اداریہ

دعوے اور حقیقت میں فرق

ڈویژنل کمشنرکشمیر نے اس بات کا اظہار کیا کہ شدید برفباری کے نتیجے میں حکومتی ناکامی غیر متوقع برفباری کی وجہ ہے۔ ان کے مطابق اس قدر شدید برفباری کی پیشگوئی نہیںکی گئی تھی۔ ڈویژنل کمشنر کے مطابق پوری وادی میں 600 مکانات اور متعدد سکولی عمارتوں کو جزوی طور نقصان پہنچاہے تاہم ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ طور پر اْن کے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں۔ ڈویژنل کمشنر کا کہنا ہے کہ تمام ضلع ترقیاتی کمشنروں کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نقصانات سے متعلق اعداد و شمار اُن کے آفس تک پہنچائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر امداد دی جاسکے۔ ڈویژنل کمشنر کے مطابق 70فیصد علاقوں میں بجلی کی فراہمی کو ممکن بنادیا گیا، اس بات کے باوجود کہ لائنیں زمین پر پڑیں ہیں۔ برفانی طوفان سے بجلی کی ترسیلی لائنیں میں ضرور نقصان ہوا ۔اس بات سے بھی ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ مکانات اور سکولی عمارتوں کو بھی نقصان ہوا، میونسپل کمشنر سرینگر کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ شہر سرینگر میں برف باری تھم جانے کے بعد ہی اہم سڑکوں سے برف ہٹائی گئی اور جہاں پانی جمع ہوگیا ہے وہاں سے پانی کی نکاسی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
مگر اس بات میں کوئی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ بارشیں یا برفباری بلالنے پر نہیں آتی بلکہ اچانک اور غیر متوقع ہی ہوتی ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ محکمہ موسمیات کی طرف سے کئی روز پہلے ہی پیش گوئی ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم خشک یا کہیں پر بارش یا برفباری ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے تاہم انتظامیہ کی اس پر غور نہ کرنے کی وجہ سے عوام طرح طرح کے پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔ پہلے سے ہی محکمہ موسم کی پیش گوئی یاوارننگ پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے عوام کو طرح طرح کے مشکلات جھیلنے پڑتے ہیں۔ تازہ برفباری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر لی جاتی ہے۔ اس بار بھی محکمے نے پیشن گوئی کی ہے اور انتظامیہ نے ایک قسم کی خاموشی اختیار کی۔ اب جب برفباری ہوئی تو دویژنل کمشنر کشمیر کی طرف سے بیان آیا کہ اس قدر محکمہ نے پیش گوئی نہیں کی اور برفباری غیر متوقع ہوئی ۔ساتھ ہی میونسپل کمشنر کشمیر نے شہر کے سڑکوں پر برفباری اور پانی کی نکاسی کی بات کی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ اگر شہر سرینگر کی اہم سڑکوں کی بات کی جائے تو ابھی اہم سڑکوں پر اتنی زیادہ پانی جمع ہے کہ لوگوں کے چلنے پھرنے میں کافی مشکلات در پیش ہیں۔دوسرے قصبہ جات کی بات کی جائے تو وہاں خدا ہی حافظ اگرچہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وادی میں 70 فیصد بجلی کو بحال کیا گیا تاہم اس بات میں بھی کوئی زیادہ حقیقت دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ابھی کئی علاقہ جات ہیں جہاں بجلی پوری طرح سے غائب ہے۔غرض دعوے ٰاور حقیقت میں بہت زیادہ فرق ہے۔