سرورق مضمون

دفعہ 370 کی واپسی ممکن نہیں
ای ڈی کی طرف سے کشمیر میں کاروائیاں جاری

دفعہ 370 کی واپسی ممکن نہیں<br>ای ڈی کی طرف سے کشمیر میں کاروائیاں جاری

سرینگر ٹوڈےڈیسک
بھارت کی سب سے منظم انٹلی جنس ایجنسی را کے سابق ڈائریکٹر ایس اے دلت کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 ہمیشہ کے لئے دفن ہوچکا ہے اور اس کی واپسی کا اب کوئی امکان نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں بات چیت سے حالات بہتر ہوسکتے ہیں ۔ اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے سابق را چیف نے جموں کشمیر کو ایک ریاست بنانے کا مطالبہ حق بجانب قرار دیا ۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تمام مسائل باہمی گفتگو سے حل کئے جاسکتے ہیں ۔ دلت ماضی میں طویل عرصے تک کشمیر کے انچارج رہے ہیں ۔ واجپائی کے دور حکومت میں دلت نے کشمیر کے حوالے سے ایک اہم رول ادا کیا ہے ۔ اس وقت سے لے کر کہا جاتا ہے کہ ان کے کشمیر کے بڑے بڑے لیڈروں کے ساتھ روابط رہے ہیں ۔ ایسے لیڈروں میں مین اسٹریم کے بہت سے نمایاں لیڈروں کے علاوہ علاحدگی پسند رہنمائوں کے نام بھی شامل کئے جاتے ہیں ۔ اپنی خود نوشت سوانح میں دلت نے کشمیر کے ایسے بہت سے لیڈروں کا ذکر کرتے ہوئے ان کے ساتھ اپنے مراسم کے علاوہ ان کی کمزوریوں سے پردہ اٹھایا ۔ اس کے بعد دلت کشمیر کے سیاسی حلقوں میں ایک مشہور نام رہاہے ۔ دلت نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ کشمیر دہلی ڈائیلاگ بہت ضروری ہے ۔ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے ان کا کہنا ہے کہ دہلی کو کشمیری لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرنی ہوگی ۔ اس گفتگو سے جو نتائج حاصل ہونگے پاکستان کو قبول کرنے پڑیں گے ۔ دلت کا کہنا ہے کہ 5 اگست2019 کو دہلی کی حکومت نے جو فیصلے لئے کشمیریوں نے ان کو اب تک قبول نہیں کیا ہے ۔ اس کے باوجود ان کے خیال میں یہ فیصلے حتمی ہیں اور ان کو بدلا نہیں جاسکتا ہے ۔ دلت نے اس مطالبے کی حمایت کی کہ کشمیر میں پہلے اسمبلی بحال کی جانی چاہئے اور اس کے بعد ہی انتخابات کرنے چاہئے ۔ دلت نے یہاں کے سیاسی حلقوں کی اس رائے کی حمایت کی اسمبلی کی بحالی سے پہلے انتخابات کا کوئی مقصد نہیں ۔ دلت نے کہا کہ اسمبلی کی بحالی کے بغیر بات چیت زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوسکتی۔ دلت نے اس بات پر زور دیا کہ بات چیت سے تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔ اس تفصیلی انٹرویو میں انہوں نے کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اگرچہ دفعہ 370 کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمیشہ کے لئے جاچکا ہے تاہم دوسرے مسائل کے حوالے سے انہوں نے وہی باتیں کی جو یہاں کے مین اسٹریم لیڈر کہتے ہیں ۔ خاص طور سے اسمبلی کی بحالی اور انتخابات کے حوالے سے انہوں نے مین اسٹریم لیڈروں کے مطالبات کی کھل کر حمایت کی ۔
کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں اور مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں کی طرف سے تحقیقاتی عمل جاری ہے ۔ اس حوالے سے کئی اہم اقدامات سامنے آئے ۔تازہ کاروائی میں سید علی گیلانی کے علاوہ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی والدہ کے نام نوٹس جاری کئے گئے ۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے علاحدگی پسند لیڈر سید علی گیلانی کے نام ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں گیلانی سے 14 لاکھ روپے فوری طور ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ غیر قانونی طور بیرونی امداد حاصل کرنے کے جرم میں اسے یہ رقم بطور جرمانہ ادا کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ خبررساں اداروں کے مطابق منگلوار کو جاری کئے گئے اس نوٹس میں کہا گیا ہے کہ گیلانی پر یہ رقم 2019 میں بطور جرمانہ ادا کرنے کو کہا گیا تھا ۔ لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا اور آج تک رقم جمع نہیں کرائی ہے ۔ اب دوبارہ ان کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے اس رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ گیلانی کو دس دنوں کی مہلت دی گئی ہے اور یہ رقم اس دوران ادا کرنے کے لئے کہا گیا ہے ۔نوٹس میں تاہم یہ بھی کہا گیا کہ اس حوالے سے عدالت کی طرف سے اگرکسی قسم کی روک لگادی گئی ہے تو ایسے آڈر کی کاپی مہیا کی جائے ۔ اس دوران یہ خبر سامنے آئی کہ سابق وزیراعلیٰ اور پی ڈی پی لیڈر محبوبہ مفتی کی والدہ ای ڈی کے سامنے تفتیش کے لئے حاضر نہیں ہوئی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان کو ای ڈی کی طرف سے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں تفتیش کی غرض سے طلب کیا تھا لیکن آپ وہاں حاضر نہیں ہوئی ۔ انہیں اس معاملے کے لئے سرینگر میں قائم ای ڈی کے آفس میں بدھ وار کو حاضر ہونا تھا لیکن وہ حاضر نہیں ہوئیں ۔ کہا جاتا ہے کہ اس معاملے میں بیان لینے کے لئے انہیں پہلے بھی سمن جاری کرکے حاضر ہونے کو کہا گیا تھا ۔ لیکن وہ دونوں بار وہاں حاضر نہیں ہوئیں ۔ محبوبہ مفتی کی والدہ کو اس سے پہلے اپریل کے مہینے میں بیان دینے کے لئے ای ڈی آفس میں حاضر ہونے کے لئے کہا گیا تھا ۔ لیکن وہ پہلے وہاں حاضر ہوئی نہ آج ان کے حاضر ہونے کی اطلاع ہے ۔ اس بارے میں کوئی بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے ۔ اس طرح کئی روز پہلے جب سمن جاری کیا گیا تھا تو محبوبہ مفتی نے اس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دبائو ڈالنے کا ایک حربہ ہے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ ان کی پارٹی نے جب حد بندی کمیشن کے کشمیر آنے پر جب اس کے ممبران سے ملنے سے انکار کیا تو ای ڈی کی طرف سے سمن جاری کیا گیا ۔ یہ پارٹی کو مجبور کرنے کا ہتھیار ہے جسے بقول محبوبہ مرکزی سرکار ان کے خلاف استعمال کررہی ہے ۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے اس حوالے سے تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے ۔ ای ڈی کی طرف سے آگے کیا کاروائی کی جائے گی یہ وقت آنے پر ہی معلوم ہوگا ۔ ادھر پی ڈی پی کے نوجوان لیڈر وحید پرہ کی ضمانت کی درخواست ایک بار پھر عدالت کی طرف سے مسترد کی گئی ۔ اس کے بعد پرہ کو ایک بار پھر جیل پہنچادیا گیا ہے ۔ پرہ کے خلاف این آئی اے کی طرف سے ایک کیس دائر کیا گیا ہے جس میں ان پر الزام لگایا گیا کہ ان کے ملی ٹنٹوں کے ساتھ براہ راست رابطے رہے ہیں ۔ ان کے خلاف پچھلے ہفتے پیش کئے گئے چارج شیٹ میں کہا گیا کہ کئی عسکری لیڈروں کو پناہ اور سفری سہولیات دینے کے علاوہ پرہ نے انہیں کئی لاکھ روپے بھی فراہم کئے ۔ اس کے علاوہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میں یہ بھی کہا گیا کہ پرہ کو ملی ٹنٹ تنظیموں کے ان رہنمائوں کے ساتھ خط وکتابت تھی جو سرحد پار پاکستان میں رہائش پذیر ہیں ۔ پرہ کو جمعرات کو خصوصی عدالت کے سامنے ضمانت کی درخواست پر جاری کاروائی کے سلسلے میں پیش کیا گیا ۔ عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی اور انہیں واپس جیل بھیج دیا گیا۔