مضامین

خوف خُدا سے غفلت…؟

خوف خُدا سے غفلت…؟

ستمبر 2014  یعنی سال گزشتہ کے سیلابی قہر نے کشمیریوں کو معاشی طور تباہ اور برباد کر کے رکھ دیا۔ ابھی اُسی مصیبت سے کشمیری قوم سنبھل نہیں پا رہے تھے تو سال رواں کا مارچ مہینہ بھی قابل ثابت ہوا۔ اگر چہ کشمیری روایات کے مطابق21 دسمبر سے 21 مارچ تک یہاں کا موسم ہمیشہ ناخوشگوار رہتا ہے لیکن گھروں کے اندر لوگ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کرتے ہیں کشمیر میں کبھی کبھار ہی اس موسم میں لوگ ایسا دیکھتے ہیں جو آج کل دیکھنا پڑتا ہے ۔ کیا واقعی ہمارے اعمال اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بزرگان الدین کے اس سر زمین کو پوری طرح نیست و نابود کرنے کے اشارے دے رہا ہے اور ہم لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے ہیں اسلامی روایات اور دنیا کے تواریخ گواہ ہے کہ  پہلے دور کے رسولوں اور پیغمبروں کے نافرمان قومیں اللہ تعالیٰ نے صفہ ہستی سے مٹا دئے تھے جس طرح قوم لوط قوم عاد شمود تباہ اور برباد کئے گئے مگر مسلمان قوم کو اللہ تعالیٰ نے آنحضور ﷺ کے رحمت و شفقت کی وجہ سے وعدہ ہے کہ اُمتی انحضور ﷺ کو ان قوموں کی طرح نیست و نابود نہیں کرے گا جس طرح پہلے دور کے فرمان قوموں کو سزا دی گئی ہے۔ بشرطیکہ مسلمان آنحضور ﷺ کے دکھائے ہوئے راستے پر چلیں یعنی اُسوئہ حسنہ کو اپنائیں گے مگر افسوس ہم سب مسلمان بھی ہیں اور اسلامی اصولوں سے غفلت اور لاپروائی بھی کرتے ہیں انصاف صلہ رحمی اب نام کی رہ گئی ہے۔ قناعت کی بات کہنا جرم لگتا ہے کمزوروں کا خیال رکھنے کا تصور نہ رہا۔ دولت جمع کرنا پھر دوسروں پر رعب جمانا ہماری عادت بن گئی ہے ہمارے دل سنگ دل بن گئے ہیں اور خوف خدا بھول چکے ہیں اس مست مدہوش دنیا نے ہماری آنکھوں پر غفلت کی پٹی باندھ دی ہے اور ہم اخلاقی پستی کی طرف جا رہے ہیں۔ انسان انسانیت کے بجائے روز بروز ظالم اور جابر بن رہا ہے حرس اور لالچ نے انسان کو اندھا بنا دیا ہے موقعہ پرستی نے شریف لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔ اسلامی رنگ وضع قطعہ لمبی داڑھی مگر دل ہمارے مسلمان ہرگز نہیں ذخیرہ اندوزی گراں بازاری کو تجارت میں جب ہم خود بدلنے کیلئے تیار ہی نہیں پھر قہر خدا وندی پر واویلا کیوں؟ بات ہو رہی تھی نہ آنے والے سیلاب کی اور زندہ دفن ہوئے اُن انسانوں کی جو کل تک ہم سب کے ساتھی تھے۔
ناسازگار موسم کے احوال یعنی بُری خبریں عوام کو سننے کو مل رہی ہیں۔ چرارشریف تحصیل کے پہاڑی بستی لیڈن سانحہ کی دلدوز حادثہ کی جہاں دوغریب کنبوں کے 16 افراد خانہ پہاڑی ٹیلہ کھسک آنے سے مکان کے ملبے تلے زندہ دفن ہو گئے بڑوں کے ساتھ معصوم بچے اور جوان بہن بھائی بھی مہندی لگنے سے پہلے مٹی میں مل گئے اس کے بعد متواتر وادی کے اطراف اکناف سے مکانوں کو زمین بوس اور مکینوں کو زندہ دفن ہو جانے کی کلیجہ پھٹ جانے والی خبریں آنے لگیں، ڈوڈہ ضلع میں ایک پسماندہ اور دور افتادہ گائوں میں بھی ایک مکان میں سات افراد خانہ زندہ در گور دفن ہو گئے دیسہ کے دیول کنڈ گائوں میں شیش کمار کا رہائشی مکان بستی سے غائب ہو ہی گیا یا زمین ہی مکینوں کو کھا گئی اس کے بعد بارہمولہ کا اوڑی قصبہ میں بھی اسی طرح کا ایک اور دلدوز حادثہ پیش آیا جہاں لمبر نامی گائوں میں دو افراد مٹی کے تودے تلے زندہ دب گئے اور دو افراد کو بچا لیا گیا اس کے بعد فرستہ ہار سنگرامہ میں بھی زمین میں خراشی پڑ جانے سے زمین بوس ہونے لگا لیکن بستی کے لوگ پہلے ہی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے بہر حال آج بھی کل ملا کر تیس کے قریب معصوم جانیں تلف ہوئیں، مارچ اپریل کے دو مہینے آمد بہار کے چاروں طرف سر سبز شاداب موسم کی خبر دیتی ہے مگر روان سال سنہ 2015 کا موسم بہار کشمیر میں خوف و ہراس کی لہر کو لے کر آیا ، اگر چہ ان دو مہینوں میں سلاب آنے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ہے نہ ااج تک ایسی روایت موجود ہے مگر سابقہ سال کے سیلابی قہر سامانیاں اب آنکھوں کے سامنے گھومتی ہیں اور اُسی کا خوف لوگوں میں اضطراب پیدا کر رہا ہے۔ سیلاب کا خطرہ تو ٹل گیا البتہ کشمیر کو بھارت سے ملانے والی شہرہ پسیاں گر آنے کی وجہ سے بار بار بند ہو گئی، یہاں ہمارے سبزی فروش ، مرغ فروشوں، چاول فروشوں نے من مانیاں شروع کیں۔ خدا خدا کر کے سابقہ مخلوط سرکار کی خیرات چھے مہینوں کی مفت راشن بھی 31 مارچ 2015 سے ختم ہو گئی ہے۔ اب مفت کھانا بھی قوم کو نہیں ملے گا نہ اب پی ڈی پی ، بی جے پی کی مخلوط شرکار کسی من صلوا کی اُمید رکھتی ہے ہاں جب سرکار جموں سے سرینگر فلک بوس عمارت یعنی سکریٹریٹ میں واپس پہنچائے گی تب کون سا نیا انقلاب لے آئے گا دیکھنا باقی ہے۔
جی این حکیم