوں گا۔ میں نے انہیں بتا دیا۔ اب ان سوالات کو لے کر میری کتاب منظر عام پر آرہی ہے، چنانچہ جب میری یہ تاریخی ناول’’ یہ کس کا لہو ہے کون مرا‘‘ اس کے اجراء کی خبر ثناء اللہ نے اپنے اخبار کے پہلے صفحے پر جلی حروف میں شائع کر دی۔ یہ کتاب ضبط بھی ہوئی اور دوبارہ شائع بھی ہوئی، ہاں! اس کی پبلسٹی میں ثناء اللہ کا بڑا ہاتھ رہا۔ جبکہ دوسرے اخبارات اس بارے میں کوئی خبر شائع کرنے سے ڈر اور خوف محسوس کر رہے تھے۔
ثناء اللہ کے ساتھ ہمارا ’’ موئے مقدس ﷺ کی گمشدگی کے بعد اس کی بازیابی پر اختلاف رہا۔ اس بارے میں نہ وہ میری دلیل مانتے اور نہ ہی میں نے ان کا نظریہ قبول کر لیا۔ وہ موئے مقدس ﷺ کی گمشدگی کے بعد اس کی بازیابی پر شک کر رہے تھے۔ میں ہی کیا کوئی ان کا یہ شک دور نہ کر سکا۔
عجب آزاد مرد تھا۔خدا مغفرت کرے۔