خبریں

دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی زندگی

دلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کی زندگی

اروند کیجریوال کی پیدائش 16 اگست 1968 کو ہر یانہ کے حصار میں گو بندرام کیجری وال اور گیتا دیوی کے یہاں ہوئی۔ آئی آئی ٹی کھڑگ پور سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد 1989 میں ٹاٹا اسٹیل سے کیریر کی شروعات کی لیکن یہ نوکری راس نہ آئی اور بہت جلد ہی 1992 میں ٹاٹا اسٹیل کو الوداع کہہ دیا۔ اس کے بعد کچھ دنوں کے لیے کولکتہ کے رام کرشنا آشرم اور نہرو یوا کیندر کا رخ کیا یہاں کچھ وقت گزارنے کے بعد انہوں نے انڈین سول سروسیز میں آنیکی ٹھانی اور 1995 میں سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد انڈین ریونیو سروسیز آئی آر ایس سے منسلک ہوگئے لیکن بہت جلد ہی یہاں بھی کوفت محسوس کرنے لگے اور ایک بار پھر ارادہ بدلا اوراعلی تعلیم کے حصول کے لیے سنہ 2000 میں دو سال کی بلا اجرت تعطیل لے کر اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھایا مطلوبہ تعلیم کی تکمیل کے بعد 2003 میں دوبارہ سروس سے وابستہ ہوگئے۔
ابھی تین برس ہی ہوئے تھے کہ انہوں نے جوائنٹ انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے پر پہنچ کر 2006 میں سروس کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ دیا۔ استعفے کے بعد انہیں کافی مشکلات پیش آئیں، ان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا، جو انہوں نے اپنے ایک دوست سے قرض لے کر ادا کیا۔ سروس کی ٹریننگ کے دوران ہی ازدواجی زندگی میں قدم رکھ دیااور ان اپنی ہی ہم سبق ساتھی مس سنیتا سے شادی ہو گئی، فیملی میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔
ہمیشہ عام آدمی کے حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کر نے والے کیجری وال نے ملک میں اطلاعات کا حق آر ٹی آئی قانون نافذ کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نومبر 2011 میں انا ہزارے کی تحریک سے وابستہ ہو کر لوک پال کا مسودہ تیار کرنے میں بھی ان کا اہم رول رہا ہے۔ لیکن لوک پال بل لانے کے تعلق سے مرکزی سرکارکے ڈھل مل رویے اور طفل تسلیوں سے تنگ آکر کیجری وال نے آخر کار سرگرم سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کر لیا، یہیں سے انا ہزارے اور کیجری وال کی راہیں جدا ہو گئیں لیکن منزل دونوں کی ایک ہی رہی بدعنوانی کو جڑ سے اکھا ڑ پھینکنا۔ فرق صرف یہ رہا کہ انا ہزارے کا خیال تھا کہ صرف عوامی تحریک ہی سرکار پر دباو بنانے کا واحد طریقہ ہے، لہٰذا ہمیں سیاست کی کالی کوٹھری میں نہیں داخل ہو نا چاہیے۔
جبکہ کیجری وال اب اپنے ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جب تک ہم قانون سازی کی طاقت حاصل نہیں کرتے ہمیں مطلوبہ تبدیلی ہر گز حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس اختلاف کے بعد کیجری وال نے انا تحریک سے نومبر 2012 میں الگ ہو کر عام آدمی پارٹی تشکیل دی، اس طرح دہلی میں 26 نومبر 2012 کوعام آدمی پارٹی کے قیام کا اعلان ہوا اور اپنے ساتھیوں منیش سسودیا، سنجے سنگھ، گوپال رائے کماروشواس، ایڈوکیٹ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے ساتھ مل کر تحریک کو نئی شکل دی۔
کیجری وال نے دہلی کو اپنی سیاسی تحریک کا مرکزاور محور بنایا اورپوری توانائی کے ساتھ میدان میں اتر گئے۔ عوام کے بنیادی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے کیجری وال نے سب سے پہلے بجلی کمپنیوں کی من مانی کے خلاف مورچہ کھولا، اس تحریک میں انہیں بڑے پیمانے پرعوامی حمایت حاصل ہوئی اور ان کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ پھر یکے بعد دیگرے عوامی مسائل کی طویل فہرست تیار کر کے برسراقتدار کانگریس کے لیے مشکلات پیدا کردیں۔
زندگی کے سفر میں چیلنجوں کو دعوت دینا ان کی کا میابی کا زینہ رہا ہے اس لیے اس سیاسی کیریر میں بھی چیلنجوں کو قبول کیا۔ ان کے ایک دلچسپ مگر انتہائی حیران کن فیصلے نے ہر خاص و عام کو اس وقت حیرت میں ڈال دیا جب دہلی اسمبلی انتخابات قریب آتے ہی کیجری وال نے دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کیا، بعض سیاسی مبصرین نے اسے کیجری وال کی سیاسی خود کشی والا فیصلہ قرار دیا تو بعض نے اروند کو انتہائی مغرورشخص تک کہہ دیا۔ لیکن 8 دسمبر کو رائے شماری کے نتا ئج دیکھ کر سبھی ششدررہ گئے جب، انہوں نے پندرہ برس تک دہلی کی وزیر اعلی رہنے والی سینئر لیڈرشیلا د یکشت کو 25 ہزار سے بھی زائدووٹوں سے شکست دے دی۔ ان کی پارٹی کو 70 میں سے 28 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ اور 22 سیٹوں پر ان کے امیدوار دوسری پو زیشن پر رہے۔
انہیں سال 2006 میں ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں ریمن میگسیس ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے، انہوں نے ‘سوراج کے نام سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 2012 میں شائع ہو ئی تھی۔ اب وزیر اعلیٰ بن کر دہلی کی نئی سیاسی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ ان کی آمد نے دہلی میں جہاں ایک طرف کانگریس کی سیاسی زمین پر جھاڑو پھیرنے کا کام کیا وہیں دوسری جانب بی جے پی کے لئے بھی اقتدار تک پہنچنے میں بڑی رکاوٹ پیدا کر دی۔ چنانچہ  کانگریس  کا مکمل صفایا کیا گیا اور بی جے پی کو  کو شکست دے کر تین سیٹیں  ہی حاصل ہوئیں۔ کیجری وال کا یہ سیاسی سفرکتنا کامیاب ہوگا، ان کامکمل سوراج کا خواب کس طرح شرمندہ تعبیر ہوگا۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، اس سے قطع نظر کیجری وال کی زندگی کے سفر نامے کا اگر تجزیہ کریں تو ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ کیجری وال کے لیے اپنی منزل تک پہنچنا ہمیشہ مشن رہا، وہ ہمیشہ اسی جذبے سے کام کرتے ہیں۔ انہیں اس کی بھی پروا نہیں کہ آج وہ جو کچھ ہیں اگر کل نہیں رہے تو کیا ہو گا، اپنی زندگی میں ایسے کئی بڑے عہدوں کو چھوڑنے کا وہ کامیاب تجربہ رکھتے ہیں۔ الغرض یہ کہ ان کے پاس پانے کے لیے تو بہت کچھ ہے لیکن انہیں فی الحال کھونے کا کوئی غم نہیں ستا رہا ہے۔ یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔ کیوں کہ اب تک انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
اشرف علی بستوی