خبریں

دفعہ370کو کمزور کرنا نا قابل برداشت

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے نام لئے بغیر بی جے پی قیادت کوآئین ہندکی دفعہ 370،جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے ،کی تنسیخ کا گمراہ کن پروپیگنڈہ شروع کرنے پر خوب لتاڑا۔انہوں نے کہا کہ انتخابات نزدیک آتے ہی بی جے پی اس مسئلے کو اُبھار کر عوام کو دھوکہ دینے کی اپنی روایت پر عمل پیرا ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہا’’ہم ،جموں و کشمیر کے عوام انہیں بتاتے ہیں کہ دفعہ 370کی تنسیخ ناممکن ہے اوراس حساس مسئلے پر کسی بھی سمت سے کوئی بھی کوشش ہماری لاشوں پر ہوگی۔‘‘عمرنے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے ساڑھے چھ برسوں کے دورِاقتدا ر میں اس جماعت نے کبھی بھی اس مسئلے پر بات نہیں کی ۔ انہوں نے کہاکہ’’ بی جے پی ہمیشہ انتخابات نزدیک آتے ہی دفعہ 370 کی منسوخی کا راگ الاپتی ہے۔‘‘انہوں نے بی جے پی کو للکارا کہ وہ جموں و کشمیر اور بھارت کو جوڑنے والی دفعہ 370 کو ہاتھ لگا کردیکھے۔’’ آپ ایسا ہماری لاشوں پر ہی کرسکتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس ریاست اور مرکز کے مابین تعلقات کو کمزور بنانے کی ہر کوشش ناکام بنائے گی۔
بانہال ۔قاضی گنڈ ریلوے ٹنل اور لائن کا وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ہاتھوں اور یوپی اے چیئرپرسن محترمہ سونیاگاندھی،گورنر این این ووہرا ، مرکزی وزیر ریلوے ملک ارجن کھرگے ، مرکزی وزیر ،صحت غلام نبی آزاد، کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمان ،سیف الدین سوز کی موجود گی میں افتتاح کے بعد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور بھارت کے درمیان تعلقات تب کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو اور ریاست جموں و کشمیر کے وزیر اعظم شیخ محمد عبداللہ نے دفعہ 370 کے توسط سے قائم کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی اور کانگریس ان رشتوں اور روابط کو مزید مستحکم بنانے کے لئے مشترکہ طور کام کریں گے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ریاست میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے مابین چند معاملات پر اختلافات ہوسکتے ہیں مگر دونوں پارٹیاں جموں و کشمیر اوربھارت کے تعلقات دفعہ 370 کے توسط سے مزید مستحکم بنانے اورریاست میں قوم پرست عناصر کی آبیاری کے لئے پُر عزم ہیں۔انہوں نے کہا کہ’’ ہم قوم پرستی کے استحکام کے لئے مل کر کام کریں گے۔‘‘ اور اس ضمن میں کسی بھی چیلنج کا مقابلہ مل کر کریں گے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا دفعہ 370نے جموں و کشمیر کے تعلقات بھارت کے ساتھ آئینی طور قائم کئے ہیں اورپیر پنچال کے پار جموں صوبے کے بانہال علاقے کو کشمیر صوبے کے قاضی گنڈ علاقے سے ملانے والی 11.9کلو میٹر طویل ٹنل نے ریاست کا ملک سے ارضی تعلق قائم کیا ہے۔اس ٹنل نے نہ صر ف علاقوں اور خطوں بلکہ دلوں کو بھی جوڑا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بانہال کو کشمیر سے ریلوے کے توسط سے جوڑنے سے سیاحت، صنعت و حرفت کیلئے نئے باب کھلنے کے علاوہ بانہا ل کے اس پار کے رہنے والوں لوگوں کی اقتصادی سرگرمیوں و روز گار کے مواقعے میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ٹنل اس علاقے کی کلہم ترقی کاسبب بنے گی۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے بچپن میں یہ سپنا بُنا تھا ۔
وزیر اعلیٰ نے وزیر اعظم ڈاکٹرمنمو ہن سنگھ اور محترمہ سونیا گاندھی کا ریلوے لائن کا افتتاح کرنے اور یہاں سے ریل کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کر نے پر اپنی ممنونیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پیر پنچال کے پار پہلی ریل میں وزیر اعظم ، یو پی اے، چیئر پرسن اور بانہا ل ہائیر سکینڈر ی سکول کے طلباء کے ساتھ سفر کو ایک تاریخی واقعہ قرار دیا۔