اداریہ

خوشگوار زندگی گزارنا عقل مندی ہے

آج کل جس طرف دیکھا جائے ہر طرف کوئی نہ کوئی ذہنی تناؤ یعنی ڈپریشن کا شکار نظر آتا ہے۔ ہمارے نوجوان ذہنی پریشانیوں میں زیادہ مبتلا دکھائی دیتے ہیں خاص کر پڑھے لکھے نوجوانوں کا ایک خاصا طبقہ ذہنی تناؤ کا شکار نظر آرہا ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے چہروں پر پریشانی، کھوئی کھوئی اور خالی نظریں، ان سے حال پوچھو تو بے حال، تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری وادی میں کئی لوگ ڈپریشن کے شکار ہیں، ڈپریشن کی وجوہات عمر کے مختلف حصوں میں ہوتی ہیں۔پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہماری نوجوان نسل اس مرض میں تیزی سے مبتلا ہو رہی ہے اور وجہ ہے بے روزگاری۔
نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں لے کر جب مختلف یونیورسٹیوں سے نکل کر عملی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو اُن کی آنکھوں میں مستقبل کے حوالے سے بہت سے خواب ہوتے ہیں لیکن نوکریاں ڈھونڈھتے ڈھونڈتے جب اُن کے بالوں میں چاندی کے تار جھلملانے لگتے ہیں تو اُن کے رنگین خواب کبھی پورے ہوتے نظر نہیں آتے، خواب دیکھنا کوئی غلط نہیں لیکن خوابوں کے پیچھے وقت برباد کرنا ہرگز دانش مندی نہیں۔ نوکریوں کے پیچھے وقت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ انسان خود اپنا روزگار کمائے، ہمیں ارد گرد میں کئی ایسی مثالیں ملیں گی جن سے باقی بے روزگار نوجوانوں کو حوصلہ ملے گا کہ کس طرح تعلیم یافتہ ہونے کا بھر پور فائدہ اُٹھانا چاہیے، ہمارے کئی نوجوان بڑی بڑی ڈگریاں کرنے کے بعد خود اپنا بزنس بہت ہی کامیابی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ کئی ایک نے کئی جگہوں پر اپنے بزنس یونٹ قائم کئے ہیں اور اپنے بزنس یونٹ چلانے میں کامیاب نظر آرہے ہیں، بہت سارے انجینئرنگ کر نے کے بعد اپنی فیکریٹریاں اور ملیں چلا رہے ہیں اور تو اور کچھ ڈاکٹرس ایسے بھی ہیں جنہوں نے سرکاری نوکریوں کو خود ہی خیر باد کہہ دیا اور اپنا نجی کلنک چلا رہے ہیں۔ اس مختصر سی زندگی کو ڈپریشن کے حوالے کرنے کے بجائے ایک خوشگوار زندگی گزارنا ہی عقل مندی ہے، کسی ادارے میں مہینہ بھر کام کر کے جب تنخواہ ملتی ہے تو یقیناًخوشی ہوتی ہے۔ لیکن ذراسوچئے کہ ایک ساتھ کئی سارے لوگوں کو آپ تنخواہ دیں گے تو کتنا خوشگوار احساس ہوگا۔