مضامین

داستان ایک روپوش خان کی

داستان ایک روپوش خان کی

جی این حکیم
کس قدر افسوس کا مقام ہے ایک اہم اور حساس محکمے کا سربراہ اندھے کی حد تک خود غرض بن کر مہذب سماج میں ایسی نازیبا حرکت کرنے کی پاداش میں بدنام ہو جائے جس کی ایسے لوگوں سے توقع ہی نہیں، سیاست واقعی ایک عبادت ہے سماجی خدمت کرنے والے سیاسی لوگوں کا رویہ صالح قدروں پر مبنی ہو خاص طور کردار کے لحاظ سے سیاست کرنے والے اشخاص کی زندگی اور رفع اور اعلیٰ نمونہ ہو کہ کوئی ان پر انگلی ہی اٹھا سکے، پھر بھی جب بات کسی منسٹر صاحب کی ہو جو انصاف کی کرسی پر براجمان ہو کر محکمے صحت کا ذمہ دار اعلیٰ عہدے پر تعینات ہو اُن لوگوں کی نجی زندگی کا انتہائی پاک و صاف ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا مچھلی کیلئے پانی ہے، سیاستدان لوگ قوم کے رہبر ہوتے ہیں ایسے لوگوں کے تعلق سے کسی رشوت اسکنڈل یا جنسی اسکنڈلوں میں پھنسے ہونے کی بات تو سوچی بھی نہیں جا سکتی ،سیاسی لوگوں کی زندگی ایسی باکردار ہو کہ عام لوگ اُن کی تقلید کریں اُن کا ذاتی کردار اتنی صالح قدروں پر مبنی ہو کہ کسی کو سیاستدانوں پر جھوٹا الزام بھی لگانے کی جرأت نہ ہو سکے لیکن اپنی ریاست جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے پر نظر ڈالنے کے بعد بڑی مایوسی ہوتی ہے ریاست میں کوئی شعبہ ایسا نہیں جہاں کے سربراہ قابل مثال ہونے ہوں جبکہ اکثر بدنامی کے سبب بن رہے ہیں۔ بڈگام میں مذہب کے نام پر نام نہاد گلزار پیر سے لے کر نقلی ڈاکٹر بنانے والے مشتاق پیر تک بہت سارے ذمہ دار چاہیے سرکاری ہو یا غیر سرکاری اپنی شرمناک حرکتوں کی وجہ سے دیوان خانوں سے جیل کی کالہ کوٹھریوں میں پہنچ گئے ہیں یوں لگ رہا ہے کہ اب ایسے تمام سیاستدانوں، منسٹروں اور بیروکریٹوں کو حوصلہ اس لئے ملا کہ دس سال پہلے ایک جسم فروش عورت سبینہ کیس میں ملوث پائے گئے سیاستدان ، بیروکریٹ ایک سرکاری سازش کے تحت ملوث ہو کر ایک تو بری کئے گئے اس کے علاوہ دوبارہ وزیر بھی بنائے گئے اب ڈر کس بات کا دہلی سے کشمیر تک سرکاری سطح پر ہر ایک چیز کی پردہ داری کی جا رہی ہے حتیٰ کہ شوپیان کے دو خواتین کا معاملہ، پتھری بل سے کپوارہ کے فرضی جھڑپ کا معاملہ انصاف کے انتظار میں تڑپ رہا ہے ہمارے حاکم اقتدار کے نشے میں بد مست ہو کر عزت مآب خواتین کی بے حرمتی کرنے میں شرم تک محسوس نہیں کرتے موجودہ مخلوط سرکار میں انصاف کا نظام بہت کمزور ہو چکا ہے یا دوسرے الفاظ میں حکمرانوں کے ہاتھوں حکومت کی باگ ڈور نہ ہونے کے برابر ہے ہمارے حکمران نقلی بوتھ بنے ہوئے نظر آتے ہیں اگر ایسا نہ ہوتاتو صحت محکمہ کا شیطان مزاج وزیر اپنی عمر اور سفید بالوں کا خیال کرتے بیٹی کے برابر لیڈی ڈاکٹر کو سرکاری محکمانہ کام کی غرض سے بلوا کر اقتدار کے نشے میں بد مست ہو کر انسانیت اور شرافت کے اصولوں کو بھول کر وحشی درندے کی حرکات کر کے اسکو سرکاری نظام سے مایوس نہ کرتا ، مرحبا اس قوم کی بہن کو جو باغیرت بن گئی اور قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوتی تاکہ باقی سرکاری نظام سے وابسطہ خواتین اپنے عزت ناموس کو محفوظ بنا سکیں ۔ اطلاعات کے مطابق جس لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ یہ ناخوشگوار اور افسوسناک واقع پیش آیا وہ ایک نیک سیرت خاتون ہے جو ہمیشہ باپردہ اور اسلامی وضع قطع کے ساتھ چلتی ہے اس کے علاوہ محکمہ صحت ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ایک مدبر اور بارعب آفیسر کے طور پر نام کما چکی ہے، پھر بھی ماں بہن مزاج کے لحاظ سے با حیاء ہوتے ہیں پھر جو اعلیٰ تعلیم یافتہ او ر سماج میں انقلابی مزاج کی خواتین ہوتی ہیں وہ کبھی حکمرانوں کے فریب یا دونکھے میں نہیں آسکتے بلکہ باغیرت بن کر بے حیاء سیاسی لیڈروں اور حادثہ کے پیداوار منسٹروں کیلئے چیلنج بن کر سماج میں بے زبان ماں بہنوں کی زبان بن کر کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ جو خدائے روف الرحیم پر بھروسہ کر کے حکمرانوں کی دھمکیوں عذاب اور عتاب کو خاطر میں بھی نہیں لاتی ہیں دنیا میں بہت سارے سیاستدانوں کو اقتدار مل گیا ہے مگر ظالم اور ذلیل ثابت ہوئے اور دنیا میں ساری خواتین خاموشی سے حکمرانوں کے ظلم و ستم نہیں سہہ سکتی بلکہ مصر میں زینت غزالی اور شام میں ہبہ الدباغ کی طرح باغیرت بن کر ایک منظم طریقہ سے تمام سادہ لوح خواتین کو باغیرت اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنے کی تحریک دیتی ہیں بات ہو رہی تھی سابقہ وزیر مملکت محکمہ صحت شبیر خان کی جس کو اپنی کرتوتوں کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا مذکورہ وزیر صحت اپنے اُسی دفتر میں یعنی وادی کی گرمائی راجدھانی کی آسمان کو چھونے والی عمارت(سکرٹریٹ) جوکافی اہمیت کے حامل مانی جاتی ہے کیونکہ اس دفتر میں لوگوں کے حقوق اور فائدے تقسیم کرنے کے اہم فاصلے لئے جاتے اسی سکریٹریٹ کو بدنام کر کے اُس سیاسی پارٹی کیلئے خجالت کا باعث بنا جس کی مدد سے اُس عہدے تک پہنچا تھا ساتھ ذاتی خاندان اور راجوری کے عوام کو بھی باعث شرمندگی بن بیٹھا ان غریب اور مفلوالحال لوگوں کو کیا معلوم تھا ان کا نمائندہ کیا گل کھلا رہا ہے مخلوط سرکار کا یہ آخری اور اہم سال ہے جو سیاسی لحاظ سے بہت نازک بھی ہے دوسری طرف عوام بیزاری اپنی عروج پر ہے مگر مخلوط سرکار کی رسہ کشی لوٹ کھسوٹ نے عوام کو مایوس تو کر ہی دیا البتہ اپنوں کی من مانیوں نے جھیل ڈل سے لے کر سکریٹریٹ تک بدمعاشی کے ماحول نے سیاسی ماحول کو گندہ کر دیا اب سکریٹریٹ کی چھت سے ہی آوازیں آنے لگے اُس سرکار کو اقتدار کے مسند پر رہنے کا کوئی حق نہیں جو جھیل ڈل کی پانی سے لے کر سکریٹریٹ تک بدنام اور قومی شرمندگی کی باعث بن جاتے زور زبردستی اور حیلہ بہناوں سے اقتدار پر قابض رہنا کسی بڑی طوفان کو دعوت دینے کے برابر ہوگا۔
بقول شاعر
علم ہے کچھ اور چیز قل ہے کچھ شئے
کتنا طوطے کو پڑایا پر وہ حیوان ہی رہا